افتخار عارف کا تیسرا مجموعہ جہان معلوم کے عنوان سے ہے جو 21 مارچ 2005ء کو شائع ہوا۔ 55 غزلوں اور 20 نظموں کا یہ مجموعہ ہے۔ 'کچھ غزل اور افتخار عارف کے بارے میں' اور 'افتخار عارف کی نعت' کے عنوانات سے ڈاکٹر ابوالخیر کشفی کے دو اظہاریے بھی شامل کتاب ہیں۔ انتساب بیٹی، گیتی اور داماد، کامران اور ان کے دو بچوں اظہر اور زینب کے نام ہے۔ کتاب کے مصور حنیف رامے ہیں۔ مسعود، اخترالایمان، مشفق خواجہ، جون ایلیا، این میری شمل اور اناسواروا کی آرا بھی کتاب کی زینت ہیں۔

نمونہترميم

کوچ

جس روز ہمارا کوچ ہوگا
پھولوں کی دکانیں بند ہوں گی
شیریں سخنوں کے حرف دشنام
بے مہر زبانیں بند ہوں گی
پلکوں پہ نمی کا ذکر ہی کیا
یادوں کا سراغ تک نہ ہوگا
ہمواری ہر نفس سلامت
دل پر کوئی داغ تک نہ ہوگا
پامالی خواب کی کہانی
کہنے کو چراغ تک نہ ہوگا
معبود! اس آخری سفر میں
تنہائی کو سرخرو ہی رکھنا
جز تیرے نہیں کوئی نگہدار
اس دن بھی خیال تو ہی رکھنا
جس آنکھ نے عمر بھر رلایا
اس آنکھ کو بے وضو ہی رکھنا

جس روز ہمارا کوچ ہوگا
پھولوں کی دکانیں بند ہوں گی

حوالہ جاتترميم