ایڈورڈ سعید

ادب کے پروفیسر اور فلسطینی کاز کے حمایتی

فلسطینی مصنف اور دانشور۔ پروفیسر ایڈورڈ سعید یروشلم میں پیدا ہوئے لیکن 1947ء میں پناہ گزیں بن جانے کے بعد وہ امریکا چلے گئے اور ساری عمر وہیں رہے۔ شاید یہی سبب تھا کہ انہوں نے ساری زندگی فلسطینیوں کے حقوق کے لیے علمی جدوجہد جاری رکھی۔

ایڈورڈ سعید
Edward Said.jpg

معلومات شخصیت
پیدائش 1 نومبر 1935[1][2][3][4][5][6]  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
یروشلم[7]  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 25 ستمبر 2003 (68 سال)[8][2]  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
نیویارک شہر[9]  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجہ وفات ابیضاض  ویکی ڈیٹا پر (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
طرز وفات طبعی موت  ویکی ڈیٹا پر (P1196) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of the United States (1795-1818).svg ریاستہائے متحدہ امریکا  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رکن امریکی اکادمی برائے سائنس و فنون  ویکی ڈیٹا پر (P463) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی ہارورڈ یونیورسٹی
جامعہ پرنسٹن  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ مصنف،  ادبی تنقید نگار،  صحافی،  فلسفی،  ماہر موسیقیات  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان عربی[10]،  انگریزی[10]  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ملازمت کولمبیا یونیورسٹی  ویکی ڈیٹا پر (P108) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کارہائے نمایاں شرق شناسی  ویکی ڈیٹا پر (P800) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مؤثر ژاں پال سارتر  ویکی ڈیٹا پر (P737) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات
اینسفیلڈ-وولف بک ایوارڈز (2000)
بین الاقوامی نونینو انعام (1996)
امریکن بُک ایوارڈ (1996)  ویکی ڈیٹا پر (P166) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحات  ویکی ڈیٹا پر (P345) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

وہ عرب دنیا کی بجائے مغرب میں زیادہ معروف تھے اور شاید اس کا سبب یہ ہے کہ وہ انگریزی زبان میں لکھتے رہے لیکن ان کے قلمی کام کا اثر عرب دنیا میں بھی ویسا ہی رہا جیسا کہ باقی دنیا میں ہوا۔

وہ نیویارک کی کولمبیا یونیورسٹی میں علمی اور ادبی کام میں مشغول رہے۔ ان کا مضمون انگریزی اور تقابلی ادب تھا۔

اگرچہ انہوں نے کئی معرکۃ آراء کتابیں اور مکالے لکھے تاہم جس کتاب نے انہیں سب سے زیادہ شہرت بخشی وہ Orientalism جس کا اردو ترجمہ شرق شناسی کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔ اس کتاب میں پروفیسر سعید نے اس نکتہ سے بحث کی ہے کہ مشرقی اقوام اور تمدن کے بارے میں مغرب کا تمام علمی کام نسل پرست اور سامراجی خام خیالی پر مبنی ہے۔

اس تحقیقی کام سے عربوں کے اس موقف کی تائید ہوتی ہے کہ مغرب نے عرب اور اسلامی ثقافت کو سمجھنے میں غلطی کی ہے اور عرب دنیا اور مسلمانوں کے بارے میں بے بنیاد سوچ پر اپنے نظریات کی بنیاد رکھی۔

موت سے تھوڑے ہی عرصہ پہلے انہوں کہا تھا کہ مغرب کی یہی سوچ تھی جس نے عراق پر حملے کے حق میں رائے عامہ کو ہموار کیا۔

فلسطینیوں کے حقوق کے لیے ان کی کاوشوں کو عرب دنیا میں تکریم کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔

مغربی دنیا میں کسی عرب نژاد نے اس قدر کھل کر اور بے باک انداز میں فلسطینی حقوق اور موقف کا دفاع نہیں کیا جتنا ایڈورڈ سعید نے کیا۔ لیکن اس دفاع میں وہ قلعہ بند نہیں ہوئے بلکہ انہوں نے اپنے طور پر مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان مکالمے کو جاری رکھا۔

اگرچہ اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان تلخیاں اور شبہات بڑھتے رہے پھر بھی دونوں کو قریب لانے کے لیے ایڈورڈ سعید کے جذبہ میں کمی نہیں آئی۔

وہ فلسطینی نیشنل کانفرنس کے بھی غیروابستہ رکن رہے تاہم بعد میں وہ اس سے کنارہ کش ہو گئے۔ اسرائیل اور فلسطینی رہمنا یاسر عرفات کے درمیان اوسلو میں ہونے والے معاہدے پر انہوں نے شدید تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کے تحت فلسطینیوں کو انتہائی کم رقبہ اور بہت کم اختیارات ملیں گے۔

وہ علاحدہ علاحدہ فلسطینی اور اسرائیلی ریاستوں کے قیام کے بھی خلاف تھے۔ ان کے خیال میں ایسی صورت میں دونوں کو ہمیشہ باہمی مسائل کا سامنا رہے گا۔ ان کے خیال میں مسئلہ فلسطین کا حل دو قومی ریاست میں ہے۔

حوالہ جاتترميم

  1. آئی ایم ڈی بی - آئی ڈی: https://wikidata-externalid-url.toolforge.org/?p=345&url_prefix=https://www.imdb.com/&id=nm0756429 — اخذ شدہ بتاریخ: 16 اکتوبر 2015
  2. ^ ا ب دائرۃ المعارف بریطانیکا آن لائن آئی ڈی: https://www.britannica.com/biography/Edward-Said — بنام: Edward Said — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017 — عنوان : Encyclopædia Britannica
  3. ایس این اے سی آرک آئی ڈی: https://snaccooperative.org/ark:/99166/w6fn2dtw — بنام: Edward Said — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  4. فائنڈ اے گریو میموریل شناخت کنندہ: https://www.findagrave.com/cgi-bin/fg.cgi?page=gr&GRid=7982556 — بنام: Edward Wadie Said — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  5. Munzinger person ID: https://www.munzinger.de/search/go/document.jsp?id=00000023962 — بنام: Edward Said — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  6. Store norske leksikon ID: https://snl.no/Edward_Said — بنام: Edward Said — عنوان : Store norske leksikon
  7. ربط : https://d-nb.info/gnd/119174308  — اخذ شدہ بتاریخ: 11 دسمبر 2014 — اجازت نامہ: CC0
  8. http://www.columbia.edu/cu/news/03/09/edwardSaid_2.html
  9. ربط : https://d-nb.info/gnd/119174308  — اخذ شدہ بتاریخ: 31 دسمبر 2014 — اجازت نامہ: CC0
  10. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb119232983 — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — مصنف: Bibliothèque nationale de France — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