نور محمد تیراہی

(باباجی صاحب سے رجوع مکرر)

آپ کا نام نامی اسم گرامی سید نور محمد گیلانی ہے لیکن آپ اپنے لقب ”بابا جی صاحب“ کے ساتھ مشہور ہوئے۔موجودہ دور میں آپ کو نام اور لقب دونوں سے یاد کیا جاتا ہے۔ آپ آستانہ عالیہ چورہ شریف کے بانی ہیں۔

سید نور محمد گیلانی تیراہی چوراہی
Syed Nur Muhammad Gillani Churahi's Logo 02 (PNG Version).png

معلومات شخصیت
پیدائش 1179ھ / 1765ء
اخوند کوٹ
وفات 13 شعبان المعظم 1286ھ / 1869ء
چورہ شریف
لقب بابا جی صاحب
نسل سید
مذہب اسلام
فقہی مسلک حنفی
مکتب فکر اہل سنت، ماتریدیہ
اولاد سید احمد گل گیلانی، سید فقیر محمد گیلانی، سید دین محمد گیلانی، سید شاہ محمد گیلانی
والد سید فیض الله گیلانی تیراہی
P islam.svg باب اسلام

ولادتترميم

آپ 1179ھ بمطابق 1765ء کو وادی تیراہ اورکزئی ایجنسی کے علاقہ تیزئی کے خوبصورت اور پر فضا علاقہ خدیزئی کے قریب ایک گاؤں اخوند کوٹ میں پیدا ہوئے۔ یہ علاقہ ایک دلفریب اورخوبصورت وادی پر مشتمل ہے جس میں ٹھنڈے پانی کے چشمے بہتے ہیں اور اپنے حسن وخوبصورتی کی وجہ سے سویٹذرلینڈ سے بڑھ کر ہے۔

شجرہ نسبترميم

سید نور محمد گیلانی چوراہی بن سید فیض اللہ تیراہی بن سید خان محمد گردیزی بن سید علی ولی محمد بن سید شیخ سلیمان بن سید شیخ سلطان بن سید شیخ الاسلام عبدالسلام بن سید عبد الرسول بن سید موسٰی بن سید حسین بن سید ظہیرالدین ابو سعود میر شہاب الدین احمد متقی بن سید محی الدین ابو نصر محمد بن سید عمادالدین ابو صالح نصر بن سید عبدالرزاق بن سید عبدالقادر جیلانی بن سید ابو صالح موسٰی جنگی دوست بن سید ابی عبداللہ بن سید یحیٰ الزاہد بن سید محمد بن سید داؤد بن سید موسٰی بن سید عبداللہ بن سید موسٰی الجون بن سید عبداللہ المحض والمجل بن سید حسن مثّنٰی بن حضرت سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ بن سید حضرت علی کرم اللہ وجہہ واز مادر سیدۃ النساء فاطمۃ الزھرأ بنت رسول اللہ ﷺ[1]۔

خاندان کا تاریخی اور علمی پس منظرترميم

آپ اپنے خاندان کی علمی و روحانی وراثت کے امین تھے۔آپ کے جد اعلیٰ حضرت سید محمد المعروف سید خان محمد شاہ گیلانی گردیز افغانستان سے ڈھوڈہ شریف نزد کوہاٹ تشریف لائے اور یہاں ایک مدرسہ قائم کیا جہاں سے اس علاقہ کے بہت سے حضرات نے علم حاصل کیا جن میں کوہاٹ کے مفتی قاضی عبدالحمید صاحب علیہ الرحمہ قابل ذکر ہیں۔ حضرت سید خان محمد گیلانی علیہ الرحمہ کی قبر مبارک ڈھوڈہ نزد کوہاٹ میں موجود ہے اور تمام مکاتب فکر کے لوگ آپ سے یکساں عقیدت و محبت رکھتے ہیں۔

