In The News

اسلامی عہدِ زریں کے زوال کا آغاز عربوں کی دیرینہ دھڑے بندی کی فطرت سے ہوا اور اس دھڑا بندی تنازعے میں خلفائے راشدین نے دنیا دار خلیفاؤں کے لیے جگہ چھوڑی۔ مسند خلافت کو مکہ سے نکال کر دمشق اور پھر بغداد لے جایا گیا کیونکہ تیزمزاج اور آزاد فطرت صحرائی عرب ، جن کی خلقی یا جِبلّی جمہوریت کی توثیق پیغمبرDUROOD3.PNG نے کردی تھی اور سب کو ایک دوسرے کا بھائی بنا دیا تھا، کبھی کسی آقا کو برداشت نہیں کرسکتے تھے۔ مکے کی خلافت ایک نظریاتی جمہوریت تھی لیکن دمشق اور اس سے بھی پرے بغداد میں صورتحال مختلف تھی۔ شامی و فارسی نومسلم اور مخلوط النسل نوعربوں کے درمیان خالص النسل عرب مٹھی بھر ہورہے تھے۔ یہ افراد استبدادی ثقافت و عادات سے بھرے ہوئے تھے اور غلامانہ و خوشامدی اطاعت شعاری کرسکتے تھے اور خلیفہ بھی ان کی جانب ہی جھکتا تھا اور ان میں سے حکومتی اہلکار حاصل کرتا تھا۔ متعجب و ناراض، متکبر عرب رفتہ رفتہ صحرا (مکے) کو لوٹنے لگے اور خلافت ، (اسلامی کے بجائے) بوسیدہ مشرق کے روائیتی استبداد کی دراڑوں میں گر گئی ۔۔۔۔۔۔۔

ماخذ:- The New World of Islam: Lothrop Stoddard

منتخب مضمون

سلطنت عثمانیہ یا خلافت عثمانیہ (عثمانی ترک زبان: "دولت علیہ عثمانیہ"، ترک زبان:Osmanlı Devleti) سن 1299ء سے 1922ء تک قائم رہنے والی ایک مسلم سلطنت تھی جس کے حکمران ترک تھے۔ اپنے عروج کے زمانے میں (16 ویں – 17 ویں صدی) یہ سلطنت تین براعظموں پر پھیلی ہوئی تھی اور جنوب مشرقی یورپ، مشرق وسطٰی اور شمالی افریقہ کا بیشتر حصہ اس کے زیر نگیں تھا۔ اس عظیم سلطنت کی سرحدیں مغرب میں آبنائے جبرالٹر، مشرق میں بحیرۂ قزوین اور خلیج فارس اور شمال میں آسٹریا کی سرحدوں، سلوواکیہ اور کریمیا (موجودہ یوکرین) سے جنوب میں سوڈان، صومالیہ اور یمن تک پھیلی ہوئی تھی۔ مالدووا، ٹرانسلوانیا اور ولاچیا کے باجگذار علاقوں کے علاوہ اس کے 29 صوبے تھے۔ سلاجقہ روم کی سلطنت کے خاتمے کے بعد اناطولیہ میں طوائف الملوکی پھیل گئی اور مختلف سردار اپنی اپنی خود مختیار ریاستیں بنا کر بیٹھ گئے جنہیں غازی امارات کہا جاتا تھا۔ 1300ء تک زوال کی جانب گامزن بازنطینی سلطنت اناطولیہ میں واقع اپنے بیشتر صوبے ان غازی امارتوں کے ہاتھوں گنوا بیٹھی۔ انہی امارتوں میں سے ایک مغربی اناطولیہ میں اسکی شہر کے علاقے میں واقع تھی جس کے سردار عثمان اول تھے۔ کہا جاتا ہے کہ جب ارطغرل ہجرت کر کے اناطولیہ پہنچے تو انہوں نے دو لشکروں کو آپس میں برسر پیکار دیکھا جن میں سے ایک تعداد میں زیادہ اور دوسرا کم تھا اور اپنی فطری ہمدردانہ طبیعت کے باعث ارطغرل نے چھوٹے لشکر کا ساتھ دیا اور 400 شہسواروں کے ساتھ میدان جنگ میں کود پڑے۔

کیا آپ کو معلوم ہ؟

  • سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اراکین کے علاوہ دس غیر مستقل اراکین بھی ہوتے ہیں جن کو جنرل اسمبلی دو دو سال کے لیے منتخب کرتی ہے۔(مزید)
  • کولہے کی ہڈیاں کسی ہڈی سے مشابہت نہیں رکھتیں اور بے قاعدہ انداز میں جڑی ہوئی ہوتی ہیں اور ان کا نام بھی کوئی نہیں ہوتا.(مزید)
  • ایڈز کی علامات ظاہر ہونے سے پہلے اس کا وائرس انسانی جسم میں کئی مہینوں یا برسوں تک رہ سکتا ہے۔(مزید)
  • ستمبر 1980ء میں جب عراق نے ایران پر حملہ کیا تو صدام حسین نے کہا تھا کہ وہ 3 دن میں تہران پر قبضہ کر لیں گے۔(مزید)
  • کرکٹ کا پہلا عالمی کپ 1975ء میں کھیلا گیا، ہر چار سال بعد یہ عالمی مقابلہ ہوتا ہے جبکہ خواتین کا کرکٹ عالمی کپ 1973ء سے کھیلا جا رہا ہے۔(مزید)
  • انڈونیشیا کے جنرل سہارتو نے جب اقتدار چھوڑا تو ان کی خفیہ دولت 35 بلین امریکی ڈالر تھی۔(مزید)
  • سولہویں صدی کے آخر تک یعنی 1564ء تک نیا سال مارچ کے آخر میں شروع ہوتا تھا۔(مزید)

Last modified on 19 مئی 2013, at 00:07