سورہ النباء

قرآن مجید کی 78 ویں سورت
(النبا سے رجوع مکرر)

قرآن مجید کی 78 ویں سورت جس کے ساتھ ہی 30 ویں یعنی آخری پارے کا آغاز ہو جاتا ہے۔ اس میں کل 40 آیات ہیں۔

النباء
النباء
دور نزولمکی
اعداد و شمار
عددِ سورت78
عددِ پارہ30
تعداد آیات40
الفاظ174
حروف766
گذشتہالمرسلات
آئندہالنازعات

نام

دوسری آیت کے فقرے عن النبا العظیم کے لفظ النبا کو اس کا نام قرار دیا گیا ہے اور یہ صرف نام ہی نہیں ہے بلکہ اس سورت کے مضامین کا عنوان بھی ہے، کیونکہ نبا سے مراد قیامت اور آخرت کی خبر ہے اور سورت میں ساری بحث اسی پر کی گئی ہے۔

زمانۂ نزول

سورۂ قیامہ سے سورۂ نازعات تک سب سورتوں کا مضمون ایک دوسرے سے مشابہ ہے اور یہ سب مکۂ معظمہ کے ابتدائی دور کی نازل شدہ معلوم ہوتی ہیں۔

موضوع اور مضمون

اس کا مضمون بھی وہی ہے جو سورۂ مرسلات کا ہے، یعنی قیامت اور آخرت کا اثبات اور اس کو ماننے یا نہ ماننے کے نتائج سے لوگوں کو خبردار کرنا۔

مکۂ معظمہ میں جب اول اول رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسلام کی تبلیغ کا آغاز کیا تو اس کی بنیاد تین چیزیں تھیں۔ ایک یہ بات کہ اللہ کے ساتھ کسی کی خدائی میں شریک نہ مانا جائے۔ دوسری یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ نے اپنا رسول مقرر کیا ہے۔ تیسری یہ کہ اس دنیا کا ایک روز خاتمہ ہو جآئے گا اور اس کے بعد ایک دوسرا عالم برپا ہوگا جس میں تمام اولین و آخرین دوبارہ زندہ کر کے اسی جسم کے ساتھ اٹھائے جائیں گے اور اس محاسبہ میں جو لوگ مومن و صالح ثابت ہوں گے وہ ہمیشہ کے لیے جنت میں جائیں گے اور جو کافر و فاسق ہوں گے وہ ہمیشہ کے لیے دوزخ میں رہیں گے۔

ان تینوں باتوں میں سے پہلی بات اگرچہ اہل مکہ کو سخت ناگوار تھی، لیکن بہرحال وہ اللہ تعالٰی کی ہستی کے منکر نہ تھے، اس کے رب اعلٰی اور خالق و رازق ہونے کو بھی مانتے تھے اور یہ بھی تسلیم کرتے تھے کہ دوسری جن جن ہستیوں کو وہ معبود قرار دیتے ہیں وہ اللہ ہی کی مخلوق ہیں، اس لیے جھگڑا صرف اس امر میں تھا کہ دائی کی صفات و اختیارات میں اور الوہیت کی ذات میں ان کی کوئی شرکت ہے یا نہیں۔

دوسری بات کو مکے کے لوگ ماننے کو تیار نہ تھے، مگر اس امر سے انکار کرنا ان کے لیے ممکن نہ تھا کہ چالیس سال تک جو زندگی حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دعوائے رسالت سے پہلے انہی کے درمیان گزاری تھی، اس میں انھوں نے کبھی آپ کو جھوٹا یا فریب کار یا نفسانی اغراض کے لیے ناجائز طریقے اختیار کرنے والا نہ پایا تھا۔ وہ خود آپ کی دانائی و فرزانگی، سلامت روی اور اخلاق کی بلندی کے قائل و معترف تھے۔ اس لیے ہزار بہانے اور الزامات تراشنے کے باوجود انھیں دوسروں کو باور کرانا تو درکنار، اپنی جگہ خود بھی یہ باور کرنے میں سخت مشکل پیش آ رہی تھی کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سارے معاملات میں تو راست باز ہیں مگر صرف رسالت کے دعوے میں معاذ اللہ جھوٹے ہیں۔

