معوذتین

قرآن مجید کی 114 ویں سورت
(سورہ الناس سے رجوع مکرر)

قرآن مجید کی آخری دو سورتوں سورۃ الناس اور سورۃ الفلق کو مشترکہ طور پر مُعَوِّذَتَیُن کہا جاتا ہے۔

الفلق
الفلق
دور نزولمکی
اعداد و شمار
عددِ سورت113
عددِ پارہ30
تعداد آیات5
گذشتہالاخلاص
آئندہالناس
الناس
الناس
دور نزولمکی
اعداد و شمار
عددِ سورت114
عددِ پارہ30
تعداد آیات6
الفاظ20
حروف80
گذشتہالفلق
آئندہ-

نام

اگرچہ قرآن مجید کی یہ آخری دوسورتیں بجائے خود الگ الگ ہیں اور مصحف میں الگ ناموں ہی سے لکھی ہوئی ہیں، لیکن ان کے درمیان باہم اتنا گہرا تعلق ہے اور ان کے مضامین ایک دوسرے سے اتنی قریبی مناسبت رکھتے ہیں کہ ان کا ایک مشترک نام "مُعَوِّذَتَیُن" (پناہ مانگنے والی دو سورتیں) رکھا گیا ہے۔ امام بیہقی نے دلائل نبوت میں لکھا ہے کہ یہ نازل بھی ایک ساتھ ہی ہوئی ہیں، اسی وجہ سے دونوں کا مجموعی نام معوذتین ہے۔ ہم یہاں دونوں پر ایک ہی مضمون لکھ رہے ہیں کیونکہ ان سے متعلقہ مسائل و مباحث بالکل یکساں ہیں۔

شماریات معوذتین

* سورہ الفلق میں 5 آیات، 23 کلمات اور 74 حروف موجود ہیں۔[1]

  • سورہ الناس میں 6 آیات،  20 کلمات اور 79 حروف موجود ہیں۔[2]

معوذتین میں مجموعی طور پر 11 آیات، 43 کلمات اور 153 حروف موجود ہیں۔

زمانۂ نزول

حضرتحسن بصری، عکرمہ، عطاء اور جابر بن زید کہتے ہیں کہ یہ سورتیں مکی ہیں۔ حضرت عبد اللہ بن عباس سے بھی ایک روایت یہی ہے۔ مگر ان سے دوسری روایت یہ ہے کہ یہ مدنی ہیں اور یہی قول حضرت عبد اللہ بن زبیر ما اور قتادہ کا بھی ہے۔ اس دوسرے قول کو جو روایات تقویت پہنچاتی ہیں ان میں سے ایک مسلم، ترمذی، نسائی اور مسند امام احمد بن حنبل میں حضرت عقبہ بن عامر کی یہ حدیث ہے کہ رسول اللہﷺ نے ایک روز مجھ سے فرمایا: {{اقتباس حدیث | تمھیں کچھ پتہ ہے کہ آج رات مجھ پر کیسی آیات نازل ہوئی ہیں؟ یہ بے مثل آیات ہیں۔ اعوذ بربّ الفلق اور اعوذ بربّ الناس }} یہ حدیث اس بنا پر ان سورتوں کے مدنی ہونے کی دلیل ہے کہ حضرت عقبہ بن عامر ہجرت کے بعد مدینہ طیبہ میں ایمان لائے تھے، جیسا کہ ابو داؤد اور نسائی نے خود ان کے اپنے بیان سے نقل کیا ہے۔ دوسری روایات جو اس قول کی تقویت کی موجب بنی ہیں وہ ابن سعد، مُحیّ السُّنّہ بَغَوِی، امام نَسَفِی، امام بَہَیقَی، حافظ ابن حَجَر، حافظ بدر الدین عَینی، عَبُدبن حُمیّد وغیر ہم کی نقل کردہ یہ روایات ہیں کہ جب مدینے میں یہود نے رسول اللہ ﷺ پر جادو کیا تھا اور اس کے اثر سے حضور ﷺ بیمار ہو گئے تھے اس وقت یہ سورتیں نازل ہوئی تھیں۔ ابن سعد نے واقدی کے حوالہ سے بیان کیا ہے کہ یہ سنہ 7 ھ کا واقعہ ہے۔ اسی بنا پر سفیان بن عُیَینَہ نے بھی ان سورتوں کو مدنی کہا ہے۔

