سیلواں ایک ضلع میانوالی کا ایک پرانا گاؤں ہے۔ یہ دریائے سندھ کے کنارے 1770 کے قریب موجودہ کنڈل سے کچھ مصافت پر آباد ہوا. یہ علاقہ کندیاں کچہ کا حصہ تھا۔ کندیاں پکہ اور کچہ کے درمیان دریائے سندھ کی پٹی ہائل تھی.1967 میں چشمہ بیراج اور ڈیم بننے کی وجہ سے اس گاؤں سے لوگ نقل مکانی کر کے مختلف جگہوں پر آباد ہو گئے۔ اور اب علو والی، دوآبہ،مظفرپور اور کندیاں شہر میں محلہ نئی آبادی سیلواں نامی محلے ہیں۔سیلواں کے لوگوں نے یہاں آباد ہونے کے لیے آس پاس کے علاقوں سے جنگیں کیں اور وتہ خیل، عیسیٰ خیل،کندیاں اور باقی قبائل کو ہمیشہ شکست دی جس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ 1967 تک ان لوگوں نے وہاں راج کیا۔ جب یہاں کے لوگ ہجرت کرنے لگے تب سیلواں کے سردار سلیمان نے اپنی کوششوں سے ناصرف سیلواں کے لوگوں کی بلکہ آس پاس کے تمام قبائل کی زمینیں منظور کروائیں،یہ ایک بہت بڑا کارنامہ ہے جو لوگ آج بھی زیر بحث لاتے ہیں



سیلواں لفظ "سیلو" قبیلے کی وجہ سے پڑا. سیلو ایک اعوان قبیلہ ہے۔ یہ لوگ 1770 کے قریب وادی نمل میں قحط پڑنے کی وجہ سے نقل مکانی کر کے آئے اور اس ویران میدان کو آباد کر کے اس کا نام سیلواں رکھا. نمل جھیل کے قریب اب بھی سیلواں کے کھولے نامی جگہ کے آثار موجود ہیں۔ سیلواں میں صرف سیلو ہی آباد نہیں تھے بلکہ باقی اعوان قبیلے جیسے ردھانی، ڈرھال، تریڑ، پھلے خیل، مرزے خیل، صدی خیل وغیرہ بھی آباد تھے۔ اعوانوں کے علاوہ قریشی اور باقی چھوٹی قومیں بھی آباد تھیں. سیلواں میں پاکستان بننے سے پہلے ہندو بھی آباد تھے جو آزادی کے وقت یہاں سے بھارت نقل مکانی کر گئے۔

سیلواں کے لوگ کشتی کے ذریعے دریا پار کر کے کندیاں پکہ میں کاروبار کے لیے آتے تھے۔ شروع شروع میں سیلواں کے لوگ کنڈل کے پہاڑوں کے قریب اپنے مُردوں(میتوں) کو دفناتے تھے اور بعد کشتی کے ذریعے دریا پار کر کے کندیاں میں گھنڈی کے مقام پر دفنانا شروع کیا. کنڈل میں آج بھی وہ پرانا قبرستان موجود ہے۔ اس کے علاوہ سیلواں کے لوگ میانوالی میں کاروبار کے لیے جاتے تو جس جگہ وہ اپنا سامان بیچتے اور منڈی لگاتے، وہ جگہ چنگی سیلواں کے نام سے مشہور ہوئی اور اب بھی میانوالی شہر میں چنگی سیلواں نامی جگہ موجود ہے.