اسلامی فوجی اتحاد

اسلامی فوجی اتحاد یا مسلم ممالک کا فوجی اتحاد (عربی: التحالف الإسلامي العسكري) 35 مسلم ممالک کا بین الحکومتی فوجی اتحاد ہے جس کی تشکیل 14 دسمبر 2015ء کو سعودی عرب کی قیادت میں ہوئی۔ اتحاد کے مطابق اس کا مقصد یہ ہے کہ "مذہب اور نام سے قطع نظر ہر قسم کی دہشت گردی کے خلاف مزاحمت اور جنگ کا محاذ قائم کیا جائے "۔[1][2]

اسلامی فوجی اتحاد
التحالف الإسلامي العسكري
Islamic Military Alliance.svg
اسلامی فوجی اتحاد کا نقشہ
قیام14 دسمبر 2015ء
قسمفوجی اتحاد
نصب العیندہشت گردی کے خلاف جنگ
صدر دفاترریاض، سعودی عرب
مقام
ارکان

اس فوجی اتحاد میں 35 مسلم ممالک شامل ہیں، جبکہ 10 سے زائد دیگر مسلم ممالک نے اپنا تعاون کا اعلان کیا ہے، جن میں انڈونیشیا بھی شامل ہے جو دنیا کا سب سے بڑا مسلم آبادی والا ملک ہے اور آذربائیجان بھی اس اتحاد میں شامل ہونے پر غور کر رہا ہے۔ [3][4][5] اس تنظیم کا صدر دفتر سعودی عرب کا دار الحکومت ریاض ہوگا اور اس فوجی اتحاد کی تشکیل کا اعلان سعودی وزیر دفاع محمد بن سلمان السعود نے 14 دسمبر 2015ء کو کیا۔ [6][7]

رکن ممالکترميم

ذیل میں ان ممالک کی فہرست درج ہے جو اس اتحاد میں بطور رکن شامل ہیں، یہ کل 35 ممالک ہیں جنھوں نے مشترکہ طور پر اس کا اعلان کیا ہے۔

ملک جنگجو کردارα معاون حوالہ (جات)
  بحرین شامل دستیاب نہیں
  بنگلادیش ہاں ہاں [8]
  بینن شامل دستیاب نہیں
  چاڈ شامل دستیاب نہیں
  اتحاد القمری شامل دستیاب نہیں
  کوت داوواغ شامل دستیاب نہیں
  جبوتی شامل دستیاب نہیں
  مصر شامل ہاں [8]
  گیبون شامل دستیاب نہیں
  جمہوریہ گنی شامل دستیاب نہیں
  اردن شامل ہاں [8]
  کویت شامل دستیاب نہیں
  لبنان شامل دستیاب نہیں
  لیبیا ہاں ہاں [9]
  ملائیشیا نہیں ہاں [10]
  مالدیپ شامل دستیاب نہیں
  مالی شامل دستیاب نہیں
  موریتانیہ شامل دستیاب نہیں
  مراکش شامل دستیاب نہیں
  نائجر شامل دستیاب نہیں
  نائجیریا ہاں ہاں [9]
  پاکستان ہاں ہاں [10][11][12][13]
  فلسطین شامل دستیاب نہیں
  قطر شامل دستیاب نہیں
  سعودی عرب ہاں ہاں [14][15][16]
  سینیگال شامل دستیاب نہیں
  سیرالیون شامل دستیاب نہیں
  صومالیہ شامل دستیاب نہیں
  سوڈان شامل دستیاب نہیں
  ٹوگو شامل دستیاب نہیں
  تونس شامل دستیاب نہیں
  ترکی ہاں ہاں [9]
  متحدہ عرب امارات ہاں ہاں
  یمن شامل دستیاب نہیں
ان ممالک نے بوقت ضرورت عسکری تعاون کی پیشکش کی ہے۔

ممکنہ اراکینترميم

ملک حالت حوالہ (جات)
  آذربائیجان زیر التواء [5]
  انڈونیشیا زیر التواء [4]

مقاصدترميم

اس فوجی اتحاد کے مقاصد درج ذیل ہیں:

  • مذہب و مسلک سے قطع نظر اسلامی ممالک میں موجود جملہ دہشت گرد جماعتوں سے مزاحمت اور ان کے خلاف جنگ۔[17]
  • فکری، نظریاتی اور ابلاغی سطح پر دہشت گردی کے خلاف بھرپور جنگ۔ [18]