لیکن جیسا کہ سورۃ الاخلاص کے مضمون میں بیان ہو چکا ہے کہ کسی سورۃ یا آیت کے متعلق جب یہ کہا جاتا ہے کہ وہ فلاں موقع پر نازل ہوئی تھی تو اس کا مطلب لازما یہی نہیں ہوتا کہ وہ پہلی مرتبہ اسی موقع پر نازل ہوئی تھی، بلکہ بعض اوقات ایسا ہوا ہے کہ ایک سورت یا آیت پہلے نازل ہو چکی تھی اور پھر کوئی خاص واقعہ یا صورت حال پیش آنے پر اللہ تعالٰی کی طرف سے اسی کی طرف دوبارہ بلکہ کبھی کبھی بار بار حضور ﷺ کو توجہ دلائی جاتی تھی۔ ہمارے نزدیک ایسا ہی معاملہ معوذتین کا بھی ہے۔ ان کا مضمون صاف بتا رہا ہے کہ یہ ابتداً مکہ میں اس وقت نازل ہوئی ہوں گی جب وہاں حضور ﷺ کی مخالفت خوب زور پکڑ چکی تھی۔ بعد میں جب مدینہ طیبہ میں منافقین، یہود اور مشرکین کی مخالفت کے طوفان اٹھے تو حضور ﷺ کو پھر انہی دونوں سورتوں کے پڑھنے کی تلقین کی گئی جیسا کہ حضرت عقبہ بن عامر کی مندرجہ بالا روایت میں ذکر آیا ہے۔ اس کے بعد جب آپ ﷺ پر جادو کیا گیا اور آپ ﷺ کی علالت مزاج نے شدت اختیار کی تو اللہ کے حکم سے جبریل علیہ السلام نے آکر پھر یہی سورتیں پڑھنے کی آپ کو ہدایت کی۔ اس لیے ہمارے نزدیک ان مفسرین کا بیان ہی زیادہ معتبر ہے جو ان دونوں سورتوں کو مکی قرار دیتے ہیں۔ جادو کے معاملہ کے ساتھ ان کو مخصوص سمجھے میں تو یہ امر بھی مانع ہے کہ اس کے ساتھ صرف سورۂ فلق کی صرف ایک آیت وَمِنُ شَرِّ النّفّٰثٰتِ فِی العُقَدِ ہی تعلق رکھتی ہے، سورۂ فلق کی باقی آیات اور پوری سورۂ الناس کا اس معاملہ سے براہ راست کوئی تعلق نہیں ہے۔

