خلیائی حیاتیات میں مائٹو کونڈریا جھلی میں لپٹا ہوا ایک ایسا عضو (Organelle) ہے جو یوکیریوٹ خلیوں میں پایا جاتا ہے۔ مائٹو کونڈریا کا حجم نصف سے دس مائیکرو میٹر تک ہو سکتا ہے۔ مائٹو کونڈریا کو بعض اوقات خلیائی توانائی کا مرکز بھی کہا جاتا ہے کیونکہ مائٹو کونڈریا ایڈینوسین ٹرائی فاسفیٹ یعنی اے ٹی پی تیار کرتے ہیں۔ اے ٹی پی کو کیمیائی توانائی کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ توانائی بنانے کے علاوہ یہ اشارہ بازی یعنی سگنلنگ، خلیائی تفریق، خلیائی موت، خلوی دورانیہ اور خلوی بڑھوتری میں بھی اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ مائٹو کونڈریا جسم میں مختلف بیماریاں پیدا کرنے میں شامل ہوتے ہیں۔ ان بیماریوں میں مائٹو کونڈریا کی خرابیاں، دل کے مسائل اور بڑھاپا شامل ہیں۔


خلیائی حیاتیات
مائٹوکونڈریا
اجزائے مائٹوکونڈریا

1 بیرونی جھلی

1.1 پورین

2 انٹرممبرین سپیس

2.1 انٹرکریسٹل سپیس
2.2 پیریفیرل سپیس

3 لملہ

3.1 اندرونی جھلی
3.11 اندرونی باؤنڈری جھلی
3.12 کریسٹل جھلی
3.2 میٹرکس
3.3 کریسٹا

4 مائٹوکونڈری ڈی این اے
5 میٹرکس گرینیول
6 رائبوسوم
7 اے ٹی پی سائنتھیز


الیکٹرون مائکروسکوپ سے لیا گیا مائٹوکونڈریا کا ایک تصویر

توانیہ:- توانیہ میں ایسے خامرے ہوتے ہیں جو نامیاتی مادوں جیسے نشاستہ چربی وغیرہ کی مکمل تکسید کرتے ہیں اور انھیں سادہ مادوں میں تبدیل کرتے ہوئے ATP تیار کرتے ہیں۔