انس بن حارث کاہلی

شہدائے کربلا میں سے ایک


أنس بن الحارث الكاهلي الأسدي (شہادت 61هـ/ 680ء) أصحاب النبي محمد و أصحاب الحسين بن علي بن أبي طالب میں سے تھے، آپ نے غزوہ بدر وغزوہ حنین میں شرکت کی اور آپ نے معركة كربلاء| میں شرکت کی اور شہید ہوئے. آپ کوفہ شیعوں میں سے تھے.[1]

انس بن حارث کاہلی
معلومات شخصیت

نسبترميم

أنس بن الحارث بن نبيه بن كاهل بن عمرو بن صعب بن أسد بن خزيمة الأسدي الكاهلي.[2]

صحابیتترميم

یہ بھی رسول کے صحابی تھے اور جنگ بدروحنین میں شرکت کی تھی۔ ابن عبدالبر اپنی کتاب الاستیعاب میں لکھتے ہیں کہ حضرت انس بن حارث نے رسول خدا سے سنا تھا کہ آپ نے فرمایا میرا بیٹا (حسین)کربلا کی سرزمین پر قتل کیا جائے گا، جو شخص اس وقت زندہ ہو اس کے لیے ضروری ہے کہ میرے بیٹے کی مدد و نصرت کو پہنچے چنانچہ انس بن حارث نے پیغمبر کے اس فرمان پر لبیک کہتے ہوئے کربلا میں شرکت کی اور امام حسین کے قدموں پر اپنی جان نچھاور کر دی۔ ابن عساکر لکھتے ہیں کہ انس بن حارث ان عظیم اصحاب رسول میں سے تھے جنہیں حضرت پیغمبر کی زیارت نصیب ہوئی اور انہیں اصحاب صفہ میں شمار کیا جاتا ہے۔


مقتلترميم

آپ سن 61ھ میں کربلا کی لڑائی میں جيش يزيد کے 18 سپاہیوں کو قتل کرنے کے بعد شہید ہوئے، آپ یہ رجز پڑھتے ہوئے حملہ آور ہوئے:[2][3]

قد علمت كاهلنا وذودان والخندفيون وقيس علان
بان قومي آفة للاقران يا قوم كونوا كأسود خفان
آل علي شيعة الرحمن وآل حرب شيعة الشيطان

انس بن حارث کاہلی صحابی رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تھے۔ نیز شہدائے کربلا میں سے تھے۔ جنہوں نے واقعہ کربلا میں امام حسین کی فوج میں شمولیت اختیار کی۔

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم

  1. موسوعة عاشوراء
  2. ^ ا ب "أعيان الشيعة - السيد محسن الأمين - ج 3 - الصفحة 500". 04 جنوری 2017 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 09 ستمبر 2019. 
  3. "مستدركات علم رجال الحديث - الشيخ علي النمازي الشاهرودي - ج 1 - الصفحة 701". 04 جنوری 2017 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 09 ستمبر 2019.