ایم ایم عالم

پاک بھارت جنگ 1965ء کے نامور پاکستانی جنگی ہوا باز جنہوں نے 7 ستمبر 1965ء کو پانچ بھارتی طیارے ایک منٹ سے کم وقت میں مار گرائے۔

محمد محمودعالم (جنہیں ایم ایم عالم بھی کہا جاتا ہے) پاکستان کے جنگی ہواباز تھے۔ جن کی وجہ شہرت ایک منٹ میں سب سے زیادہ طیارے مار گرانے کا ریکارڈ ہے۔

ایم ایم عالم
Muhammad Mahmood Alam in 2010.jpg
 

معلومات شخصیت
پیدائش 6 جولا‎ئی 1935  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کولکاتا  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 18 مارچ 2013 (78 سال)[1]  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کراچی  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ پائلٹ  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عسکری خدمات
شاخ پاک فضائیہ  ویکی ڈیٹا پر (P241) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
لڑائیاں اور جنگیں پاک بھارت جنگ 1965ء  ویکی ڈیٹا پر (P607) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
محمد محمودعالم

ایم۔ایم۔ عالم کا پورا نام محمد محمود عالم ہے۔ پاک بھارت جنگ 1965ء کے نامور پاکستانی جنگی ہوا باز جنھوں نے 7 ستمبر 1965ء کو پانچ بھارتی طیارے ایک منٹ سے کم وقت میں مار گرائے۔ یہ گنیز بک ورلڈ ریکارڈ کے مطابق ایک منٹ میں سب سے زیادہ طیارے مار گرانے کا ریکارڈ ہے ۔

ابتدائی حالات

6 جولائی 1935 کو کلکتہ کے ایک خوشحال اور تعلیم یافتہ گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ثانوی تعلیم 1951 میں سندھ گورنمنٹ ہائی اسکول ڈھاکہ (سابقہ مشرقی پاکستان )سے مکمل کی۔ 1952 میں فضائیہ میں آئے اور 2 اکتوبر 1953 کو کمیشنڈ عہدے پر فائز ہوئے۔ ان کے بھائی ایم شاہد عالم ایک معاشیات کے پروفیسر تھے نارتھ ایسٹرن یونیورسٹی میں اور ایک اور بھائی ایم سجاد عالم SUNY البانی میں طبعیات دان تھے۔1965 کی جنگ میں پاکستان کے لیے نمایاں کارنامہ انجام دیا۔ سقوط مشرقی پاکستان کے بعد ان کی فیملی پاکستان میں قیام پزیر رہی۔

 
محمد محمودعالم

پاک فضائیہ میں خدمات

1965ء کی جنگ کے بعد 1967ء میں آپ کا تبادلہ بہ طور اسکواڈرن کمانڈر برائے اسکواڈرن اول کے طور پر ڈسالٹ میراج سوم لڑاکا طیارہ کے لیے ہوا جو پاکستان ایئر فورس نے بنایا تھا۔ 1969ء میں ان کو اسٹاف کالج کے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ 1972ء میں انہوں نے 26ویں اسکواڈرن کی قیادت دو مہینے کے لیے کی۔ بنگالی ہونے کی وجہ سے 71 کی جنگ میں آپ کو ہوائی جہاز اڑانے کی اجازت نہیں دی گئی[حوالہ درکار] 1982ء میں ریٹائر ہو کر کراچی میں قیام پزیر ہوئے۔

وجہ شہرت

سکواڈرن لیڈر محمد محمود عالم کو یہ اعزاز جاصل ہے کے انھوں نے 1965 کی پاک بھارت جنگ میں سرگودھا کے محاذ پر پانچ انڈین ہنٹر جنگی طیاروں کو ایک منٹ کے اندر اندر مار گرایا جن میں سے چار 30 سیکنڈ کے اندر مار گرائے تھے۔ یہ ایک عالمی ریکارڈ تھا۔ اس مہم میں عالم صاحب ایف 86 سیبر طیارہ اڑا رہے تھے جو اس زمانے میں ہنٹر طیارے سے تین درجے فرو تر تھا۔ مجموعی طور پر آپ نے 9 طیارے مار گرا‎ئے اور دو کو نقصان پہنچایا تھا۔ جن میں چھ ہاک ہنٹر طیارے تھے۔[2][3][4][5][6][7]

