سلیم شہزاد (سیاست دان)

پاکستانی سیاست دان

سلیم شہزاد (1956 – 8 جولائی 2018ء) ایک پاکستانی سیاست دان تھے۔ سلیم شہزاد ایم کیو ایم کے بانی رہنماؤں میں سے تھے، تاہم وہ 2018ہ میں اپنی وفات سے قبل کئی سالوں سے سیاسی منظر نامے سے غائب رہے اور جنوری 2018ء میں ایم کیو ایم چھوڑ کر پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔۔[2][3][3][4]

سلیم شہزاد (سیاست دان)
معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش سنہ 1956ء   ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 8 جولا‎ئی 2018ء (61–62 سال)[1]  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
لندن [1]  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجہ وفات پھیپھڑوں کا سرطان   ویکی ڈیٹا پر (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
طرز وفات طبعی موت   ویکی ڈیٹا پر (P1196) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت پاکستان [1]  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جماعت متحدہ قومی موومنٹ (1984–8 جنوری 2018)[1]
پاکستان تحریک انصاف (9 جنوری 2018–8 جولا‎ئی 2018)  ویکی ڈیٹا پر (P102) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عارضہ پھیپھڑوں کا سرطان   ویکی ڈیٹا پر (P1050) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مناصب
رکن قومی اسمبلی [1]   ویکی ڈیٹا پر (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
برسر عہدہ
1988  – 1990 
رکن قومی اسمبلی   ویکی ڈیٹا پر (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
برسر عہدہ
1990  – 1993 
عملی زندگی
پیشہ سیاست دان [1]  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مادری زبان اردو   ویکی ڈیٹا پر (P103) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان اردو   ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

سلیم شہزاد نے 1992ء میں ایم کیو ایم کے خلاف کیے جانے والے آپریشن کے بعد خود ساختہ جلاوطنی اختیار کرلی تھی اور 25 برس تک برطانیہ کے شہر لندن میں مقیم رہے۔ مارچ 2014ء میں ایم کیو ایم میں ایسے عناصر کی موجودگی کا بیان دیا جو کراچی میں بھتہ خوری، قتلِ عام اور اسمگلنگ جیسے واقعات میں ملوث ہیں۔ بیان جاری کرنے کے بعد اسی روز جماعت نے ان کی رکنیت معطل کر دی، جس کے بعد کبھی بحال نہ کی۔

25 سال کی خود ساختہ جلاوطنی کے بعد 6 فروری 2017ء کو پاکستان واپس پہنچے جہاں ان کو گرفتار کر لیا گیا۔ سلیم شہزاد پر مہاجر قومی موومنٹ (حقیقی) کے 2 کارکنوں کو اغوا کے بعد قتل کرنے اور ہنگامہ آرائی کے مقدمات درج تھے، جو لانڈھی پولیس اسٹیشن میں جولائی 1992 میں درج ہوئے تھے۔ بعد ازاں کراچی کی مقامی عدالت نے پی ٹی آئی کے سلیم شہزاد کو جلاؤ گھیراؤ اور ہنگامہ آرائی کے مقدمات میں بری کر دیا تھا۔[5]

1988 میں اورنگی ٹاؤن (کراچی) کی نمائندگی کرتے ہوئے پاکستان کی قومی اسمبلی میں بٹھایا گیا ۔ ان کے مدمقابل آفاق خان شاہد نے تقریباً 18,000 ووٹ حاصل کیے جبکہ شہزاد نے 82,000 سے زائد ووٹ حاصل کیے۔ انھوں نے 1990ء میں 93,000 سے زیادہ ووٹ لے کر دوبارہ انتخاب جیتا تھا۔ آپریشن کلین اپ کے دوران ایم کیو ایم کے کئی ارکان کو نشانہ بنایا گیا۔اور اس کے نتیجے میں شہزاد برطانیہ چلا گیا۔

دسمبر 2018ء میں انھوں نے اپنی نئی سیاسی جماعت بنانے کا اعلان کیا، لیکن جنوری میں عمران خان سے بنی گالہ میں ملاقات کے بعد وہ پی ٹی ائی میں شامل ہو گئے۔[6]

سلیم شہزاد کو پھپھڑوں کا سرطان تھا جس کے سبب وہ 8 جولائی 2018ء کو لندن کے ایک ہسپتال میں 62 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔[4][5]

حوالہ جات

  1. ^ ا ب پ ت ٹ ث https://www.dawn.com/news/1418757/mqm-founding-member-saleem-shahzad-passes-away-in-london
  2. "MQM founding member Saleem Shahzad passes away in London"۔ Dawn۔ 8 جولائی 2018۔ 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 9 جولائی 2018 
  3. ^ ا ب Zia Ur Rehman (9 جولائی 2018)۔ "Saleem Shahzad, a dreaded name in Karachi's politics"۔ The News۔ 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 9 جولائی 2018 
  4. ^ ا ب "Founding leader of Pakistan's MQM passes away in UK"۔ The Hindu۔ 8 جولائی 2018۔ اخذ شدہ بتاریخ 9 جولائی 2018 
  5. ^ ا ب "MQM founding member Saleem Shehzad passes away in London"۔ The Express Tribune۔ 8 جولائی 2018۔ 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 9 جولائی 2018 
  6. https://www.dawnnews.tv/news/1081932