}} انیل دلپت سوناوریا (پیدائش:20 ستمبر 1963ء کراچی) پاکستانی سابق کرکٹ کھلاڑِی تھے جنھوں نے 1984ء سے 1986ء تک 9 ٹیسٹ اور 15 ایک روزہ بین الاقوامی میچز کھیلے بوہ پاکستان کے لیے ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے والے پہلے ہندو برادری کے فرد تھے ۔ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد وہ اپنے خاندان کے ساتھ کینیڈا چلے گئے جہاں انھوں نے کاروبار شروع کیا۔ انیل دلپت ایک نچلے آرڈر کے بلے باز اور وکٹ کیپر تھے اور 1980ء کی دہائی کے اوائل میں جب وسیم باری زخمی ہو گئے تھے، ایک مختصر وقفے کے لیے پاکستان کی نمائندگی کا اعزاز ملا۔ انیل دلپت کے پاس فرسٹ کلاس کرکٹ کا وسیع تجربہ اور کیریئر رہا ہے اور وہ ایک اور ہندو برادری کے فرد دانش کنیریا کے کزن ہیں۔ اور ان کا تعلق راجستھانی ورثے سے تعلق رکھتے ہیں۔انیل دلپت ان متعدد وکٹ کیپرز میں سے ایک تھے جنہیں وسیم باری کی ریٹائرمنٹ کے بعد موقع دیا گیا۔انیل دلپت نے کراچی اور پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کی طرف سے کرکٹ کھلی۔

انیل دلپت ٹیسٹ کیپ نمبر98
فائل:Anil dalpat.jpeg
ذاتی معلومات
مکمل نامانیل دلپت سوناوریا
پیدائش (1963-09-23) 23 ستمبر 1963 (عمر 60 برس)
کراچی, سندھ, پاکستان
بلے بازیدائیں ہاتھ کا بلے باز
گیند بازی
حیثیتوکٹ کیپر
تعلقاتدانش کنیریا (کزن)
بین الاقوامی کرکٹ
قومی ٹیم
پہلا ٹیسٹ (کیپ 98)2 مارچ 1984  بمقابلہ  انگلینڈ
آخری ٹیسٹ9 فروری 1985  بمقابلہ  نیوزی لینڈ
پہلا ایک روزہ (کیپ 47)26 مارچ 1984  بمقابلہ  انگلینڈ
آخری ایک روزہ27 اکتوبر 1986  بمقابلہ  ویسٹ انڈیز
کیریئر اعداد و شمار
مقابلہ ٹیسٹ ایک روزہ فرسٹ کلاس لسٹ اے
میچ 9 15 137 53
رنز بنائے 167 87 2,556 303
بیٹنگ اوسط 15.18 12.42 17.75 12.62
100s/50s 0/1 0/0 0/9 0/0
ٹاپ اسکور 52 37 92* 40*
کیچ/سٹمپ 22/3 13/2 307/123 48/25
ماخذ: کرک انفو، 4 فروری 2006

کیرئیر

ترمیم

انیل دلپت نے اپنے ڈیبیو پر، 1983-84ء میں کراچی میں انگلینڈ کے خلاف، عبد القادر کی اسپن کو اچھی طرح سے برقرار رکھا کیونکہ پاکستان تین وکٹوں سے جیت گیا۔ اپنے 9 ٹیسٹوں میں، انھوں نے 1984-85ء میں کراچی میں نیوزی لینڈ کے خلاف 25 ناٹ آؤٹ اور سب سے زیادہ 52 رنز بنائے۔ دلپت دانش کنیریا کے پہلے کزن ہیں، جنھوں نے انگلینڈ کے خلاف 2000-01ء کی سیریز میں پاکستان کے لیے ٹیسٹ ڈیبیو کیا تھا 1983-84ء میں انیل دلپت نے 67 بلے بازوں کو اپنا شکار بنایا جو پاکستان کا اپنے ملک میں ایک ریکارڈ ہے۔

