اللہ بخش سومرو(1900ء-14 مئی 1943ء) صوبہ سندھ کے دو مرتبہ وزیر اعلیٰ اور اتحاد پارٹی کے سرگرم سیاسی کارکن تھے۔ انھوں نے یہ پہلی دفعہ منصب 23مارچ 1938ء سے 18 اپریل 1940ء تک جبکہ دوسری دفعہ 7 مارچ 1941ء سے 14 اکتوبر 1942ء تک سنبھالا۔ "اللہ بخش سومرو" 1900ء میں سندھ کے مشہور شہر شکارپور میں پیدا ہوئے۔ شکارپور اس زمانے شہر علم، ہنر اور واپار کے لحاظ سے بہت مشہور تھا۔ اللہ بخش سومرو اپنے اباء اجداد کے شہر میں سندھی، انگریزی، فارسی اور عربی کی تعلیم حاصل کی، میٹرک پاس کرنے کے بعد تعلیم چھوڑ کر ملازمت کا کام شروع کیا۔ آپ کو اچھے اخلاق کی وجہ سے انگریز بھی متاسر ہوئے۔

اللہ بخش سومرو
وزیر اعلیٰ سندھ
مدت منصب
مارچ 23, 1938 – اپریل 18, 1940
گورنر
Fleche-defaut-droite-gris-32.png غلام حسین ہدایت اللہ
میر بندہ علی خان ٹالپر Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
مدت منصب
March 27, 1942 – October 14, 1942
گورنر
Fleche-defaut-droite-gris-32.png میر بندہ علی خان ٹالپر
غلام حسین ہدایت اللہ Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1900  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شکارپور، پاکستان  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ وفات 14 مئی 1943 (42–43 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
طرز وفات قتل  ویکی ڈیٹا پر (P1196) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مذہب Muslim - اہل سنت
جماعت سندھ اتحاد پارٹی  ویکی ڈیٹا پر (P102) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اولاد Rahim Bux, Hyder Bux, Abdul Samad, Razia, Safia, Afroze, Qudsia and Saeeda
عملی زندگی
پیشہ سیاست دان  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

1926ء میں ممبئی کائونسل کے میمبر چنے گئے۔ اس زمانے سندھ ممبئی سے ملا ہوئا تھا۔ پھر سندھ کے لوگوں ہلچل چلانے کے بعد آخرکار 1936ء میں سندھ ممبئی سے جدا صوبہ ہوا۔ اللہ بخش سومرو وہ سارا عرصہ ممبئی کائونسل کے میمبر تھے۔ 1938ء میں وہ سندھ کے وزیر اعلی ہونے کے بعد، سندھ کو سودارنے کے لیے کتنے ہی کام کیے۔ جیسا کہ سکھر دریاہوں کا نظام ٹھیک کرنا، صوبہ سندھ کا خرچ کم کرنا، عام لوگوں پر جرمانہ نہ ڈالنا، اعزازی مئجسٹریٹن کو ختم کرنا، لوکل بورڈ میں پسے ہوئے ممبروں کو ختم کرنا، سندھ ٹیچرس کی تنخوا بڑہانا، مولانا عبد اللہ سندھی کو واپس سندھ میں بلوانا، سندھ فرنٹیئر ریگولیشن کو ختم کرنا اور اپنی تنخوا کم کرنا وغیرہ شامل تھا۔

ڈسمبر 1939ء اور آکٹوبر کو سندھ میں سکھر کی مسجدوں میں منزل گاہ سے ہندو، مسلم فصادات پیدا ہوئے۔ کچھ وقت کے لیے وزارت سے ہاتھ دھونا پڑا۔ پھر جلد ہی سربراہی وزارت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ آزادی کی ہلچل دوران اپریل 1940ء میں قوم پرست سربراہ دہلی میں ایک بڑی کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت اللہ بخش سومرو نے کی۔ اس کانفرنس کو "آزادی کانفرنس" نام پڑا۔ ان میں ہندوستان کے سمورے مسلمان رہنماء شریک ہوئے۔ اسی طرح اپنا نام پورے ہندستان میں مشہور ہو گیا۔ اس کے بعد انگریز سرکار کے سخت رویی سبب، برطانوی سرکار سے ملا ہوا "خان بھادر" اور O.B.E کے لقب، انگریز وائسراء کو خط لکھ کے واپس کیے۔ خط میں تھا کہ "وہ میری مضبوط رائے ہے کہ" ہم آزادی کا حق رکھتے ہیں۔ پھر بھی انگریز سرکار کے بیان اور کاروایاں یہ ثابت کرتی ہیں کہ، وہ یہاں کے مختلف سیاسی پارٹیوں کو ایک نہیں ہونے دیتی۔ اور ملک پر اپنا قبضہ قائم رکھنا چاہتی ہے۔ انگلستان کی وزیر اعظم کی تقریر نے ناامیدی پیدا کی ہے۔ اس لیے ایسی سرکار کے دئے ہوئے لقب میں اپنے پاس نہیں رکھہ سکتا اور واپس کرتا ہوں۔" اس خط پر انگریز سرکار بہت ناراض ہوئی اور وزیر اعلی کے اوہدے سے ہٹا دیا۔ اللہ بخش سومرو کے اوپر اس بات کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ آپ ہمیشہ جیسے دکھے وقت میں سندھ کے لوگو کے ساتھ رہے اور خدمت کرنے میں کوئی بھی کسر نہیں چھوڑی۔

شھید اللہ بخش سومرو ایک بااصول اور سوجاگر طبیعت مزاج شخص تھے۔ سندھ کے وزیر اعلی کے چار سال رہے۔ پر تب بھی غریب سیاسی رفیقوں سے برابری والا برتؤ قائم رکھا۔ اتنے تک کہ آپ ہاتھ دھولا کر کھانا کھلاتے تھے۔ سخاوت اور سورہیائی ہر جگہ مشہور تھی۔ وہ اپنے مخالفوں کو بھی پیار سے اپنا کرنا چاہتے تھے۔ وہی باتیں سیاسی مخالفوں کو اچھی نہیں لگیں۔ یہ وجہ لے کر سازشیں کرنے لگے

14مئی 1943ء پر صبح کے وقت وہ شکارپور میں ٹاگے پر سوار ہوکر، اپنے گھر جا رہے تھے۔ تو کچھ مخالفین پستول کے سیدھے فائر کر کہ شھید کر دیا۔ وہی بات سندھ میں جنگ کی آگ جیسی پھل گئی۔ پورے شہر میں گہرام مچ گیا۔ لوگ اوچھنگاروں دے کے رونے لگے۔ آپ کو نمی ہوئی آکھوں سے اباؤ اجداد کے قبرستان میں"پنج پیر" میں دفنایا گیا۔ شھید اللہ بخش سومرو آج ہمرے پاس موجود نہیں ہے۔ پر کی ہوئی خدمتیں ہمیشہ یاد رہیں گیں۔