اس کارنامے میں درج ذیل نقصانات دشمن کے ہوئے :

بھارتی فضائیہ کی طرف سے ایم ایم عالم کے اس کارنامے کے تصدیق کے طور پر چار طیاروں کے مارے جانے کی اطلاع ملی پانچویں طیارے اسکواڈرن لیڈر اونکار ناتھ کیکر کسی زمینی حملے کا شکار ہوئے تھے۔[9]

دیگر کارنامے

بنگالی ہونے کی وجہ سے 71 کی جنگ میں آپ کو ہوائی جہاز اڑانے کی اجازت نہیں دی گئی، مگر آپ نے جنگ سے بعد پاکستان میں ہی قیام کیا۔ جمعہ کے خطبہ میں فضائیہ کے سربراہ انور شمیم پر تنقید کرنے پر آپ کو ملازمت سے سبکدوش کر دیا گیا۔

اعزازات

1965ء کی جنگ کے مذکورہ بے مثال جرات اور بہادری سے بھرپور کارنامے پر ایم ایم عالم کو ستارہ جرات سے نوازا گیا۔[10]

یادگار

لاہور میں گلبرگ کے علاقے میں ایک اہم سڑک کا نام فخر پاک فضائیہ ایئر کموڈور محمد محمود عالم کے نام پر ایم ایم عالم روڈ رکھا گیا۔ اسکواڈرن لیڈر زاہد یعقوب عامر نے ان کی سوانح حیات پر مشتمل کتاب لکھی ہے،

آخری ایام

طویل عرصے تک علیل رہنے کے بعد 18 مارچ 2013ء کو پھیپھڑے کے مرض سے کراچی میں ان انتقال ہوا۔[11] نماز جنازہ پی اے ایف بیس مسرور میں ادا کی گئی۔ مرحوم نے سوگواران میں تین بھائی اورایک بہن چھوڑے۔

جاوید چوہدری سے اقتباس

وہ لوگ بنگال میں بہاری کہلاتے تھے، کیوں کہلاتے تھے؟ اس کی وجہ پٹنہ تھا، وہ لوگ پٹنہ سے کلکتہ آئے تھے، صوبہ اور زبان تبدیل ہو گئی لیکن لہجہ نہ بدل سکا چنانچہ بنگالی بولنے کے باوجود بنگالی انھیں بہاری کہتے تھے، وہ اس بہاری بنگالی خاندان میں 6 جولائی 1935ء کو پیدا ہوئے، وہ خاندان کے سب سے بڑے بچے تھے۔
والد کثیر الاولاد تھے چنانچہ ان کے 11 بہن بھائی تھے،پاکستان بنا تو یہ لوگ کلکتہ سے ڈھاکا شفٹ ہو گئے، ملک اپنا تھا لیکن یہ اپنے ملک میں بنگالی بن گئے، ڈھاکا کے گورنمنٹ ہائی اسکول میں داخل ہوئے، 1952ء میں پاکستان ائیرفورس جوائن کی، 1953ء میں کمیشن مل گیا، والد فوج کی نوکری کے خلاف تھے، کیوں خلاف تھے؟ وجہ خاندان کا پس منظر تھا، خاندان میں کسی شخص نے کبھی فوجی ملازمت نہیں کی تھی، والد کی خواہش تھی یہ پڑھیں لکھیں، سی ایس ایس کریں اور اعلیٰ سرکاری عہدہ حاصل کریں۔
وہ فوجی سروس میں جان لینے اور جان دینے کے خلاف تھے لیکن یہ ڈٹ گئے اور یوں ان کا ائیر فورس کا کیریئر شروع ہو گیا، شادی کی عمر ہوئی تو شادی سے انکار کر دیا، ان کا کہنا تھا، میرے کندھوں پر گیارہ لوگوں کی ذمے داری ہے، میں جب تک یہ ذمے داری پوری نہ کر لوں میں شادی نہیں کروں گا، 1965ء کی پاک بھارت جنگ شروع ہوئی، بھارت نے 6 ستمبر کو لاہور پر حملہ کر دیا، پاک فضائیہ کو 7 ستمبر کو بھارت پر حملے کا حکم ہوا، وہ اس وقت اسکواڈرن لیڈر تھے اور پی اے ایف سرگودھا میں تعینات تھے، وہ بھی حملے کے لیے روانہ ہوئے، وہ بھارتی سرحد پر پہنچے تو ان کی مڈ بھیڑ بھارت کے پانچ ہنٹر طیاروں سے ہو گئی۔