آپ کے والد گرامی سید فیض اللہ گیلانی تیراہی قدس سرہ کی ولادت 1143ھ بمطابق 1730ء کو ڈھوڈہ شریف کوہاٹ میں ہوئی۔ آپ نے اپنے والد گرامی کے مدرسہ میں تعلیم حاصل کی اور 1164ھ بمطابق 1751ء میں اکیس (21) سال کی عمر میں علوم متداولہ میں فارغ التحصیل ہوئے۔ 1160ھ بمطابق 1747ء کو جب احمد شاہ ابدالی افغانستان کا بادشاہ بنا تو اس وقت حضرت سید فیض اللہ تیراہی علیہ الرحمہ کی عمر سترہ (17) سال تھی اور آپ زیرِ تعلیم تھے۔ اسی دوران میں کوہاٹ کو احمد شاہ ابدالی کی درانی سلطنت میں شامل کر لیا گیا۔ احمد شاہ ابدالی نے 1748ء سے1767ء تک ہندوستان پر کئی حملے کیے بالخصوص سکھوں کے خلاف کئی معرکے لڑے۔ اسی دوران میں حضرت سید فیض اللہ گیلانی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اپنے قبیلہ کے ساتھ مل کر سکھوں کے خلاف جہاد شروع کیا لیکن کچھ عرصہ بعد آپ احمد شاہ ابدالی کی فوج میں کمانڈر کی حیثیت سے شامل ہوگئے تاکہ مشترکہ کوششیں کی جاسکیں۔ اسی زمانہ میں آپ نے اپنے خاندان کے ساتھ اخوند کوٹ تیزئی وادی تیراہ میں سکونت اختیار کی۔ آپ ہندوستان پر ایک حملہ کے دوران رامپور میں قیام پذیر تھے کہ آپ کی ملاقات حضرت سید جمال اللہ رامپوری علیہ الرحمہ سے ہوئی جو سلسلہ نقشبندیہ مجددیہ میں حضرت سید اشرف حیدر علیہ الرحمہ کے مرید تھے۔ آپ نے احمد شاہ ابدالی کی فوج کو خیرباد کہا اور حضرت سید جمال اللہ رامپوری علیہ الرحمہ کی خانقاہ میں حصول فیض کے لیئے قیام پذیر ہوگئے۔

دینی تعلیم سے فراغت کے بعد حضرت سید فیض اللہ گیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی شادی ہو گئی تھی اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک بیٹی عطا فرمائی تھی۔ جب آپ سلوک نقشبندیہ مجددیہ مکمل کرنے اور خلافت عطا ہونے کے بعد اپنے مرشد حضرت سید جمال اللہ رامپوری علیہ الرحمہ کے حکم پر قریباً اٹھارہ (18) سال بعد گھر واپس آئے تو پہلے ڈھوڈہ شریف تشریف لائے اور اپنے والد گرامی کی قبر پر حاضری دی۔ یہاں آپ کی ملاقات مفتی قاضی عبدالحمید علیہ الرحمہ سے ہوئی اور قاضی صاحب نے اپنی بیٹی کا نکاح آپ سے کروا دیا۔ یہاں سے آپ اپنی دوسری زوجہ کے ساتھ اپنے خاندان کے پاس اخوند کوٹ تیزئی شریف وادی تیراہ گئے۔ دوسری زوجہ سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو فرزند عطا فرمایا جس کا نام آپ نے نور محمد رکھا جنہوں نے اپنے نام کی لاج رکھتے ہوئے سارے زمانے میں محمد ﷺ کا نور پھیلایا۔

تعلیم و تربیتترميم

حضرت خواجہ خواجگان سید نور محمد گیلانی علیہ الرحمہ نے دینی و درسی تعلیم اپنے والد گرامی سید فیض اللہ گیلانی قدس سرہ سے حاصل کی اور اپنے والد گرامی سے بیعت ہو کر تیرہ (13) سلاسل بالخصوص طریقت نقشبندیہ مجددیہ کا فیض حاصل کیا۔ آپ نے سلوک نقشبندیہ مجددیہ کی تکمیل اپنے والد گرامی سے کی جو حضرت سید جمال اللہ رامپوری کے زیر تربیت رہے تھے۔ یہ بھی یاد رہے کہ حضرت سید فیض اللہ گیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی سلوک نقشبندیہ مجددیہ میں خصوصی تربیت حضرت خواجہ محمد سید عیسیٰ علیہ الرحمہ چودھواں شریف ڈیرہ اسماعیل خان نے بھی کی تھی جو کہ حضرت سید جمال اللہ رامپوری کے خلیفہ تھے۔ لیکن حضرت سید فیض اللہ گیلانی تیراہی علیہ الرحمہ کو حضرت سید جمال اللہ رامپوری سے خلافت عطا ہوئی۔