موضوع اور مضمون

مکۂ معظمہ میں یہ دونوں سورتیں جن حالات میں نازل ہوئی تھیں وہ یہ تھے کہ اسلام کی دعوت شروع ہوتے ہی ایسا محسوس ہونے لگا تھا کہ رسول اللہ ﷺ نے گویا بِھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈال دیا ہے۔ جوں جوں آپ کی دعوت پھیلتی گئی، کفارِ قریش کی مخالفت بھی شدید ہوتی چلی گئی۔ جب تک انھیں یہ امیدرہی کہ شاید وہ کسی طرح کی سودے بازی کر کے یا بہلا پُھسلا کر آپ ﷺ کو اس کام سے باز رکھ سکیں گے، اُس وقت تک تو پھر بھی عَناد کی شدت میں کچھ کمی رہی۔ لیکن جب حضور ﷺ نے ان کو اس طرف سے بالکل مایوس کر دیا کہ آپﷺ ان کے ساتھ دین کے معاملہ میں کوئی مصالحت کرنے پر آمادہ ہوسکیں گے اور سورۂ کافرون میں صاف صاف ان سے کہہ دیا گیا کہ جن کی بندگی تم کرتے ہو ان کی بندگی کرنے والا میں نہیں ہوں اور جس کی بندگی میں کرتا ہوں اس کی بندگی کرنے والے تم نہیں ہو، اس لیے میر راستہ الگ ہے اور تمھارا راستہ الگ، تو کفار کی دشمنی اپنے عروج پر پہنچ گئی۔ خصوصیت کے ساتھ جن خاندانوں کے افراد (مردوں یا عورتوں، لڑکوں یا لڑکیوں) نے اسلام قبول کر لیا تھا ان کے دلوں میں تو حضور ﷺ کے خلاف ہر وقت بھٹیاں سلگتی رہتی تھیں۔ گھر گھر آپ ﷺ کو کوسا جارہا تھا۔ خفیہ مشورے کیے جا رہے تھے کہ کسی وقت رات کو چھپ کر آپﷺ کو قتل کر دیا جائے تاکہ بنی ہاشم کو قاتل کا پتہ نہ چل سکے اور بدلہ نہ لے سکیں۔ آپ ﷺ کے خلاف جادو ٹونے کیے جا رہے تھے تاکہ آپﷺ یا تو وفات پاجائیں یا سخت بیمار پڑ جائیں یا دیوانے ہوجائیں۔ شیاطین جن و انس ہر طرف پھیل گئے تھے تاکہ عوام کے دلوں میں آپ کے خلاف اور آپ کے لائے ہوئے دین اور قرآن کے خلاف کوئی نہ کوئی وسوسہ ڈال دیں جس سے لوگ بدگمان ہوکر آپﷺ سے دور بھاگنے لگیں۔ بہت سے لوگوں کے دلوں میں حسد کی آگ بھی جل رہی تھی، کیونکہ وہ اپنے سوا یا اپنے قبیلے کے کسی آدمی کے سوا، دوسرے کسی شخص کا چراغ جلتے نہ دیکھ سکتے تھے۔ مثال کے طور پر، ابو جہل جس بنا پر رسول اللہ ﷺ کی مخالفت میں حد سے بڑھتا چلا جاتا تھا اس کی وجہ وہ خود یہ بیان کرتا ہے کہ {{اقتباس|ہمارا اور بنی عبد مناف (یعنی رسول اللہ ﷺ کے خاندان) کا باہم مقابلہ تھا۔ انہوں نے کھانے کھلائے تو ہم نے بھی کھلائے۔ انہوں نے لوگوں کو سواریاں دیں تو ہم نے بھی دیں۔ انہوں نے عطیے دیے تو ہم نے بھی دیے۔ یہاں تک کہ وہ اور ہم جب عزت و شرف میں برابر کی ٹکر ہوگئے تو اب وہ کہتے ہیں کہ ہم میں ایک نبی ہے جس پر آسمان سے وحی اترتی ہے۔ بھلا اس میدان میں ہم کیسے ان کا مقابلہ کرسکتے ہیں؟ خد اکی قسم ہم ہر گز اس کو نہ مانیں گے اور نہ اس کی تصدیق کریں گے [3]

ان حالات میں رسول اللہ ﷺ سے فرمایا گیا کہ ان لوگوں سے کہہ دو کہ میں پناہ مانگتا ہوں طلوع صبح کے رب کی، تمام مخلوقات کے شر سے، رات کے اندھیرے اور جادو گروں اور جادو گرنیوں کے شر سے اور حاسدوں کے شر سے۔ اور ان سے کہہ دو کہ میں پناہ مانگتا ہوں انسانوں کے رب، انسانوں کے بادشاہ اور انسانوں کے معبود کی ہر اس وسوسہ انداز کے شر سے جو بار بار پلٹ کر آتا ہے اور لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتا ہے خواہ و ہ شیاطین جن میں سے ہو یا شیاطین انس میں سے۔ یہ اسی طرح کی بات ہے جیسی حضرت موسی علیہ السلام نے اس وقت فرمائی تھی جب فرعون نے بھرے دربار میں ان کے قتل کا ارادہ ظاہر کیا تھا

