لیڈی ریڈنگ ہسپتال (Lady Reading Hospital) پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا پشاور میں واقع ہے۔ یہ پاکستان میں اہم پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ میں سے ایک ہے۔ اسے لویا ہسپتال (بڑا ہسپتال) اور جرنیلی ہسپتال بھی کہا جاتا ہے۔ یہ ہندوستان کے وائسرائے لارڈ ریڈنگ کی بیوی ایلس اسہاک ریڈنگ کے نام پر ہے۔[1] یہ خیبر پختونخوا کا سب سے بڑا ہسپتال ہے۔

لیڈی ریڈنگ ہسپتال

صوبے کا سب سے بڑا ہسپتال ایک یہودی کی کمائی کا مرہون منت ہے __ صوبہ خیبرپختونخوا میں لیڈی ریڈنگ ہسپتال سب سے بڑا اور پاکستان کا اہم پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ ہے۔ اس سے قبل یہاں قلعہ بالا حصار سے ملحقہ ایجرٹن کے نام سے چھوٹا سا طبی سہولیات دینے والا ہسپتال تھا۔ اس کی جگہ موجودہ لیڈی ریڈنگ ہسپتال کی تعمیر کا واقعہ بھی دلچسپ اور عجیب ہے۔ روفس آئزکس (1860 - 1935) نامی ایک یہودی سیاست دان اور اپنے آبائی علاقے ریڈنگ سے لبرل پارٹی کے رہنما کی حیثیت سے برطانوی پارلیمنٹ کے رکن (1904 - 1913 تھے۔ بعد میں وہ سات سال ویلز اور انگلینڈ کے چیف جسٹس رہے۔ 1926 میں انھیں برطانیہ کا سب سے بڑا سول اعزاز مارکویس آف ریڈنگ کے نام سے دیا گیا۔ یہ برطانوی نوابین کو دیے گئے ناموں میں سے پہلی بار ایک یہودی کے لیے وضع کیا گیا تھا۔ 1921 میں انھیں ہندوستان کا وائسرائے ہند بنا کر بھیج دیا گیا جہاں سے وہ 1926 میں ریٹائر ہوئے۔ اپنی ریٹائرمنٹ سے دو سال قبل 1924 میں وہ اپنی اہلیہ لیڈی ایلس آئزکس ریڈنگ کے ہمراہ پشاور کے دورے پر آئے۔ لیڈی ایلس نے قلعہ بالا حصار سے پشاور کا نظارہ کرنے کے بعد گھوڑے کی پیٹھ پر شہر کو دیکھنے کی خواہش کی۔ واپسی پر وہ گھوڑے سے گرنے اور چوٹیں کھانے کے باعث بے ہوش ہو گئیں۔ قلعہ سے ملحقہ ایجرٹن ہسپتال میں مکمل طبی سہولیات کی عدم دستیابی کے کارن انھیں آرٹلری ہسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں اب سی ایم ایچ ہے۔ صحت یابی کے بعد وہ واپس تو ہو گئیں لیکن ان کے دل میں یہ خلش ضرور رہی کہ یہاں کوئی عوامی ہسپتال موجود نہیں جہاں مکمل طبی سہولیات دستیاب ہوں۔ اپنے شوہر وائسرائے ہند لارڈ ریڈنگ کی ریٹائرمنٹ کے بعد وہ پھر 1926 میں پشاور آئیں اور اپنے یہودی شوہر کی کمائی سے اس وقت باون ہزار روپے کی خطیر رقم ایک معیاری ہسپتال کی تعمیر میں خرچ کر دیے۔ ساتھ ہی لوگوں سے بھی چندہ جمع کر دیا گیا اور خوبصورت ہسپتال کی بنیاد ڈالی جو اب ان کے نام سے موسوم ہے۔ لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں آؤٹ ڈور بیماروں کے علاج کی تعداد چھ ہزار اور شعبہ حادثات اتفاقیہ میں لائے گئے بیماروں کے علاج کی تعداد تین ہزار روزانہ بنتی ہے۔

بیرونی روابط ترمیم

حوالہ جات ترمیم

  1. "Well Reading, The News"۔ 06 مارچ 2016 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 27 اپریل 2013