شجرہ طریقتترميم

سید نور محمد گیلانی چوراہی۔سید فیض اللہ گیلانی تیراہی۔سید محمد عیسیٰ۔سید جمال اللہ رامپوری بن سید شاہ محمد روشن۔سید قطب الدین محمد اشرف حیدر۔خواجہ محمد زبیر۔حضرت خواجہ محمد نقشبندثانی۔حضرت خواجہ محمد معصوم۔حضرت شیخ احمد مجدد الف ثانی۔حضرت خواجہ باقی باللہ۔حضرت خواجہ امکنگی۔خواجہ درویش محمد ۔خواجہ محمد زاہد۔خواجہ ناصر الدین عبیداللہ احرار۔مولانا محمد یعقوب چرخی۔حضرت بہاؤ الدین نقشبند بخاری۔خواجہ سید امیر کلال۔خواجہ محمد باباسماسی۔خواجہ علی رامیتنی۔خواجہ محمود الخیر فغنوی۔خواجہ محمد عارف ریوگری۔خواجہ عبدالخالق غجدوانی۔خواجہ ابو یعقوب یوسف ہمدانی۔خواجہ بو علی فارمدی۔خواجہ ابومنصور ماتریدی۔خواجہ احمد یسوی۔خواجہ ابولحسن خرقانی۔خواجہ بایزید بسطامی۔امام جعفر صادق۔حضرت قاسم بن محمد بن ابی بکر صدیق۔حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ۔خلاصہ موجودات،سرورکائنات،احمد مجتبیٰ،محمد مصطفی ﷺ[2]۔

خانقاہ تیراہیہترميم

 
سید نور محمد گیلانی چوراہی علیہ الرحمہ کا مزار شریف

آپ کے والد گرامی سید فیض اللہ گیلانی تیراہی علیہ الرحمہ نے اخوندکوٹ تیراہ میں خانقاہ کا قیام عمل میں لایا۔ اس خانقاہ کے تربیت یافتہ حضرات میں سید شہزادہ صاحب، جناب شیر محمد صاحب، اخوندزادہ شاہ محمد صاحب اور مولوی محمد امین صاحبان اور آپ کے صاحبزادگان سید نور محمد،سید گل محمد، سید جان محمد، سید صالح محمد، سید محمد نور رحمۃ اللہ علیہم تھے۔ حضرت سید فیض اللہ گیلانی تیراہی علیہ الرحمہ کی وفات (1235ھ بمطابق 1819ء) کے وقت حضرت سید نور محمد گیلانی علیہ الرحمہ کی عمر تقریباً چھپن (56) سال تھی۔ اپنے والدکی وفات کے بعد آپ جانشین مقرر ہوئے اور خانقاہ کے انتظام وانصرام کو سنبھالا۔ اس خانقاہ کے ساتھ ایک مدرسہ قائم کیا گیا جس میں آپ کے چھوٹے بھائی سید گل محمد گیلانی علیہ الرحمہ اور آپ کے والد گرامی کے خلیفہ مولوی محمد امین علیہ الرحمہ اور مولوی ملّاں شرافت رحمۃ اللہ علیہ جو فقہ و حدیث و تفسیر قرآن مجید میں کافی رسوخ رکھتے تھے، تدریسی فرائض سرانجام دیتے تھے۔ حضرت سید گل محمد گیلانی علیہ الرحمہ کے تبحر علمی کا یہ عالم تھا کہ اس وقت افغانستان کے علماء میں شاید ہی کوئی ایسا ہو کہ جو آپ کی شاگردی کا اعزاز نہ رکھتا ہو۔ حضرت سید گل محمد گیلانی علیہ الرحمہ نے عربی،فارسی اور پشتو زبان میں بہت سی کتابیں لکھیں جن میں سے اس وقت کوئی بھی موجود نہیں۔

