ابوالحسن کبیر ٹھٹوی سندھی

سندھ کے سترہویں صدی کے عالمی شہرت یافتہ محدث

شیخ ابو الحسن محمد بن عبد الہادی ٹھٹوی سندھی مدنی المعروف شیخ سندھی (وفات: بدھ 12 شوال 1138ھ/ 12 جون 1726ء) سندھ کے مشہور تاریخی شہر ٹھٹہ سے تعلق رکھنے والے سترہویں صدی کے عالمی شہرت یافتہ محدث اور فقیہ تھے۔ فقہ حنفی سے نسبت خاص کے سبب عرب دنیا میں امام السِّندی الحنفی کے نام سے پہچانے جاتے ہیں۔

شیخ الامام العالم، علامہ، محدث الکبیر
ابو الحسن کبیر ٹھٹوی سندھی مدنی
معروفیتمحدث، فقیہ، ماہر علوم اُصول و علوم منطق
پیدائشٹھٹہ، سندھ (موجودہ پاکستان)
وفاتبدھ 12 شوال 1138ھ/ 12 جون 1726ء

مدینہ منورہ، سلطنت عثمانیہ، موجودہ سعودی عرب
مدفنجنت البقیع، مدینہ منورہ، سعودی عرب
نسلسندھی
عہدسترہویں صدی عیسوی
شعبۂ زندگیسندھ
مذہباسلام
فقہحنفی
شعبۂ عملقرآن، تفسیر، حدیث، فقہ
کارہائے نماياںحاشیہ سندھی علیٰ صحیح بخاری
حاشیہ صحیح مسلم
حاشیہ سنن ترمذی
الفتوحات النبوة
تحفۃ المحبین
حاشیہ سنن نسائی
متاثر
  • مخدوم محمد حیات سندھی

نام و کنیتترميم

شیخ ابو الحسن کا نام محمد بن عبد الہادی ہے۔ کنیت ابو الحسن اور لقب نور الدین ہے۔ والد کا نام عبد الہادی تھا۔[1][2]

ابتدائی حالات، تحصیل علم، درس حدیثترميم

شیخ ابوالحسن محمد بن عبد الہادی سندھ کے شہر ٹھٹہ میں پیدا ہوئے، البتہ سال ولادت معلوم نہیں ہو سکا۔[3] ابتدائی زندگی ٹھٹہ اور سندھ کے شہروں میں گذری۔ ۔[4] عمر کے وسطی زمانہ سفر حجاز کے واسطے روانہ ہوئے اور قلیل عرصہ ایران کے شہر شوشتر میں مقیم رہے۔ بعد ازاں مدینہ منورہ پہنچے اور تمام عمر مدینہ منورہ میں بسر کی۔[1][2][5] وہاں محدث علامہ ابراہیم کر دی کورانی، شیخ محمد بن عبد الرسول برزنجی مدنی اورشیخ عبد اللہ بن سالم اور دیگر علما سے علم حاصل کیا اور سند لی۔ شیخ ابو الحسن نے باقی عمر وہیں علمِ حدیث کی خدمت اور درس و تدریس میں بسر کی۔ مدینہ منورہ کے علما و فضلا ان کی شاگردی کو اپنے لیے باعث عزت و شرف سمجھتے تھے۔ مشرق و مغرب کے ہزا رہا علما و فضلا نے ان سے حدیث کی سندیں حاصل کیں۔[6]

تصانیفترميم

شیخ ابو الحسن نے درس و تدریس کے علاوہ احادیث کی کتابوں پر بھی عمدہ حواشی تحریر کیے، جن میں چھ کتب کے حواشی مصر میں بھی شائع ہوچکے ہیں۔ تحریر کردہ تصانیف اور حواشی کی تفصیل یوں ہے[3][6]:

  • حاشیہ سندھی علیٰ صحیح بخاری
  • حاشیہ صحیح مسلم
  • حاشیہ سنن ترمذی
  • الفتوحات النبوة
  • تحفۃ المحبین
  • حاشیہ سنن نسائی
  • حاشیہ مسند امام احمد بن حنبل
  • حاشیہ فتح القدر فقہ
  • منھل الھذات فی معدل الصلوات
  • فتح الودود حاشیہ سنن ابو داؤد

وفاتترميم

شیخ ابو الحسن نے طویل العمری میں بروز بدھ 12 شوال 1138ھ/ 12 جون 1726ء کو مدینہ منورہ میں انتقال کیا۔ نماز جنازہ مسجد نبوی میں ادا کی گئی اور تدفین جنت البقیع میں کی گئی۔ نماز جنازہ میں خلقت کا اژدھام دیکھا گیا حتیٰ کہ خواتین نے بھی شرکت کی۔[1][7][8]

حوالہ جاتترميم

  1. ^ ا ب پ علامہ عبد الحئی بن فخر الدین الحسینی: الاعلام بمن فی تاریخ الہند من الاعلام، جلد 2، صفحہ 685۔ تذکرہ تحت طبقہ ثانیہ عشرہ فی اعیان القرن الثانی عشر۔ مطبوعہ دار ابن حزم، بیروت، لبنان، 1420ھ/ 1999ء
  2. ^ ا ب حاشیۃ مسند احمد بن حنبل، جلد 1، مقدمہ۔ مطبوعہ الھئیۃ القطریۃ، قطر، 1428ھ/ 2008ء
  3. ^ ا ب خیر الدین الزرکلی: الاعلام، جلد 6، صفحہ 253۔ مطبوعہ دار العام ملایین، بیروت، لبنان، 1422ھ/ 2002ء
  4. تراجم اعیان المدینہ المنورہ: ص 60۔ مطبوعہ دار الشروق، جدہ، سعودی عرب، 1404ھ/ 1984ء
  5. ابوالفضل محمد خلیل بن علی المرادی: سلک الدرر، جلد 4، صفحہ 66۔ مطبوعہ مطبعة الميرية العامرۃ، بولاق، مصر، 1301ھ/ 1884ء
  6. ^ ا ب مولانا دین محمد وفائی، تذکرہ مشاہیر سندھ (جلد دوم - جلد سوم)، اردو ترجمہ ڈاکٹر عزیز انصاری / عبد اللہ وریاہ، سندھی ادبی بورڈ، جام شورو سندھ، ص 278، 2005ء
  7. ڈاکٹر عبد الرسول قادری، مخدوم محمد ہاشم ٹھٹوی:سوانح حیات اور علمی خدمتیں (سندھی)، مفتی اعظم سندھ اکیڈمی، دار العلوم مجددیہ نعیمیہ، ملیر کراچی، ص 188، 2002ء
  8. حاشیۃ سنن النسائی، مقدمہ، ص 10۔ مطبوعہ دارالبشائر الاسلامیہ، بیروت، لبنان، 1414ھ/ 1994ء