ٹیسٹ کرکٹ

ترمیم

آنیل دلپت کو 1984ء میں انگلستان کے خلاف ہوم سیریز میں کراچی کے مقام پر ٹیسٹ میچ کا حصہ بنایا گیا۔جہاں اس نے پہلی اننگ میں 12 اور دوسری باری۔میں 16 ناٹ آوٹ بنائے۔اسی سیریز کے دوسرے ٹیسٹ میں اس نے اگرچہ وکٹ کے پیچھے ایک کھلاڑی کو کیچ کیا اور ایک کو اسے سٹمپ کرنے کا موقع مل گیا تاہم بیٹنگ میں وہ صرف 8 رنز ہی بنا سکا مگر لاہور میں منعقدہ ٹیسٹ میں اس نے 3 کھلاڑیوں کو کیچ جبکہ ایک کو سٹمپ کرکے اپنی ذمہ داریوں سے آگاہی کا پیغام عام کیا۔ اسی سیزن میں اس نے نیوزی لینڈ کے خلاف 6 ٹیسٹوں میں حصہ لیا۔ سب سے پہلے نیوزی لینڈ کی ٹیم جب پاکستان کے دورے پر آئی تو لاہور میں منعقدہ پہلے ٹیسٹ میں پاکستان نے 6 وکٹوں سے کامیابی حاصل کی۔ نیوزی لینڈ کی ٹیم 157 رنز پر آئوٹ ہو گئی تھی جس میں مارٹن کرو 55 اور آئن سمتھ 41 کے ساتھ نمایاں سکورر تھے۔ انیل دلپت نے جیک کرو صفر، جان رائٹ 1 کو وکٹوں کے پیچھے شکار کیا۔ بیٹنگ میں اگرچہ وہ 11 رنز ہی بنا سکے مگر نیوزی لینڈ کی دوسری باری میں انیل دلپت نے کیوی کپتان جرمی کونی اور ڈیرک سٹرلنگ کی وکٹیں اپنے قبضہ میں کیں۔ اگلے ٹیسٹ میں حیدرآباد کے مقام پر اس نے پھر 2 کیوی کھلاڑیوں کو کیچ اور 1 کو سٹمپ کی صورت میں پویلین کا راستہ دکھایا۔ کراچی کا تیسرا ٹیسٹ انیل کے لیے اس لحاظ سے خوش قسمت ثابت ہوا کہ اس نے پہلی اننگ میں کھیلتے ہوئے 52 رنز بنائے جو اس کے ٹیسٹ کیریئر کا سب سے بڑا سکور ہے جبکہ وکٹوں کے پیچھے اس نے 3 کھلاڑیوں کو آئوٹ کیا۔ جنوری 1985ء میں پاکستان نے نیوزی لینڈ کا جوابی دورہ کیا تو انیل ٹیم کے ہمراہ تھے۔ یہ ان کی آخری سیریز ثابت ہوئی جس میں انھوں نے ولنگٹن کے پہلے ٹیسٹ میں 3 اور آکلینڈ کے دوسرے ٹیسٹ میں 1 کھلاڑی کو شکار کیا مگر ڈونیڈن کے آخری ٹیسٹ میں انھوں نے بیٹنگ میں 16 اور 21 رنز بنانے کے ساتھ ساتھ 4 کیوی کھلاڑیوں جرمی کونی، رچرڈ ہیڈلی، لارنس کیرنز اور جان ریڈ کو وکٹوں کے پیچھے دبوچ کر اس آخری ٹیسٹ کو یادگار بنا لیا۔

ون ڈے

ترمیم

ان کے ون ڈے کیریئر کا آغاز 1983ء میں انگلستان ہی کے خلاف کراچی میں ہوا۔جس میں وہ صفر پر آئوٹ ہونے کے بعد صرف ایک کیچ ہی لے سکے۔ انھوں نے ون ڈے میچوں میں بیٹنگ کے شعبے میں نیوزی لینڈ کے خلاف نیپیئر کے مقام پر 21 ناقابل شکست رنز سکور کیے جبکہ کرائسٹ چرچ کے مقام پر اس کے رنز کی تعداد 37 رہی جو اس کے ایک روزہ بین الاقوامی کیریئر کا سب سے زیادہ انفرادی سکور ہے۔ وکٹ کیپنگ کے شعبے میں 12 نومبر 1984ء کو پشاور میں کھیلے جانے والے ایک روزہ مقابلوں میں اس نے 3 کھلاڑیوں کو اپنا نشانہ بنایا۔ اس کے ایک روزہ بین الاقوامی کیریئر کا آخری میچ پشاور میں تھا جس میں اس نے 3 رنز بغیر آئوٹ ہوئے بنائے تاہم وہ کسی کھلاڑی یا سٹمپ کرنے میں ناکام رہے۔

اعداد و شمار

ترمیم

انیل دلپت نے 9 ٹیسٹ میچوں کی 12 اننگز میں ایک دفعہ ناٹ آئوٹ رہ کر 167 رنز بنائے۔ 15.18 کی اوسط سے بننے والے اس سکور میں 52 اس کا سب سے زیادہ کسی ایک اننگ کا انفرادی سکور تھا۔ انھوں نے ایک نصف سنچری بھی سکور کی۔ 15 ایک روزہ مقابلوں کی 10 اننگز میں اس نے 3 دفعہ ناٹ آئوٹ رہ 87 رنز بنائے۔ 37 اس کی کسی ایک اننگ کا سب سے زیادہ انفرادی سکور تھا۔ 12.42 کی اوسط سے یہ رنز بنے تھے۔ انیل دلپت نے 137 فرسٹ کلاس میچوں کی 185 اننگز میں 37 دفعہ ناٹ آئوٹ رہ کر 2556 رنز ترتیب دیے۔ ان میں 92 ناقابل شکست رنز کسی ایک اننگ کا زیادہ سے زیادہ سکور تھا جس کے لیے انھیں 17.75 کی اوسط حاصل ہوئی۔ انیل دلپت نے وکٹ کیپنگ کے شعبے میں ٹیسٹ میچوں میں 22 کیچ اور 3 سٹمپ کے ساتھ 25 شکار، ایک روزہ مقابلوں میں 13 کیچ، 2 سٹمپ کے ساتھ 15 شکار اور فرسٹ کلاس میچوں میں 307 کیچز اور 123 سٹمپ کے ساتھ 430 شکار کیے۔

مزید دیکھیے

ترمیم

حوالہ جات

ترمیم