دو ہزار چار میں ایرانی صوبے سیستان و بلوچستان میں مسلح تنازع شروع ہوا جو اب بھی جاری رہا ہے۔ اس تنازعے میں ایرانی حکومت بلوچ علیحدگی پسندوں اور سنی جہادیوں کے خلاف لڑتی ہے۔ ایران ان تنظیموں کو دہشت گردی تنظیمیں سمجھتا ہے۔

Sistan and Baluchestan insurgency
سلسلہ the بلوچستان تنازع, the Iran–Saudi Arabia proxy conflict, and the Iran–Israel proxy conflict
تاریخت 2004 - Present
مقامصوبہ سیستان و بلوچستان, ایران
حیثیت جاری تنازعات کی فہرست
مُحارِب
 ایران
کمان دار اور رہنما
شریک دستے
Border Guard
ايرانی فوج
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی
Ministry of Intelligence
Unknown

کہا جاتا ہے کہ اس تنازع میں اجنبی ملوث ہے۔ مثال کے طور پر، علیحدگی پسندوں کے خلاف جنگ میں پاکستان ایران کی حمایت کرتا ہے۔ سوویت اتحاد کے خلاف تعاون کی وجہ سے پاکستان اور ایران نے ایک دوسرے کے ساتھ اتحاد کیا۔ مزید براں، پاکستانی بلوچ علیحدگی پسند اور ایرانی بلوچ علیحدگی پسندوں کے درمیان اتحاد ہے۔ دو ہزار چودہ فروری میں پاکستان اور ایران نے علیحدگی پسندوں کے خلاف کرنے کے لیے ایک تعاون معاہدے پر دستخط کیا۔ امریکی انٹلی جنس سے ایک افسر کے مطابق پاکستانی حکام نے بلوچ علیحدگی پسندوں کے رہنما عبد الملک ریگی کو گرفتار کیے اور اس کے بعد اسے ایران بھیجا گیا تھا جہاں اسے پھانسی دی گئی تھی۔

مزید براں، دوسرے رپورٹس کہتی ہیں کہ ایران کے دشمن (ریاست ہائے متحدہ، اسرائیل، سعودی عرب، مملکت متحدہ، سویڈان اور دوسرے ممالک) بلوچ علیحدگی پسندوں کی حمایت کرتے ہیں، لیکن ایک تحقیقات نے ان الزامات کو غلط ثابت کیا۔ مثال کے طور پر، ایرانی شہریوں کے خلاف دہشت گردی حملوں کے سلسلے کے بعد امریکی انٹلی جنس نے تنظیم جنداللہ کے ساتھ رابطے پر پابندیاں عائد کیں۔ جورج بوش ایسی تنظیم کے ساتھ اتحاد نہیں چاہتا تھا کیونکہ یہ تنظیم القاعدہ کے ساتھ رابطے میں تھی اور بوش ناراض ہوا جب اس نے جنداللہ کی اسرائیلی حمایت کے بارے میں سنا لیکن اوباما دور تک یہ مسئلوں کو حل نہیں کیا گیا تھا۔ دو ہزار سات میں ایرانی شہر زاہدان میں حملے کے بعد امریکا نے جنداللہ کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا, اور اس لیے ایف بی آئی نے امریکا میں جنداللہ کے اعمال میں تحقیقات شروع کر دی لیکن نیو یورک ٹائیمز کے مطابق کچھ حالتوں میں امریکا نے ایران کے خلاف دہشت گردی حملوں کے منصوبوں پر توجہ نہیں دی۔ دو ہزار دس میں ایرانی اخبار مشرق نے قطر اور سعودی عرب پر جنداللہ اور حرکہ انصار ایران کی حمایت کرنے کا الزام لگایا۔ ماضی میں حرکہ انصار ایران نے سعودی عرب سے حمایت کی درخواست کی۔

روسی اخبار "نیو ایسٹرن اوٹلوک" کے مطابق یہ تنازع اسرائیلی ایرانی تنازعے کا حصہ ہے۔