جیسا کہ بیان کیا گیا ہے کہ حضرت خواجہ خواجگان سید نور محمد گیلانی علیہ الرحمہ تحصیل علم کے ساتھ ہی تصوف و روحانیت میں زیادہ دلچسپی لیتے تھے لیکن اگر علماء کسی مسئلہ دینی میں ضرورت محسوس کرتے تو آپ کی طرف رجوع کرتے اور آپ فوری طور پر اس مسئلہ کا حل اور کتابوں کے حوالے ان کے سامنے رکھ دیتے تھے۔

شیوخترميم

آپ نے دینی و روحانی تعلیم و تربیت اپنے والد گرامی سے ہی حاصل کی اور انہیں سے طریقت کی بیعت کی اور انہیں سے خلافت عطا ہوئی اور ان کے بعد مسند نشین خانقاہ ہوئے۔

دعوت و تبلیغ کا طریقہترميم

آپ نے خانقاہ میں سالکان طریقت کی تربیت کے لئے سلوک نقشبندیہ مجددیہ کو اختیار کیا۔ آپ کی خانقاہ تیراہیہ میں بیک وقت بیسیوں طالبان طریقت قیام کرتے اور مدرسہ کے زیر تعلیم اور فارغ التحصیل طلباء بھی سلوک طریقت کے فیوض و برکات حاصل کرتے۔ آپ کی خانقاہ میں قیام کرنے والے طالبان طریقت کے قیام و طعام کے لئے آپ کی وسیع اراضی کی پیداوار کافی ہوتی اس کے علاوہ آپ نے ایک بڑی تعداد میں مویشی بشمول بھیڑ اور بکریاں پال رکھیں تھیں جس سے خانقاہ میں قیام کرنے والوں کے لیئے دودھ اور گوشت مہیا کیا جاتا۔

دعوت و تبلیغ کے طریقہ کار میں تبدیلیترميم

جب آپ کی خانقاہ کا شہرہ بلند ہوا اور دور دراز سے طالبان طریقت اس خانقاہ نقشبندیہ مجددیہ تیراہیہ کا رخ کرنے لگے تو آپ کی بیعت کرنے والوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہونے لگا اور آپ کا سلسلہ طریقت مغرب میں افغانستان و تاجکستان تک اور مشرق میں ہندوستان تک پھیل گیا۔ اس صورت حال کے پیش نظر آپ نے خانقاہ میں تربیت کے علاوہ مختلف علاقوں کے سالانہ تبلیغی دورے شروع کئے۔ اس کی وجہ یہ بھی تھی کہ آپ کے سلسلہ میں داخل ہونے والے بہت سے لوگ نادار تھے اور وہ سفر کے اخراجات اور صعوبتیں برداشت نہیں کر سکتے تھے اور دوسری وجہ یہ تھی کہ چونکہ یہ علاقہ عام لوگوں کے لیئے سفر کے لئے محفوظ نہ تھا کیونکہ دشوار گزار پہاڑی سفر زیادہ تر پیدل اور خچروں پر کیا جاتا اور راستے میں رہزن مسافروں کو لوٹ لیتے تھے۔ اس طرح تبلیغی دوروں نے لوگوں کی اس مشکل کو آسان کردیا اور سالکان و طالبان طریقت کے لئے سلوک نقشبندیہ مجددیہ نوریہ طے کرنا نسبتاً آسان ہوگیا کیونکہ آپ سفر کے دوران میں بھی طریقت کی تعلیم یعنی ذکر و مراقبات کا سلسلہ جاری رکھتے اورسالکان طریقت کے لطائف پر توجہ دیتے جو سلوک نقشبندیہ مجددیہ کا خاصہ ہے۔