اِنِّی عُذُتُ بِرَبّیِ وَرَبِّکُم مِن کُلِّ مُتکبّرٍ لَّا یؤمِنُ بِیَومِ الحِسَابِ
میں نے اپنے اور تمہارے رب کی پناہ لے لی ہے ہر اس متکبر کے مقابلے میں جو روز حساب پر ایمان نہیں رکھتا

— 

وَاِنِّی عُذتُ بَربِّی وَرَبکم اَن تَرُجُمُونِ
اور میں نے اپنے اور تمہارے رب کی پناہ لے لی ہے اس بات سے کہ تم مجھ پر حملہ آور ہو

— 

۔

دونوں مواقع پر اللہ کے ان جلیل القدر پیغمبروں کا مقابلہ بڑی بے سر وسامانی کی حال تمیں بڑے سرو سامان اور وسائل و ذرائع اور قوت و شوکت رکھنے والوں سے تھا۔ دونوں مواقع پر وہ طاقت ور دشمنوں کے آگے اپنی دعوت حق پر ڈٹ گئے درانحالیکہ ان کے پاس کوئی مادی طاقت ایسی نہ تھی جس کے بل پر وہ ان کا مقابلہ کر سکتے۔ اور دونوں مواقع پر انھوں نے دشمنوں کی دھمکیوں اور خطرناک تدبیروں اور معاندانہ چالوں کو یہ کہہ کر نظر انداز کر دیا کہ تمھارے مقابلے میں ہم نے رب کائنات کی پناہ لے لی ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ اولوالعزمی اور ثابق قدمی وہی شخص دکھا سکتا ہے جس کو یہ یقین ہو کہ اس رب کی طاقت سب سے بڑی طاقت ہے، اس کے مقابلے میں دنیا کی ساری طاقتیں ہیچ ہیں اور اس کی پناہ جسے حاصل ہو اس کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ وہی یہ کہہ سکتا ہے کہ میں کلمہ حق کے اعلان سے ہرگز نہیں ہٹوں گا، تم جو چاہو کر لو، مجھے اس کی کوئی پروا نہیں، کیونکہ میں تمھارے اور اپنے اور ساری کائنات کے رب کی پناہ لے چکا ہوں۔

سورة الفَلَق

بِسْمِ اللہِ الرَّحمٰنِ الرَحیِمِْ۝
  قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ   مِن شَرِّ مَا خَلَقَ  وَمِن شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ  وَمِن شَرِّ النَّفَّاثَاتِ فِي الْعُقَدِ  وَمِن شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ   

ترجمہ

شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان ،نہایت رحم کرنے والا ہے

کہو کہ میں صبح کے پروردگار کی پناہ مانگتا ہوں (1) ہر چیز کی بدی سے جو اس نے پیدا کی (2) اور شب تاریکی کی برائی سے جب اس کااندھیرا چھا جائے (3) اور گنڈوں پر (پڑھ پڑھ کر) پھونکنے والیوں کی برائی سے (4) اور حسد کرنے والے کی برائی سے جب حسد کرنے لگے (5)

سورة النَّاس

بِسْمِ اللہِ الرَّحمٰنِ الرَحیِمِْ۝
  قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ   مَلِكِ النَّاسِ  إِلَٰهِ النَّاسِ  مِن شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ  الَّذِي يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ النَّاسِ  مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ   

ترجمہ

شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان ، نہایت رحم کرنے والا ہے

کہو کہ میں لوگوں کے پروردگار کی پناہ مانگتا ہوں (1) (یعنی) لوگوں کے حقیقی بادشاہ کی (2) لوگوں کے معبود برحق کی (3) (شیطان) وسوسہ انداز کی برائی سے جو (خدا کا نام سن کر) پیچھے ہٹ جاتا ہے (4) جو لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتا ہے (5) (خواہ) وہ جنّات میں سے (ہو) یا انسانوں میں سے (٦)

حوالہ جات

  1. امام خازن: تفسیر الخازن، جلد 4 صفحہ 499۔ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ، بیروت، لبنان، 1424ھ۔
  2. امام خازن: تفسیر الخازن، جلد 4 صفحہ 503۔ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ، بیروت، لبنان، 1424ھ۔
  3. "ابن ہشام، جلد اول، ص 337-33"۔