مرکزی مینیو کھولیں

کسی بھی مادے (substance یا matter) کی بناوٹ، جوہری ترکیب اور خواص وغیرہ کا مطالعہ اور تحقیق، علم کیمیاء کہلاتا ہے۔ اس شعبہ علم میں خاص طور پر جوہروں کے مجموعات ؛ مثلا سالمات اور ان کے تعملات، قلموں اور دھاتوں سے بحث کی جاتی ہے۔ کیمیاء میں ان مذکورہ اشیاء کی ساخت اور پھر انکی نئے مرکبات میں تبدیلیوں کا مطالعہ اور ان کے تفاعل (interaction) کے بارے میں تحقیق شامل ہے۔ اور جیسا کہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ جب مادے کا بڑے پیمانے (یعنی سالمات اور قلمیں وغیرہ کے پیمانے) پر مطالعہ کیا جائے گا تو جوہر یا ایٹم یعنی باریک پیمانے پر مادے کا مطالعہ بھی لازمی ہوگا اور یہی وجہ ہے کہ کیمیاء میں جوہروں کی ساخت اور ان کے آپس میں تعملات اور روابط کا مطالعہ بھی کیا جاتا ہے۔

سرخیاںترميم

 
ایک جوہر (ایٹم) کا مسانچ ،جو ردرفورڈ نے پیش کیا۔

پہلے زمانے میں لوگو یہ سمجھتے تھے کہ اس دنیا میں تمام اشیاءایک از سو (1/100 گندم کے دانہ) کے برابر ایک چھوٹے سے ذرے سے بنے ہیں۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ انسان نے ترقی کی اور یہ بات ثابت کی کہ دنیا کا سب چھوٹا ذرہ یوں ہوتا ہے کہ اس کے درمیان میں مرکزہ (نیوکلس) ہوتا ہے اور اس میں برقیہ،اولیہ اور تعدیلہ ہوتے ہیں جن میں اولیہ اور تعدیلہ مرکزہ (یعنی نیوکلس) میں ہوتے ہیں اور برقیہ جو منفی (نیگٹیو) چارج رکھتا ہے اس مرکزہ کے ارد گرد گھومتے ہیں یا چکر لگاتے ہیں۔؎

پیریڈیک ٹیبلترميم

پیریئڈک ٹیبل ایک ایسا ٹیبل ہوتا جس میں تمام طر عطوم یا جوہرات کی تفصیل ہوتی ہے۔ اس ٹیبل کو ایک خاص اصول کے تحت تشکیل دیا گیا ہے ۔

 

تاریخترميم

کیمیا کی شا خیں: کیمیا کی کی مندر جہ ذیل شا خیں ہیں: ۱۔ نا میا تی کیمیا ۲۔ غیر نا میا تی کیمیا ۳۔ طبعی کیمیا