اس طریقہ دعوت و تبلیغ کا ایک زبردست فائدہ یہ بھی ہوا کہ حضرت خواجہ خواجگان سید نور محمد گیلانی علیہ الرحمہ جب تبلیغی دورے پر تشریف لے جاتے تو اس دوران میں کئی غیر مسلموں کو بھی آپ سے ملنے اور آپ کی محفل میں آنے کو موقع ملتا اور وہ اسلام کے اس عملی نمونہ اور حضور سید کونین ﷺ کے اسوہ کامل کا پرتو دیکھ کر اسلام قبول کئے بغیر نہ رہتے۔ لیکن یہ بات بھی مسلّم ہے کہ ان تبلیغی دوروں کے دوران میں سفر اور لوگوں سے میل ملاقات کی مصروفیات کے باوجود بھی سلوک طریقت کی تعلیم و معمولات میں کوئی فرگذاشت نہ ہوتی۔ آپ کے ہمراہ کم از کم پچاس سے سو افراد ہم سفر ہوتے اور ان میں زیادہ تعداد طالبان طریقت کی ہوتی۔ اس کے علاوہ ان علاقوں میں موجود طالبان طریقت آپ سے سلوک طریقت نقشبندیہ کے اسباق حاصل کرتے۔یوں خانقاہ نقشبندیہ مجددیہ تیراہیہ وادی تیراہ سے نکل کر اور وسیع ہو کر مشرق و مغرب میں پھیل گئی بلکہ یہ سمجھیں کہ ایک سفری خانقاہ کا وجود عمل میں آیا جہاں ہمہ وقت طالبان راہ حقیقت کی تعلیم و تربیت کا سلسلہ جاری رہتا۔ آگے چل کر آپ کی اولاد میں صاحبان طریقت نے اسی طریقہ دعوت و تبلیغ کو اپنایا جس کے نتیجہ میں سلسلہ نقشبندیہ مجددیہ نوریہ کو ساری دنیا میں پذیرائی و شہرت ملی۔

