سردار فتح محمد بزدار نامزد وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے والد تھے۔ انھوں نے اپنی ابتدائی تعلیم بارتھی سے حاصل کی۔ فتح محمد نے کراچی یونیورسٹی سے ایم اے انگلش کیا۔ انھوں نے اپنی بلوچ ایجوکیشنل اسٹوڈنٹس سے کی جو بعد ازاں بی ایس او بن گئی، اس کے 1963ء کو صدر بنے۔ وہ 1985ء کو جنرل ضیاء الحق کی مجلس شوری کے رکن منتخب ہوئے اور ضیاء الحق کے قریبی ساتھی ٹھہرے[2] بعد ازاں وہ 2002ء اور 2007ء کو پی پی 241 سے دو مرتبہ ق لیگ کے ٹکٹ پر ایم پی اے منتخب ہوئے۔ ان کی وفات 2019ء میں ہوئی۔

سردار فتح محمد بزدار
رکن پنجاب صوبائی اسمبلی
مدت منصب
2008 – 2013
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1939ء   ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ضلع ڈیرہ غازی خان   ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 1 اپریل 2019ء (79–80 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تونسہ   ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جماعت پاکستان مسلم لیگ ق   ویکی ڈیٹا پر (P102) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اولاد 10 بشمول سردار عثمان بزدار[1]
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ کراچی   ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ سیاست دان   ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں



سردار فتح محمد خان بزدار 1982ء میں اپنے والد گرامی سردار عطاء محمد خان بزدار کی وفات کے بعد بزدار قبیلہ کے چیف منتخب ہوئے اور اسی سال ہی اس وقت کے صدر جنرل ضیاء الحق نے وفاقی مجلس شوری بنائی اور سردار فتح محمد خان بزدارشوری کے رکن بنائے گئے سیاست میں ان کا یہ پہلا قدم تھا اس کے بعد1985میں ملک میں غیر جماعتی بنیادوں پر انتخابات منعقد ہوئے اور سردار فتح محمد خان بزدار صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے انہوںنے1993/ء1990/ء1988اور1997کے عام انتخابات میں حصہ لیا لیکن انھیں بوجوہ کامیابی نہ مل سکی تاہم 2002اور2008کے انتخابات میں مسلم لیگ ق کے ٹکٹ پر رکن پنجاب اسمبلی منتخب ہوئے جبکہ 2002ء سے2008ء تک پنجاب اسمبلی سٹینڈنگ کمیٹی برائے مذہبی امور و اوقاف کے کنوئنر بھی رہے، 2013ء میں انھوں نے سیاست کو خیر باد کہہ دیا اور جنرل الیکشن میں اپنے کرائون پرنس (ولی عہد)سردار عثمان احمد خان بزدارکو بطور امیدوار نامزد کیا لیکن انھیں کامیابی نہ مل سکی تاہم 2018ء کے عام انتخابات میں سردار عثمان خان بزدار نے نہ صرف صوبائی نسشت پر کامیابی حاصل کی بلکہ ملک کے سب سے بڑے صوبے کے وزیر اعلی بھی منتخب ہو گئے اپنے بیٹے کی کامیابی اور اس کے بعد وزیر اعلی منتخب ہونے پر سردار فتح محمد خان بزداربے حد مسرور و شاداں نظر آتے تھے سردار فتح محمد خان بزدار 1939ء میں آبائی علاقہ بارتھی میں پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم اپنے آبائی علاقہ سے حاصل کی جبکہ کراچی یونیورسٹی سے پولٹیکل سائنس میں ایم اے کیااور کچھ عرصہ تک سرکاری ملازمت اختیار کی۔ سردار فتح محمد خان بزداراپنے لوگوں اور اپنے علاقہ سے جڑے رہے اور مسائل حل کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ دھیمے مزاج کے سردار فتح محمد خان بزدار کا احترام سیاسی مخالفین بھی کرتے تھے اور یکم اپریل 2019ء کو حرکت قلب بند ہونے سے اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ وزیر اعلیٰٰ پنجاب کے والد علاج کے لیے دو روز قبل لاہور بھی آئے لیکن اسی روز چیک اپ کے بعد واپس تونسہ شریف روانہ ہو گئے تھے، سردار فتح محمد بزدار کی نماز جنازہ شام 4 بجے تونسہ شریف اور 7 بجے آبائی علاقے بارتھی میں ادا کی گئی،تدفین آبائی علاقہ بارتھییں کی گئی، ڈیرہ غازی خان میں سردار فتح محمد بزدار انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا ہے، جو ان کے نام سے منسوب ہے،

حوالہ جات

  1. "Usman Buzdar emerges as strong PTI candidate for Punjab CM slot"۔ دنیا نیوز۔ 17 اگست 2018۔ 06 جنوری 2019 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 18 اگست 2018 
  2. نامزد وزیر اعلیٰٰ پنجاب سردار عثمان بزدار دراصل کون ہیں؟