اس طرح پہلی دو باتیں اہل مکہ کے لیے دراصل اتنی زیادہ الجھن کی موجب نہ تھیں جتنی تیسری بات تھی۔ اس کو جب ان کے سامنے پیش کیا گیا تو انھوں سب سے زیادہ اسی کا مذاق اڑایا، اسی پر سب سے بڑھ کر حیرانی اور تعجب کا اظہار کیا اور اسے بالکل بعید از عقل و امکان سمجھ کر جگہ جگہ اس کے ناقابل یقین بلکہ ناقابل تصور ہونے کے چرچے کرنے شروع کر دیے۔ مگر اسلام کی راہ پر ان کو لانے کے لیے یہ قطعی ناگزیر تھا کہ آخرت کا عقیدہ ان کے ذہن میں اتارا جائے، کیونکہ اس عقیدے کو مانے بغیر یہ ممکن ہی نہ تھا کہ حق اور باطل کے معاملے میں ان کا طرز فکر سنجیدہ ہو سکتا، خیر و شر کے معاملہ میں ان کا معیارِ اقدار بدل سکتا اور دنیا پرستی کی راہ چھوڑ کر اس راہ پر ایک قدم بھی چل سکتے جس پر اسلام ان کو چلانا چاہتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ مکۂ معظمہ کے ابتدائی دور کی سورتوں میں زیادہ تر زور آخرت کا عقیدہ دلوں میں بٹھانے پر صرف کیا گیا ہے، البتہ اس کے لیے دلائل ایسے انداز سے دیے گئے ہیں جن سے توحید کا تصور بھی خود بخود ذہن نشین ہوتا چلا جاتا ہے اور بیچ بیچ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور قرآن کے برحق ہونے کے دلائل بھی مختصراً دیے گئے ہیں۔

اس دور کی سورتوں میں آخرت کے مضمون کی اس تکرار کا سبب اچھی طرح سمجھ لینے کے بعد اب اس سورت کے مضامین پر ایک نگاہ ڈال لیجیے۔ اس میں سب سے پہلے ان چرچوں اور چہ میگوئیوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو قیامت کی خبر سن کر مکہ کے ہر کوچہ و بازار اور اہل مکہ کی ہر محفل میں ہو رہی تھیں۔ اس کے بعد انکار کرنے والوں سے پوچھا گیا ہے کہ کیا تمھیں یہ زمین نظر نہیں آتی جسے ہم نے تمھارے لیے فرش بنا رکھا ہے؟ کیا یہ بلند و بالا پہاڑ تمھیں نظر نہیں آتے جنہیں ہم نے زمین میں گاڑ رکھا ہے؟ کیا تم اپنے آپ کو نہیں دیکھتے کہ کس طرح ہم نے تمھیں مردوں اور عورتوں کے جوڑوں کی شکل میں پیدا کیا ہے؟ کیا تم اپنی نیند کو نہیں دیکھتے جس کے ذریعے ہم نے تم کو دنیا میں کام کرنے کے قابل بنائے رکھنے کے لیے ہر چند گھنٹوں کی محنت کے بعد ہر چند گھنٹے آرام لینے پر مجبور کر رکھا ہے؟ کیا تم رات اور دن کی آمدورفت کو نہیں دیکھتے جسے ٹھیک تمھاری ضرورت کے مطابق ہم باقاعدگی کے ساتھ مسلسل جاری رکھے ہوئے ہیں؟ کیا تم اپنے اوپر آسمانوں کے مضبوط بندھے ہوئے نظام کو نہیں دیکھتے؟ کیا یہ سورج تمھیں نظر نہیں آتا جس کی بدولت ہمیں روشنی اور حرارت میسر آ رہی ہے؟ کیا تم ان بارشوں کو نہیں دیکھتے جو بادلوں سے برس رہی ہیں اور ان کے ذریعے سے غلے اور سبزیاں اور گھنے باغ اگ رہے ہیں؟ یہ ساری چیزیں کیا تمھیں یہی بتا رہی ہیں جس قادر مطلق نے ان کو پیدا کیا ہے اس کی قدرت قیامت لانے اور آخرت برپا کرنے سے عاجز ہے؟ اور اس پورے کارخانے میں جو کمال درجے کی حکمت و دانائی صریحاً کارفرما ہے کیا اس کو دیکھتے ہوئے تمھاری سمجھ میں یہی آتا ہے کہ اس کارخانے کا ایک ایک جز اور ایک ایک فعل تو بامقصد ہے مگر بجائے خود پورا کارخانہ بے مقصد ہے؟ آخر اس سے زیادہ لغو اور بے معنی بات کیا ہو سکتی ہے کہ اس کارخانے میں انسان کو پیش دست (Foreman) کے منصب پر مامور کر کے اسے یہاں بڑے وسیع اختیارات تو دے دیے جائیں مگر جب وہ اپنا کام پورا کر کے یہاں سے رخصت ہو تو اسے یونہی چھوڑ دیا جائے؟ نہ کام بنانے پر پنشن اور انعام، نہ کام بگاڑنے پر بازپرس اور سزا؟

