بلیک میل (انگریزی: Blackmail) ایک عمل ہے، جو اکثر مجرمانہ نوعیت کا حامل ہے۔ اس میں غیر منصفانہ دھمکی دینا شامل ہوتا ہے تا کہ کچھ فائدہ حاصل ہو سکے — جو زیادہ تر دولت یا جائداد سے متعلق ہو سکتی ہے — یا اس میں کسی کو نقصان پہنچانا بھی شامل ہو سکتا ہے جب تک کہ کوئی مطالبے کی تکمیل نہ ہو۔[1][2] اس میں جبر بھی ہو سکتا ہے کہ قابل قدر صحیح یا غلط معلومات کسی شخص کے بارے میں عوام کے آگے، رکن خاندان کے سامنے، متعلقین کے سامنے یا جسمانی نقصان یا مجرمانہ مقدمہ شروع کرنے کے ذریعے ضرر پہنچایا جائے گا۔[1][3][4][5]

مثالیںترميم

  • بلیک میل زبانی، تحریری اور کسی شخص کے رویے کے ذریعے ظاہر ہو سکتا ہے۔ جدید دور میں سماجی میڈیا جیسے کہ فیس بک اور ٹویٹر بھی اس مقصد میں آلہ کار کے طور پر مستعمل ہو سکتے ہیں۔ 2015ء میں پاکستان میں اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت نے فیس بک پر جعلی اکاؤنٹ بنا کر ایک خاتون کو بلیک میل کرنے کے الزام میں ایک شخص کو تین سال قید اور 25 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے۔ یہ اس ملک میں اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ تھا۔[6]

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم

  1. ^ ا ب Merriam-Webster's dictionary of law. Merriam-Webster. 1996. صفحہ 53. ISBN 978-0-87779-604-6. اخذ شدہ بتاریخ 23 مئی 2011. 
  2. The American Heritage® Dictionary of the English Language, 4th edition. Houghton Mifflin Harcourt Publishing Company. 2010. 
  3. "Blackmail". میریام ویبسٹر. اخذ شدہ بتاریخ 23 مئی 2011. 
  4. Burton's Legal Thesaurus. McGraw-Hill Professional. 2006. صفحہ 233. ISBN 978-0-07-147262-3. اخذ شدہ بتاریخ 23 مئی 2011.  Check date values in: |access-date= (معاونت)
  5. The encyclopedia of American law enforcement. Infobase Publishing. 2007. صفحہ 78. ISBN 978-0-8160-6290-4. اخذ شدہ بتاریخ 23 مئی 2011.  Check date values in: |access-date= (معاونت)
  6. "پاکستان میں فیس بک پر بلیک میل کرنے پر 'پہلی' سزا". مؤرشف من الأصل في 25 دسمبر 2018.