افضل الدین خاقانی

افضل الدین بدیل خاقانی حسان العجم کے لقب سے مشہور فارسی شاعر جسے خاقانی نظامی اور خاقانی نظامی گنجوی بھی کہتے ہیں،

افضل الدین خاقانی
(فارسی میں: خاقانی)،(آذربائیجانی میں: Xaqani Şirvani ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
Stamps of Azerbaijan, 1997-487.jpg
 

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1120  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شیروان[1]  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 1199 (78–79 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تبریز  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدفن مقبرہ الشعرا  ویکی ڈیٹا پر (P119) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت شروان شاہ  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ شاعر،  مصنف  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان فارسی  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

ولادتترميم

خاقانی 1126ءبمطابق 520ھایران کے سرحدی علاقہ شروان میں پیدا ہوا.[2]

نامترميم

تذکرہ نویسوں کے آپ کا نام ’’ابراہیم‘‘ لکھا ہے لیکن اس نے خود اپنا نام ’’بدیل‘‘بتایا ہے ۔[3]جیسا کہ وہ اپنے ایک شعر میں کہتا ہے :
بدل من آمدم اندر جہان سنائی را۔۔۔۔بدیں دلیل پدر نام من بدیل نہاد

ولدیتترميم

آپ کے والد کا نام ’’نجیب الدین علی‘‘ تھا جو پیشے کے اعتبار سے ایک ترکھان تھا۔جبکہ کاقانی کا چچا ایک طبیب اور فلسفی تھے ۔انہوں نے پچیس سال کی عمر تک اپنے چچا ہی سے تربیت حاصل کی تھی۔[4]

تعلیم و تربیتترميم

آپ نےاپنے چچا عمر کی مدد سے مختلف علوم و فنون میں مہارت حاصل کی۔ اور حسان العجم کا لقب پایا۔ ابوالعلا گنجوی سے بھی استفادہ کیا اور انھی کی بیٹی سے شادی ہوئی۔ سلطان سنجر کے دربار میں جانا چاہتا تھا کہ ترکان غز کا فتنہ برپا ہو گیا۔ 1156ء میں حج کیا اور نعتیہ قصائد اور ایوان مدائن والا معروف قصیدہ لکھا۔ 1173ء میں محبوس ہوا۔ قریباً ایک سال کے بعد رہائی ملی اور مشہور نظم جسیہ تحریر کی۔ بعد ازاں حج کے لیے گیا۔ کلیات، قصائد اور قطعات پر مشتمل ہے۔ اشعار کی تعداد بائیس ہزار ہے۔ مثنوی تحفۃ العراقین میں مسافرت حج کی سرگزشت ہے۔

حالات زندگیترميم

خاقانی کواپنے والد کے پیشے یعنی بڑھئی کے کام سے سخت نفرت تھی یہی وجہ ہے کہ وہ کبھی بھی اپنے والد کے کام والی جگہ پر نہیں گیا، وہ اپنے باپ سے بھی دور رہتا تھا۔اسی مطلب کو انہوں نے اپنے اشعار میں بارہا بیان کیا ہے۔ اسی وجہ سے اس نے حصول علم پر زور دیا اور اپنے دور کے رائج علوم یعنی عربی اور فارسی ادبیات سیکھا۔آپ ادبیات کے علاوہ علم کلام، علم نجوم، حکمت، طب اور علم تفسیر بھی جانتے تھے۔

وفاتترميم

خاقانی 1198ءبمطابق 595ھ تبریز میں وفات پائی۔

تعلیم و تربیتترميم

حوالہ جاتترميم

  1. مصنف: محمد معین — ناشر: Amirkabir publisher
  2. تاریخ ادبیات ایران،از ڈاکٹر رضا زادہ شفق،مترجم سید مبارز الدین رفعت،دھلی:ندوۃ المصنفین،ص۲۵۴
  3. آشنایی یا شاعران کلاسیک ایران،از مہبود فاضلی،تہران:انتشارات بین المللی الہدی،ص۳۵
  4. ایضاً