کشفیہ [مردہ ربط] آج مالیگاؤں (ہند) سے تعلق رکھنے والے محترم سلیم شہزاد کا تقدیسی شاعری کا مجموعہ ’’ کشفیہ‘‘ پڑھنے کی سعادت ملی۔ دورانِ مطالعہ اس بات کا خوشگوار انکشاف ہوا کہ سلیم شہزاد کو شاعری اور کتاب کو ابواب میں منقسم کرنے کے معاملے میں عبد العزیز خالد مرحوم سے حیرت انگیز مماثلت ہے۔ کئی اشعار نے عبد العزیز خالد مرحوم کی مرقومہ مناقب ’’ثانیِ لاثانی‘‘ اور ’’بو تراب‘‘ کی یاد تاذہ کرادی، سلیم شہزاد کے کلام پڑھ کر قاری پر یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہے کہ سلیم شہزاد کثیر المطالعہ ہونے کے ساتھ ساتھ تاریخی واقعات کو اشعار میں ڈھالنا بخوبی جانتے ہیں۔

سارا مجموعہ ہی شاندار اور لاجواب ہے مگر صفحہ 113 سے شروع ہونے والا باب ’’ثنائے حرفِ آگہی‘‘ (جو صفحہ 130 تک جاری رہتا ہے) نے شاعرِ محترم کی صلاحیتوں کا نہایت عمدہ اظہار کیا ہے۔

ثنائے حرفِ آگہی یارانِ رسول یعنی چار اصحابِ کبار علیھم الرضوان کی منقبت پر مشتمل کلام ہے اور سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ، سیدنا عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ، سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ اور سیدنا مولائے کائنات حیدرِ کرار رضی اللہ عنہ کے کمالات و صفات کا بیان ہے۔

چند منتخب اشعار

وہ حرفِ آگہی جو حرفِ حق ہے، حرفِ صدق ہے

بجز یقین کیا ہے ماورائے حرفِ آگہی

وہ صادق و صدیق، وہ رفیقِ آشنائے حق

یقینِ صدق سے ہوا فنائے حرفِ آگہی

..........................................

اُسے طلب کیا علوئے حرفِ حق کے واسطے

تو حق نے کی عطا اُسے ضیائے حرفِ آگہی

جِلائے حرفِ آگہی سے اور محترم ہوا

وہ بابِ عدل جس پہ ہے جِلائے حرفِ آگہی

..........................................

کبھی حبش ، کبھی مدینۃ النبی کو گھر کیا

متاع و مال، ترک سب کرائے حرفِ آگہی

کہا کہ کر طواف، تو احاطہِ حرم میں ہے

کہا، ’’ نہیں بغیر آشنائے حرفِ آگہی‘‘

..........................................

میں بابِ شہرِ علم پر گدائے حرفِ آگہی

کبھی مری طرف بھی چل صبائے حرفِ آگہی

کبھی تو بابِ شہرِ علم وا ہو مجھ غریب پر

کبھی غریبِ حرف کو عطائے حرفِ آگہی

..........................................

ایک سو پندرہ اشعار ہر مشتمل یہ بیمثال کلام اپنی مثال آپ ہے۔

از ابو المیزاب محمد اویس رضوی، کراچی