البرٹ ایڈون ٹروٹ (پیدائش: 6 فروری 1873ءایبٹس فورڈ، میلبورن، وکٹوریہ) | (وفات: 30 جولائی 1914ء ولزڈن گرین، مڈل سیکس) ایسے منفرد کرکٹ کھلاڑی تھے جنہوں نے آسٹریلیا اور انگلینڈ دونوں کے لیے ٹیسٹ کرکٹ میں حصہ لیا تھا [2] انہیں 1899ء میں وزڈن کے سال کے بہترین کرکٹرز میں سے ایک کے طور پر نامزد کیا گیا تھا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ وہ واحد بلے باز ہیں جنہوں نے لارڈز پویلین کے اوپر سے گیند لگائی تھی[3] وہ ایک ہی اول درجہ اننگز میں دو ہیٹ ٹرک کرنے والے صرف دو کھلاڑیوں میں سے ایک ہیں جبکہ دوسرے جوگندر راؤ ہیں۔ اپنی قابلیت کے باوجود، 5 ٹیسٹ سمیت 375 اول درجہ کے مقابلوں میں کھیلنے کے باوجود، جب انہوں نے 41 سال کی عمر میں خودکشی کر لی تو وہ تقریباً بے بس تھا۔

البرٹ ٹروٹ
Albert Trott c1905.jpg
ذاتی معلومات
مکمل نامالبرٹ ایڈون ٹروٹ
پیدائش6 فروری 1873(1873-02-06)
ایبٹس فورڈ, وکٹوریہ، آسٹریلیا
وفات30 جولائی 1914(1914-70-30) (عمر  41 سال)
ہارلزڈین، مڈلسیکس, انگلینڈ
عرفالبرٹو، الباٹروٹ
بلے بازیدائیں ہاتھ کا بلے باز
گیند بازیدائیں ہاتھ کا تیز، میڈیم گیند باز
حیثیتآل راؤنڈر
تعلقاتہیری ٹروٹ (بھائی)
بین الاقوامی کرکٹ
قومی ٹیم
پہلا ٹیسٹ (کیپ 71/116)11 جنوری 1895 
آسٹریلیا  بمقابلہ  انگلینڈ
آخری ٹیسٹ1 اپریل 1899 
انگلینڈ  بمقابلہ  جنوبی افریقہ
ملکی کرکٹ
عرصہٹیمیں
1901–1902ہاکس بے
1900–1904لندن کاؤنٹی
1898–1910 مڈل سیکس
1896–1911میریلیبون کرکٹ کلب (ایم سی سی)
1892–1896 وکٹوریہ
کیریئر اعداد و شمار
مقابلہ ٹیسٹ فرسٹ کلاس
میچ 5[1] 375
رنز بنائے 228 10,696
بیٹنگ اوسط 38.00 19.48
100s/50s 0/2 8/44
ٹاپ اسکور 85* 164
گیندیں کرائیں 948 71,388
وکٹ 26 1,674
بولنگ اوسط 15.00 21.09
اننگز میں 5 وکٹ 2 131
میچ میں 10 وکٹ 0 41
بہترین بولنگ 8/43 10/42
کیچ/سٹمپ 4/– 452/–
ماخذ: CricketArchive، 2 دسمبر 2008

ذاتی زندگیترميم

ٹراٹ ایبٹس فورڈ، میلبورن، آسٹریلیا میں پیدا ہوا تھا۔ وہ اکاؤنٹنٹ ایڈولفس ٹروٹ اور ان کی اہلیہ مریم این (نی سٹیفنز) کے آٹھ بچوں میں سے ایک تھا۔ ان کے بڑے بھائی، ہیری ٹراٹ نے بھی آسٹریلیا کے لیے ٹیسٹ کرکٹ کھیلی۔ انہوں نے مقامی کیپولٹ کلب کے ساتھ جونیئر کرکٹ کھیلی اور پھر آسٹریلیا کے مقامی اول درجہ کرکٹ کے لیے شیفیلڈ شیلڈ میں وکٹوریہ کے لیے اکٹھے کھیلے۔

کرکٹ کیریئرترميم

ٹراٹ کی کہانی آسٹریلوی کرکٹ کی تاریخ کے ایک عظیم معمہ کی نمائندگی کرتی ہے۔ وکٹوریہ کے لیے صرف تین اول درجہ میچوں کے بعد، وہ 1894-95ء میں ایڈیلیڈ میں تیسرے ٹیسٹ میں اے ای سٹوڈارٹ کی انگلینڈ ٹیم کے خلاف ٹیسٹ میچ کے لیے طلب کئے گئے، جس میں انہوں نے ایک شاندار آغاز کیا جس میں اپنی پھینکی ہوئی، گول بازو کی باؤلنگ سے 43 رنز کے عوض 8 وکٹیں حاصل کیں۔ اور 38 اور 72 رنز بنائے، دونوں دفعہ ناٹ آؤٹ رہے حالانکہ وہ 10 ویں نمبر پر بیٹنگ کر رہے تھے۔ آسٹریلیا نے یہ میچ 382 رنز سے جیت لیا۔ اس نے سڈنی میں چوتھے ٹیسٹ میں آسٹریلیا کی واحد اننگز میں 85 (دوبارہ ناٹ آؤٹ) اسکور کرکے اپنی ٹیم کو بھرپور تقویت دی۔ لیکن حیرت انگیز طور پر ٹروٹ کو کپتان جارج گفن نے باؤلنگ کرنے کے لیے نہیں کہا، انگلینڈ کو ہیری ٹروٹ، چارلی ٹرنر اور جارج گیفن نے دو بار کم سکور میں آؤٹ کیا جس کی بدولت آسٹریلیا نے ایک اننگز اور 147 رنز سے اس ٹیسٹ میں کامیابی سے سیریز 2-2 سے برابر کر دی۔ ٹروٹ نے میلبورن میں دوبارہ 5واں ٹیسٹ کھیلا، جسے انگلینڈ نے ایشز جیتنے کے لیے جیت کر دوسری اننگز میں صرف چار وکٹوں کے نقصان پر 297 رنز کے ہدف کا تعاقب کیا۔ البرٹ کے بھائی، ہیری ٹروٹ کو 1896ء میں انگلینڈ کا دورہ کرنے والی آسٹریلوی ٹیم کا کپتان نامزد کیا گیا تھا۔ انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں البرٹ کا بلے سے اوسط 102.5 کے باوجود اس دورے کے لیے منتخب نہیں کیا گیا۔ بہر حال، ٹراٹ 1896ء میں اسی جہاز پر آزادانہ طور پر انگلینڈ کے لیے روانہ ہوا جس میں آسٹریلوی مہمان ٹیم بھی سفر لر رہی تھی۔

انتقالترميم

البرٹ ایڈون ٹراٹ' 30 جولائی 1914ء کو ولزڈن گرین، مڈل سیکس میں 41 سال اور 174 دن کی عمر میں رخصت ہوِئے۔[4]

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم

  1. Trott played three Test matches for Australia, and two for England. His highest score and best bowling both occurred for Australia.
  2. https://en.wikipedia.org/wiki/Albert_Trott
  3. https://en.wikipedia.org/wiki/Albert_Trott#cite_note-Beard-2
  4. https://www.espncricinfo.com/player/albert-trott-21593