بھارتی طیارے ان کے ایف 86 سیبر پر پل پڑے، اس حملے نے انھیں جرأت، بہادری، دانش مندی اور مہارت کا آسمان چھونے کا موقع دے دیا، انھوں نے دس سیکنڈ میں بھارت کا پہلا طیارہ گرایا اور پھر صرف تیس سیکنڈ میں بھارت کے باقی چار طیارے بھی مار گرائے، یہ پورا آپریشن صرف 45 سیکنڈ پر محیط تھا، اسکواڈرن لیڈر محمد محمود عالم نے 45 سیکنڈ میں بھارت کے پانچ طیارے گرائے اور اطمینان سے سرگودھا ائیر بیس پر اتر گئے۔
یہ ورلڈ ریکارڈ تھا،یہ آج بھی ورلڈ ریکارڈ ہے، بنگال کا بیٹا پاکستان کا ہیرو بن چکا تھا، بنگال کا وہ بیٹا آج بھی پاکستان اور پاکستانیوں کا ہیرو ہے لیکن پھر اس ہیرو کے ساتھ کیا ہوا، یہ کہانی ہمارے اجتماعی ضمیر اور ہماری قومی نفسیات کا مکمل اور جامع ڈاکومنٹ ہے، یہ کہانی کیا تھی؟ آپ اس کہانی کی طرف جانے سے قبل اس ہیرو کا وہ نام بھی جان لیں جس سے اسے دنیا یاد کرتی ہے، جی ہاں! وہ ہمارے ایم ایم عالم ہی ہیں، ہمارے اصلی ہیرو۔
ایم ایم عالم نڈر تھے، بے باک تھے، جرأت مند اور کھرے تھے لہٰذا ان کی اڑان روکنا بھی مشکل تھا اور زبان بھی ۔ وہ بڑی سے بڑی بات منہ پر دے مارتے تھے، یہ جرأت مندی آہستہ آہستہ اس قومی ہیرو کو نگل گئی، وہ مشرقی پاکستان کے حالات سے دل برداشتہ تھے،وہ ببانگ دہل کہتے تھے، بنگالیوں کے ساتھ بہتر سلوک نہیں ہو رہا لیکن ان کے خیالات کو لسانیت قرار دے کر مسترد کر دیا جاتا تھا، وہ 1969ء میں اسٹاف کالج میں تھے لیکن ان کے ’’باغیانہ‘‘ خیالات کی وجہ سے انھیں اسٹاف کالج سے فارغ کر دیا گیا، 1971ء میں پاکستان ٹوٹا تو ایم ایم عالم کا خاندان ڈھاکا میں تھا، ان کے ساتھیوں کا خیال تھا ، ایم ایم عالم ائیر فورس چھوڑ کر بنگلہ دیش چلے جائیں گے لیکن وہ ایک سچے پاکستانی تھے۔
انھوں نے نہ صرف پاکستان چھوڑنے سے انکار کر دیا بلکہ وہ اپنے خاندان کو بھی بنگلہ دیش سے پاکستان لے آئے یوں خاندان نے سو سال میں تین ہجرتوں کے دکھ سہے، پہلی ہجرت پٹنہ سے کلکتہ تھی، دوسری ہجرت کلکتہ سے ڈھاکا تھی اور تیسری ہجرت دوسری ہجرت سے محض 26 برس بعد ایک پاکستان سے دوسرے پاکستان کی طرف تھی،مشرقی پاکستان کے سانحے نے ایم ایم عالم کے ذہن پر دو اثرات مرتب کیے، پہلا اثر ان کی زبان پر ہوا، ان کی زبان کی کڑواہٹ میں اضافہ ہو گیا، وہ پاکستان کے نام پر لڑنے مرنے کے لیے تیار ہو جاتے تھے۔
دوسرا اثر ان کے ذہن پر ہوا، وہ مذہبی ہو گئے اور وہ اپنا زیادہ وقت دینی کتابوں اور عبادت کو دینے لگے، جنرل ضیاء الحق نے 1977ء میں مارشل لاء لگایا، ایم ایم عالم مارشل لاء کے خلاف تھے، وہ بار بار کہتے تھے، ہماری ان غلطیوں کی وجہ سے مشرقی پاکستان ہم سے الگ ہو گیا، ہم نے اگر یہ غلطیاں جاری رکھیں تو ہم باقی ماندہ پاکستان بھی کھو دیں گے، وہ جنرل ضیاء الحق کے خلاف تھے، وہ انھیں ایسے ایسے القابات سے نوازتے تھے جو تحریر میں نہیں لائے جا سکتے، خفیہ ادارے ان کی گفتگو ریکارڈ کرتے تھے، 1982ء میں انور شمیم ائیر فورس کے چیف تھے، یہ صدر جنرل ضیاء الحق کے دوست بھی تھے۔