یہ دلائل دینے کے بعد پورے زور کے ساتھ فرمایا گیا ہے کہ فیصلے کا دن یقیناً اپنے مقرر وقت پر آ کر رہے گا۔ صور میں بس ایک پھونک مارنے کی دیر ہے، وہ سب کچھ جس کی تمھیں خبر دی جا رہی ہے سامنے آ جائے گا اور تم آج چاہے مانو یا نہ مانو، اس وقت جہاں جہاں بھی تم مرے پڑے ہوگے وہاں سے فوج در فوج اپنا حساب دینے کے لیے نکل آؤ گے۔ تمھارا انکار اس واقعہ کو پیش آنے سے نہیں روک سکتا۔

اس کے بعد آیت 21 سے 30 تک بتایا گیا ہے کہ جو لوگ حساب کتاب کی توقع نہیں رکھتے اور جنھوں نے ہماری آیات کو جھٹلا دیا ہے، ان کا ایک ایک کرتوت گن گن کر ہمارے ہاں لکھا ہوا ہے اور ان کی خبر لینے کے لیے جہنم گھات لگائے ہوئے تیار ہے جہاں ان کے اعمال کا بھرپور بدلہ انھیں دیا جائے گا۔ پھر آیت 31 سے 36 تک ان لوگوں کی بہترین جزا بتائی گئی ہے جنھوں نے اپنے آپ کو ذمہ دار و جواب دہ سمجھ کر دنیا میں اپنی آخرت درست کرنے کی پہلے ہی فکر کر لی ہے اور انھیں اطمینان دلایا گیا ہے کہ انھیں ان کی خدمات ک صرف اجر ہی نہیں دیا جائے گا بلکہ اس سے زائد کافی انعام بھی دیا جائے گا۔

آخر میں خدا کی عدالت کا نقشہ کھینچا گیا ہے کہ وہاں کسی کے اَڑ کر بیٹھ جانے اور اپنے متوسلین کو بخشوا کر چھوڑنے کا کیا سوال، کوئی بلا اجازت زبان تک نہ کھول سکے گا اور اجازت بھی اس شرط کے ساتھ ملے گی جس کے حق میں سفارش کا اذن ہو صرف اسی کے لیے سفارش کرے اور سفارش میں کوئی بے جا بات نہ کہے۔ نیز سفارش کی اجازت صرف ان لوگوں کے حق میں دی جائے گی جو دنیا میں کلمۂ حق کے قائل رہے ہیں اور محض گناہ گار ہیں۔ خدا کے باغی اور حق کے منکر کسی سفارش کے مستحق نہ ہوں گے۔ پھر کلام کو اس تنبیہ پر ختم کیا گیا ہے جس دن کے آنے کی خبر دی جا رہی ہے اس کا آنا برحق ہے، اسے دور نہ سمجھو، وہ قریب ہی آ لگا ہے، اب جس کا جی چاہے اسے مان کر اپنے رب کا راستہ اختیار کر لے لیکن اس تنبیہ کے باوجود جو اس سے انکار کرے گا اس کا سارا کیا دھرا اس کے سامنے آ جائے گا اور پھر وہ پچھتا پچھتا کر کہے گا کہ کاش میں دنیا میں پیدا ہی نہ ہوتا۔ اس وقت اس کا یہ احساس اسی دنیا کے بارے میں ہوگا جس پر وہ آج لٹو ہو رہا ہے۔