سلوک نقشبندیہ مجددیہ نوریہ ومعمولاتترميم

دیگر سلاسل طریقت کی طرح سلسلہ نقشبندیہ مجددیہ نوریہ میں بھی صلواۃ تہجد کو بہت اہمیت حاصل ہے بلکہ اس کو طریقت کے لوازمات میں شامل کیا جاتا ہے۔حضرت خواجہ خواجگان سید نور محمد گیلانی چوراہی علیہ الرحمہ کا بھی یہ معمول تھا کہ آپ سفر وحضر میں وقت سحر بیدار ہوکر وضو فرماتے اور ایک تسبیح استغفار کی پڑھ کر مراقبہ فرماتے پھر بارہ رکعت نوافل تہجد ادا فرماتے۔ اس کے بعد کچھ وقت ذکر نفی اثبات (لاالہ الااللہ) فرماتے۔ صبح صادق کے بعد دو رکعت سنت ادا فرما تے اور باجماعت نماز ادا کرنے کے بعد پھر مراقبہ اور ذکر نفی اثبات فرماتے۔ نماز اشراق تک کسی سے گفتگو نہ فرماتے۔ نماز فجر اور نوافل اشراق کے دوران میں ایک مرتبہ سورہ فاتحہ اور سورہ بقرہ   أُوْلَـئِكَ عَلَى هُدًى مِّن رَّبِّهِمْ وَأُوْلَـئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ    [3]تک تلاوت کرتے پھر آیۃ الکرسی[4]،سورہ یٰس،آخر چہار قل شریف کی تلاوت کرتے اور پھر ایک تسبیح درود شریف(زیادہ تر درود خضری[5]) پڑھتے۔نماز اشراق ادا کرنے کے بعد طالبان طریقت کی طرف متوجہ ہوتے اور ان کے اسباق کے مطابق ان کے لطائف پر توجہ فرماتے۔پھر جو طالبان بیعت کی ارادت رکھتے ان کو سلسلہ نقشبندیہ مجددیہ نوریہ میں بیعت فرماتے اور ان پر توجہ فرما کر طریقت نقشبندیہ کے ذکر کی تلقین فرماتے اور لطیفۂ قلب پر توجہ دے کر طریقت نقشبندیہ کے مطابق ”فتح باب“ فرماتے۔ یاد رہے کہ طریقت نقشبندیہ مجددیہ میں ”فتح باب“ سے مراد یہ ہے کہ جب کوئی سالک طریقت نقشبندیہ مجددیہ میں داخل ہوتا ہے تو شیخ کامل اس کو ذکر (اسم ذات) کی تلقین کرتے ہیں اور اس کے لطیفۂ قلب پر اپنی توجہ کرکے اس میں اپنی روحانی قوت سے فیض الٰہی داخل کرتے ہیں۔ اس طرح لطیفۂ قلب میں فیض الٰہی کا ایک دروازہ کھل جاتا ہے۔ اسی پر دیگر لطائف کے منور ہونے کا انحصار ہوتا ہے اس لیئے طریقت نقشبندیہ مجددیہ میں اس کی بڑی اہمیت ہے۔ اس کے بعد لنگر تقسیم ہوتا۔ آپ طالبان طریقت کے ساتھ مل کر کھانا تناول فرماتے۔ پھر کچھ دیر آرام کے بعد زوال آفتاب کے بعد وضو فرما کر نفی اثبات کا ذکر فرماتے۔ نماز ظہر باجماعت ادا کرنے بعد سورہ نوح کی تلاوت فرماتے۔ نماز ظہر ادا کرنے کے بعد طالبان طریقت پر ان کے اسباق کے مطابق ان کے لطائف پر توجہ فرماتے۔ یوں روزانہ کے معمولات میں سے دن کے اس حصہ میں روحانی تربیت کا پہلامرحلہ مکمل ہوتا اور جو طالبان طریقت رخصت ہونا چاہتے ان کو رخصت فرماتے۔ اس کے بعد نماز عصر ادا کی جاتی اور پھر طالبان طریقت کے ساتھ مل کر مراقبہ فرماتے۔ نماز مغرب کے بعد چھ رکعت نوافل اوّابین خود بھی ادا فرماتے اور طالبان طریقت کو بھی ادا کرنے کی تلقین فرماتے۔ نماز مغرب کے بعد دوستان طریقت کے ساتھ مل کر لنگر شریف تناول فرماتے۔ نماز عشاء کے بعد وتر سے پہلے ایک تسبیحسُبْحَانَ الْمَلِکُ الْقُدُّوْسُ[6]“ پڑھتے۔ پھر سورہ ملک،اسمائے حسنہ،سورہ بقرہ کی آخری آیات،سورہ بنی اسرائیل کی آخری آیات،سورہ کہف کا آخر،سورہ حشر کی آخری آیات،اور آخری دس سورتوں کی تلاوت فرما کر آرام فرماتے۔ یوں آپ کے دن کے معمولات کا اختتام ہوتا۔

وفاتترميم

حضرت سید نور محمد گیلانی رحمه الله کی وفات چورا شریف ضلع اٹک میں 13شعبان المعظم1286ھ/ 1869ء کو ہوئی۔

حوالہ جاتترميم

  1. سید بدر مسعود گیلانی، اثبات النسب فی نسب سید نور محمد گیلانی، ص: 34
  2. سید شاہ محمد گیلانی، وظائف نوریہ، ص:46، 47
  3. سورة البقرة، آیت: 05
  4. سورۃ البقرۃ، آیت: 255
  5. درود خضری کا متن یہ ہے: صَلَّى اللهُ عَلَىٰ حَبِيبِهِ مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَأَصْحَابِهِ وَسَلَّمْ۔
  6. نبی کریم ﷺ وتر کے بعد ان ہی کلمات کو پڑھا کرتے تھے۔ حدیث مبارکہ میں بیان ہوا ہے: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُوتِرُ بِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى، وَقُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ، وَإِذَا سَلَّمَ يَقُولُ: سُبْحَانَ ‌الْمَلِكِ ‌الْقُدُّوسِ، ‌سُبْحَانَ ‌الْمَلِكِ ‌الْقُدُّوسِ. وَيَرْفَعُ صَوْتَهُ فِي الثَّالِثَةِ۔ (مسند ابن الجعد، حدیث: 487، مسند احمد، حدیث: 15354)