یہ دونوں اردن میں اکٹھے رہے تھے، ائیر مارشل انور شمیم شاندار انسان تھے لیکن وہ اپنی بیگم کے زیر اثر تھے، بیگم صاحبہ پر کرپشن کے الزامات لگ رہے تھے، ایم ایم عالم ائیر فورس کے میس میں ان الزامات کا ببانگ دہل ذکر کرتے تھے، وہ بار بار کہتے تھے، جنرل ضیاء الحق اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر ملک کو تباہ کر رہے ہیں، خفیہ ادارے نے یہ گفتگو ٹیپ کر کے چیف آف ائیر اسٹاف کو پہنچا دی، انور شمیم یہ ٹیپ لے کر جنرل ضیاء الحق کے پاس چلے گئے۔
جنرل ضیاء الحق نے ٹیپ سنی اور ایم ایم عالم کو ائیر فورس سے فارغ کرنے کا حکم دے دیا اور یوں پاکستان کے ہیرو اور ائیر فورس کے ہسٹری کے ورلڈ ریکارڈ ہولڈر ایم ایم عالم کو 1982ء میں قبل از وقت ریٹائر کر دیاگیا، وہ اس وقت ائیر کموڈور تھے،ایم ایم عالم کی پنشن سمیت تمام مراعات روک لی گئیں، وہ درویش صفت انسان تھے، دنیا میں ان کا کوئی گھر نہیں تھا، شادی انھوں نے کی نہیں تھی لہٰذا وہ ریٹائرمنٹ کے بعد چک لالہ ائیر بیس کے میس میں مقیم ہو گئے، وہ ایک کمرے تک محدود تھے، کتابیں تھیں، عبادت تھی اور ان کی تلخ باتیں تھیں۔
حکومت کوشش کر کے نوجوان افسروں کو ان سے دور رکھتی تھی لیکن اس کوشش کے باوجود بھی اگر کوئی جوان افسر ان تک پہنچ جاتا تھا تو اس کے کوائف جمع کر لیے جاتے تھے اور بعد ازاں اس پر خصوصی نظر رکھی جاتی تھی چنانچہ نوجوان افسر بھی ان سے پرہیز کرنے لگے، جنرل ضیاء الحق کے بعد ائیر فورس نے انھیں پنشن اور دیگر مراعات دینے کی کوشش کی لیکن انھوں نے صاف انکار کر دیا، وہ خوددار انسان تھے، وہ دس دس دن فاقہ کاٹ لیتے تھے لیکن کسی سے شکایت نہیں کرتے تھے، مدت بعد ایک ایسا شخص ائیر چیف بن گیا جس نے ان کی کمان میں کام کیا تھا۔
اس نے ان کے تمام دوستوں کو درمیان میں ڈالا، دو درجن لوگوں نے ان کی منت کی اور یوں وہ ریٹائرمنٹ کی طویل مدت بعد صرف پنشن لینے پر رضا مند ہوئے، جنرل پرویز مشرف نے اقتدار سنبھالا تو ایم ایم عالم صاحب نے ان پر بھی تنقید شروع کر دی، وہ فوج کے سیاسی کردار اور کرپشن کو ملک کی تباہی کا اصل ذمے دار قرار دیتے تھے، وہ کہتے تھے، جنرل مشرف اور ان کے ساتھی کرپٹ بھی ہیں اور یہ ہوس اقتدار کے شکار بھی ہیں، یہ لوگ ملک کو تباہ کر دیں گے، خفیہ ادارے پھر ایکٹو ہوئے، ایک بار پھر ان کی گفتگو ٹیپ ہوئی، یہ ٹیپ صدر جنرل پرویز مشرف کو پیش کر دی گئی۔
صدر نے ائیر چیف کو طلب کیا، ٹیپ سنائی اور ان سے کہا، چک لالہ حساس علاقہ ہے، یہ شخص ہماری ناک کے نیچے بیٹھ کر ہمارے خلاف گفتگو کر رہا ہے، اس سے بغاوت پھیلنے کا خدشہ ہے، آپ اسے راولپنڈی سے کہیں دور بھجوا دیں، صدر کا حکم تھا چنانچہ ایم ایم عالم صاحب کا سامان باندھا گیا اور انھیں راولپنڈی سے کراچی پہنچا دیا گیا، ان کا اگلا ٹھکانہ فیصل بیس تھا، یہ انتقال تک فیصل بیس میں رہے۔
