جاپ (سُبحہ خوانی) منتر وغیرہ کا ورد، مالا پھیرنا یا دیوی دیوتا کا ذکر و فکر ہوتا ہے۔ یہ ہندو مت،[1] جین مت،[2] بدھ مت،[3] سکھ مت[4][5] اور شنتو مت میں کیا جاتا ہے۔

جے پور کے مہاراجہ سوائی مادھو سنگھ اول جاپ کرتے ہوئے۔

منتر یا کسی نام کا ذکر سری طور پر کیا جاتا ہے، شاید جاپ کرنے والا ہی سن سکے یا یہ جاپ کرنے والا دل میں پڑھے۔ جاپ حالتِ مراقبہ میں بھی کیا جاتا ہے۔

سکھ متترميم

جاپ سکھ عبادات کا ایک اہم جز ہے۔ دو مرکزی سکھ مقدس صحائف کے تمہیدی حصے اسی نام سے ہیں: جاپجی صاحب (گرو گرنتھ صاحب کا حصہ) اور جاپ صاحب (دسم گرنتھ کا حصہ)۔[6]

حوالہ جاتترميم

  1. Guy L. Beck (1995). Sonic Theology: Hinduism and Sacred Sound. Motilal Banarsidass. صفحات 92–93, 132–134. ISBN 978-81-208-1261-1. 
  2. Christopher Key Chapple (2015). Yoga in Jainism. Taylor & Francis. صفحات 311–312. ISBN 978-1-317-57217-6. 
  3. Shashi Bhushan Dasgupta؛ Sashibhusan Dasgupta (1958). An Introduction to Tāntric Buddhism. Calcutta University Press. صفحات 167–168. 
  4. S Deol (1998), Japji: The Path of Devotional Meditation, آئی ایس بی این 978-0966102703, page 11
  5. SS Kohli (1993). The Sikh and Sikhism. Atlantic Publishers. صفحات 33–34. 
  6. HS Singha (2009), The Encyclopedia of Sikhism, Hemkunt Press, آئی ایس بی این 978-8170103011, page 110