جامعہ عربیہ العزیزیہ پرہارویہ

جامعہ عربیہ العزیزیہ پرہاڑویہ ، بستی پرھاڑ غربی شریف مضافات کوٹ ادو علامۃ الدہر سلطان العلما، مقدام الفقہا، قطب الموحدین، شیخ المسلمین، امام المتکلمین، زُبدۃ الاولیاء، صاحبِ علم و عمل، صاحب نبر اس حضرت علّامہ مولانا عبدالعزیز پرہاروی حنفی قریشی چشتی نظامی قُدِّسَ سِرُّہُ السَّامِی (1206ھ / 1792ء تا 1239ھ / 1824ء) کی قائم کردہ ایک اسلامی دینی درس گاہ ہے۔ حضرت علامہ مولانا عبدالعزیز پرہاروی نے اپنی ابتدائی تعلیم کا آغاز گھر "بستی پرھاڑ غربی شریف" سے ہی کیا جہاں ان کو والد کی شکل میں عظیم استاد ملا جہاں انہوں نے قرآن پاک حفظ کیا اور علم ریاضی سیکھا۔

پھر ملتان تشریف لائے اور خواجہ حافظ محمد جمال الدین چشتی ملتانی ( خلیفۂ مجاز خواجہ نور محمد مہاروی ) اور حضرت محبوب اللہ خواجہ خدابخش ملتانی چشتی سے علوم و فنون کا استفادہ کیا اور ان جیسے جلیل القدر اور علم و حکمت و وجاہت، زُبدۃ الاولیاء عارف بِاللہ، علّامۃالدہر، سلطانُ الفُضَلا اساتذہ ملے جن کے سایہ آفاق میں علم و حکمت و وجاہت کی منزلیں طے کیں۔۔ دوران میں تعلیم درواز بند کر کے مصروف مطالعہ تھے کہ کسی نے دروازہ پر دستک دی۔ آپ نے فرمایا میں مطالعے میں مصروف ہوں مجھے فرصت نہیں ہے۔ آنے والے نے کہا میں خضر ہوں، آپ نے فرمایا اگر آپ خضر (علیہ السلام ) ہیں تو آپ دروازہ کھولے بغیر بھی تشریف لانے پر قدرت رکھتے ہیں، چنانچہ خضر علیہ السلام اندر تشریف لے آئے اور آپ کے کندھوں کے درمیان میں دست اقدس رکھا، اللہ تعالیٰ کے بے پایاں فضل سے آپ کا سینہ علم و فضل اور روحانیت کا سمندر بن گیا ۔

جامعہ العریبیہ العزیزیہ پرہارویہ درسگاہ کی ازسرنو تعمیر و توسیع کا کام صفر المظفر 1379ھ میں شیخ المسلمین و حافظ الحدیث حضرت عبداللہ درخواستی رحمتہ اللہ علیہ کی زیر نگرانی میں شروع کیا گیا۔

علامہ عبدالعزیز پرہاروی رحمہ اللہ کی وفات کے بعد سے اب تک انکی ہی اولاد اس مدرسہ کہ دیکھ بھال کر رہی ہے۔ عصر حاضر کے امام و سلسلہ چشتیہ پرہارویہ کے خلیفہ حضرت مولانا محمد اقبال پرہاروی رحمتہ اللہ علیہ ہیں جن کو منصب انکے والد حضرت مولانا صوفی محمد یار پرہاروی عرف صدر صاحب سے ملا ۔

موسسترميم

حضرت علّامہ مولانا عبدالعزیز پرہاروی حنفی قریشی چشتی نےیہ ادارہ ایک چھوٹے سے مدرسہ کی حیثیت سے قائم کیا اب اس کی حیثیت کوٹ ادو کی سطح پر ایک بڑی اسلامی درسگاہ ہو گئی۔اس مدرسہ کی ساری ترقی و توسیع،شہرت و مقبولیت حضرت علّامہ مولانا عبدالعزیز پرہاروی جیسی گراں قدر ہستی کی مرہون منت ہے[1]۔

جامعہ عربیہ العزیزیہ پرہارویہ کی بنیادی ذمہ داریاںترميم

جامعہ عربیہ العزیزیہ پرہارویہ ، بستی پرھاڑ غربی شریف، پاکستان کی بنیادی ذمہ داریوں میں

  • ٭ قرآن و سنت پر مبنی دینی علوم کی تدریس کے سلسلہ میں سہولتیں بہم پہنچانا۔
  • ٭ ملحقہ مدارس و جامعات کے لیے جامع نصاب تعلیم مرتب کرنا اور اسے عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا۔
  • ٭ دینی مدارس و جامعات کو باہم مربوط و متحد کرنا اور ایک نظم کا پابند کرنا۔
  • ٭ ملحقہ مدارس و جامعات کے تمام تعلیمی مراحل ( ثانویہ عامہ، ثانویہ خاصہ، عالیہ، عالمیہ اور حفظ و تجوید اور قراء ات ) کے امتحانات کا انعقاد کرنا اور کامیاب طلبہ کو اسناد جاری کرنا ۔
  • ٭ ملحقہ مدارس و جامعات کے مفادات کا تحفظ کرنا ۔
  • ٭ اہم موضوعات پر علمی و تحقیقی مقالات اور کتب تیار کروانا اور ان کی طباعت کا اہتمام کرنا ۔
  • ٭ اساتذہ کے لیے تربیتی کورسز کا اہتمام کرنا اور طلبہ کی اصلاح و تربیت کے لیے اقدام کرنا ۔
  • ٭ ذہین اور محنتی طلبہ کی اعلی تعلیم کے لیے ملکی اور غیر ملکی جامعات میں سکالر شپ کے حصول کے لیے کوشش کرنا ۔
  • ٭ دینی مدارس و جامعات کی تاسیس کے مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے مسلسل اور مؤثر اقدامات کرنا۔
  1. احوال وآثا ر مولانا عبدالعزیز پرہاروی. متین کاشمیری. صفحہ 22.