دسمبر 2012ء میں ان کی طبیعت خراب ہوئی، انھیں نیوی کے اسپتال شفاء میں منتقل کیا گیا، یہ وہاں 18 مارچ 2013ء تک داخل رہے، 18 مارچ کو جب انھوں نے آخری سانس لی تو ان کی شجاعت اور بہادری کے نغمے گانے والوں میں سے کوئی شخص ان کے سرہانے موجود نہیں تھا، وہ پاکستانی تھے، وہ پوری زندگی پاکستان کے لیے لڑتے رہے اور یہ لڑائی لڑتے لڑتے خاموشی سے دنیا سے رخصت ہو گئے۔
آپ ایم ایم عالم کے کردار کی عظمت ملاحظہ کیجیے،اس مجاہد نے پوری زندگی پاکستان کے لیے وقف کر دی، ملک کے لیے دو ہجرتوں کا دکھ سہا، وہ 1971ء میں بنگلہ دیش چلے جاتے تو وہ یقینا بنگلہ ائیر فورس کے چیف ہوتے لیکن انھوں نے پاکستان چھوڑنا گوارہ نہ کیا، وہ پوری زندگی ان لوگوں کے دیے دکھ سہتے رہے جنھوں نے پاکستان کو تباہی کے سوا کچھ نہیں دیا، کیا یہ حقیقت نہیں، جنرل ضیاء الحق نے اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے پاکستان کو افغان وار میں جھونک دیا تھااور اس کے نتیجے میں ملک نے ناقابل تلافی نقصان اٹھایا اور کیا یہ بھی حقیقت نہیں جنرل پرویز مشرف نے امریکا اور یورپ سے اپنی یونیفارم تسلیم کرانے کے لیے ملک کو دہشت گردی کی اس جنگ میں دھکیلا جس کے نتیجے میں 60 ہزار پاکستانی شہید ہو چکے ہیں۔
ملک 80ارب ڈالر کا نقصان اٹھا چکا ہے اور پاکستان کا شمار دنیا کے خطرناک ترین ملکوں میں ہو رہا ہے، کیا یہ حقیقت نہیں، ہم نے جنرل مشرف کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے فوجیوں کی اتنی لاشیں اٹھائیں جتنی ہم نے جنگوں میں نہیں اٹھائیں اور کیا یہ بھی حقیقت نہیں جرنیلوں کی ہوس اقتدار اور کرپٹ سیاستدانوں نے ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا؟ اگر یہ ساری باتیں درست ہیں تو پھر ایم ایم عالم نے پوری زندگی کیا غلط کہا جس کی ہم انھیں سزا دیتے رہے؟ ہمیں آج 8 ستمبر کے دن یہ ماننا ہوگا، ہم ایک ایسی قوم ہیں جو اپنے ہیروز کے منہ سے بھی اصل سچ سننے کے لیے تیار نہیں، ہمارے ملک میں دو سچ ہیں۔
اصل سچ اور سرکاری سچ اورملک میں ہمیشہ اصل سچ ہارتا اور سرکاری سچ جیتتا ہے اور ہم ایک ایسی قوم ہیں جو قائداعظم کی تصویر نوٹ پر چھاپ دیتی ہے لیکن ان کی کسی بات پر عمل کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتی، ہم علامہ اقبال کو قومی شاعر ڈکلیئر کر دیتے ہیں لیکن ان کی کتابیں شایع کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے اور ہم ایم ایم عالم کو اپنا ہیرو مانتے ہیں لیکن انھیں پوری زندگی بولنے کی آزادی نہیں دیتے اور ہمیں اس سرزمین پر صرف اور صرف سرکاری سچ چاہیے اور اگر ایم ایم عالم جیسے ہیروز بھی غیر سرکاری سچ بولنے کی گستاخی کر بیٹھیں تو ہم انھیں بھی ریٹائر کرتے، ان کی پنشن روکتے اور انھیں بھی راولپنڈی سے کراچی پھینکتے دیرنہیں لگاتے، ہم کس قدر سچے اور کھرے لوگ ہیں۔

(جاوید چوہدری)

مزیددیکھیے

حوالہ جات

  1. War hero MM Alam passes away
  2. ^ ا ب پ Citation of PAF Heros آرکائیو شدہ (Date missing) بذریعہ pakdef.info (Error: unknown archive URL)، PakDef.info
  3. Air Cdre M Kaiser Tufail. "Alam's Speed-shooting Classic". Defencejournal.com. 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 15 نومبر 2011. 
  4. Fricker، John. Battle for Pakistan: the air war of 1965. صفحات 15–17. before we had completed more than of about 270 degree of the turn, at around 12 degree per second, all four hunters had been shot down … My fifth victim of this sortie started spewing smoke and then rolled on to his back at about 1000 feet. 
  5. Polmar، Norman؛ Bell، Dana (2003). One hundred years of world military aircraft. Naval Institute Press. صفحہ 354. ISBN 978-1-59114-686-5. 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 20 مارچ 2013. Mohammed Mahmood Alam claimed five victories against Indian Air Force Hawker Hunters, four of them in less than one minute! Alam, who ended the conflict with 11 kills, became history's only jet "ace-in-a-day." 
  6. O' Nordeen، Lon (1985). Air Warfare in the Missile Age. Washington, D.C.: Smithsonian Institution Press. صفحات 84–87. ISBN 978-0-87474-680-8. 
  7. Citation for Sqn Ldr Devaiyya.  مفقود أو فارغ |title= (معاونت) [1]
  8. Singh، Pushpindar (1991). Fiza ya, Psyche of the Pakistan Air Force. Himalayan Books. ISBN 81-7002-038-7. 
  9. خصوصی رپورٹس (مارچ 18, 2013). "M.M Alam's Death – ایم ایم عالم انتقال کر گئے". Pakistan Radio News Network.  الوسيط |last1=مفقود في Authors list (معاونت);
  10. "1965 war hero M.M. Alam passes away". ڈان. 18 مارچ 2013ء. 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. 

مزید پڑھیے

  • کتاب پاک فضائیہ کی داستان شجاعت مصنف عنایت اللہ صاحب