رد عملترميم

تنظیمیںترميم

  • تنظیم تعاون اسلامی: نے اپنے ایک بیان میں اس فوجی اتحاد کو سراہا۔ [19]
  • جامع ازہر: نے بھی اس اتحاد کا استقبال کیا جس کا مطالبہ ایک عرصہ سے شیخ الازہر اپنے انٹرویوز اور کانفرنسوں میں کر رہے تھے۔
  •   رابطہ عالم اسلامی: مکہ مکرمہ میں واقع رابطہ عالم اسلامی کے جنرل سیکریٹریٹ نے بھی 35 ممالک کے اس فوجی اتحاد کا خیر مقدم کیا۔
  •   مجلس حکماء المسلمین: نے شیخ الازہر احمد الطیب کی قیادت میں اس اتحاد کی پر زور تائید اور خیر مقدم کیا۔

دیگرترميم

 حزب اللہ: نے دہشت گردی کے خلاف سعودی عرب کی جانب سے اس فوجی اتحاد کی تشکیل اور اس کے اہداف و مقاصد کے تئیں اپنے شک کا اظہار کیا اور لبنان کا اس اتحاد میں شامل ہونے سے انکار کر دیا ہے۔ [20][21]

ممالکترميم

حامیترميم

غیر جانبدارترميم

مخالفترميم

حوالہ جاتترميم

  1. "تلفزيون: السعودية تعلن تشكيل تحالف إسلامي عسكري من 35 دولة لمحاربة الإرهاب - أخبار الشرق الأوسط - Reuters". 24 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 15 دسمبر 2015. 
  2. "دہشت گردی کی مزاحمت کے لیے اسلامی فوجی اتحاد کی تشکیل جس کا صدر دفتر ریاض ہوگا - RT Arabic". 24 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 15 دسمبر 2015. 
  3. Wam (16 December 2015). "34-nation alliance to fight terrorism". Emirates 24/7. 24 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 17 دسمبر 2015. 
  4. ^ ا ب Marguerite Afra Sapiie (2015-12-16). "Indonesia yet to decide on Saudi-led military coalition". The Jakarta Post. 24 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 19 دسمبر 2015. 
  5. ^ ا ب Sara Rajabova (2015-12-15). "Baku considers joining Riyadh-based coalition to fight terrorism". AzerNews. 24 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 19 دسمبر 2015. 
  6. "Saudi Arabia Unveils 34-Country 'Islamic Military Alliance'". NBC News. 24 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 15 دسمبر 2015. 
  7. DeYoung، Karen (2015-12-15). "Saudi Arabia launches 'Islamic military alliance' to combat terrorism". واشنگٹن پوسٹ (بزبان انگریزی). ISSN 0190-8286. 10 جنوری 2019 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 16 دسمبر 2015. 
  8. ^ ا ب پ Oliver Miles (16 December 2015). "Is Saudi Arabia's anti-terrorist alliance real?". The Guardian. 24 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 17 دسمبر 2015. 
  9. ^ ا ب پ Kayode Sesan (16 December 2015). "Turkey Confirms Membership of Sunni 'Islamic Military Alliance', Nigeria, Libya Also Members". SIGNAL. 24 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 17 دسمبر 2015. 
  10. ^ ا ب "'Members' surprised by Saudi anti-terror coalition plan". برطانوی نشریاتی ادارہ. 2015-12-16. 24 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 17 دسمبر 2015. 
  11. Baqir Sajjad Syed (2015-12-16). "Pakistan surprised by its inclusion in 34-nation military alliance". DAWN. 24 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 17 دسمبر 2015. 
  12. Editorial (2015-12-18). "Pakistan Joins Saudi-Lead Anti-Terror Coalition". sputnik. 24 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 18 دسمبر 2015. 
  13. Baqir Sajjad Syed (2015-12-16). "Pakistan confirms participation in Saudi-led anti-terror alliance". DAWN. 24 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 17 دسمبر 2015. 
  14. "Saudi Arabia forms Muslim 'anti-terrorism' coalition". www.aljazeera.com. 24 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 16 دسمبر 2015. 
  15. "Saudis announce Islamic anti-terrorism coalition - BBC News". BBC News (بزبان انگریزی). 24 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 15 دسمبر 2015. 
  16. "Saudi Arabia announces 34-state Islamic military alliance against terrorism". Reuters. 2015-12-15. 24 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 15 دسمبر 2015. 
  17. ولي ولي العهد: التحالف الإسلامي العسكري لمحاربة جميع التنظيمات الإرهابية، صحيفة الرياض اليومية.
  18. أهداف التحالف الإسلامي العسكري، الموجز.
  19. منظمة التعاون الإسلامي ترحب بالإعلان عن تحالف عسكري لمكافحة الإرهاب، جريدة الرياض.
  20. "حزب الله" شكّك في أهداف التحالف الإسلامي آرکائیو شدہ [Date missing] بذریعہ newspaper.annahar.com [Error: unknown archive URL]، السفير.
  21. حزب الله: التحالف الذي تقوده السعودية ضد الدولة الإسلامية مشبوه آرکائیو شدہ [Date missing] بذریعہ ara.reuters.com [Error: unknown archive URL]،رويترز.