تاریخ سلطنت عثمانیہ

تاریخ کا پہلو

سلطنت عثمانیہ عثمان اول نے بطور بیلیک (بیگ کے دائرہ اختیار میں آنے والا علاقہ) کے شمال مغربی ایشیائے صغری میں، بازنطینی دارالحکومت قسطنطنیہ کے ٹھیک جنوب میں قائم کی۔ عثمانیوں نے 1352ء میں پہلی بار یورپ کو عبور کیا، 1354ء میں در دانیال میں قلعہ جنبی میں مستقل نو آبادی کی بنیاد رکھی اور اپنا دارالحکومت ادرنہ سے 1369ء میں منتقل کر لیا۔

جب سلطان محمد فاتح نے 1453ء میں قسطنطنیہ (موجودہ نام استنبول ہے) فتح کیا، ریاست یورپ، شمالی افریقا اور مشرق وسطی میں پورے طور سے پھیلتی ہوئی ایک طاقتور سلطنت کی شکل اختیار کر گئی۔ سولہویں صدی کے وسط تک بیشتر بلقان سلطنت عثمانیہ کے زیر اقتدار تھا، جب سلطان سلیم اول کے تحت عثمانی علاقے میں تیزی سے اضافہ ہوا، جس نے 1517ء میں خلافت سنبھالی اور پھر عثمانیوں نے مشرق کا رخ کیا اور دوسرے علاقوں کے ساتھ ساتھ عرب (مکہ و مدینہ کے مقدس شہر بھی)، مصر اور لاویان کو فتح کیا۔ اگلی چند دہائیوں کے دوران میں شمالی افریقا کے ساحل کا بیشتر حصہ (مراکش کے سوا) عثمانی حلقۂ اقتدار کا حصہ بن گیا۔

سلطنت سولہویں صدی میں سلیمان عالی شان کے دور میں عروج پر پہنچی جب سلطنت مشرق میں خلیج فارس سے لے کر مغرب میں الجزائر تک اور جنوب میں یمن سے مجارستان/ہنگری تک اور شمال میں یوکرین کے کچھ حصوں تک پھیل گئ۔

1699ء کے بعد سے، داخلی جمود، مہنگی دفاعی جنگیں، یورپی استعمار اور اس کی کثیراللسانی رعایا کے درمیان میں قوم پرست بغاوت کی وجہ سے سلطنت عثمانیہ نے اگلی دو صدیوں کے دوران میں اپنے علاقے کھونے شروع کر دیئے۔ انیسویں صدی کے آغاز میں، سلطنت کے زوال کو ناکام بنانے کی کوشش میں کامیابی کے ساتھ متعدد انتظامی اصلاحات عمل میں لائی گئیں۔

پہلی جنگ عظیم میں اتحادیوں کے ہاتھوں اپنی شکست کے بعد سلطنت کا خاتمہ ہوا، ترک جنگ آزادی (1919–23) کے بعد نومبر 1922ء میں انقرہ کی اعلیٰ ترک قومی اسمبلی نے سرکاری طور پر اس سلطنت کو ختم کر دیا۔ سلطنت کے 600 سال سے زائد عرصے کے قیام سے، سلطنت عثمانیہ نے مشرق وسطی اور جنوب مشرقی یورپ میں ایک گہری میراث چھوڑ دی ہے، جیسا کہ ان مختلف ممالک کے رسم و رواج، ثقافت اور کھانے میں دیکھا جاسکتا ہے جو کبھی اس کے دائرے کا حصہ تھے۔

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم