"توہین رسالت قانون (معترضین کے دلائل)" کے نسخوں کے درمیان فرق

 
2۔ اس آرڈیننس کے تحت عفو و درگذر اور توبہ کی کوئی گنجائش نہیں۔ اگر کسی سے بھولے سے بھی کوئی غلطی ہو گئی ہے تو موجودہ آرڈیننس کے تحت آپ کو توبہ کا کوئی موقع نہیں ملے گا اور ہر حال میں قتل کی سزا ملے گی۔
 
== طائف کا واقعہ==
 
بوڑھی عورت پر ایک اعتراض یہ ہوتا ہے کہ شاید اُس وقت اسلام مکمل طور پر غالب نہ تھا اس لیے بوڑھی عورت کو قتل نہیں کیا گیا۔
مگر طائف کا یہ واقعہ اس کی تکذیب کر رہا ہے۔ طائف میں رسول اللہ (ص) مغلوب نہ تھے بلکہ جبرئیل امین انکی مدد کے لیے آ گئے تھے اور آپ (ص) سے اجازت طلب کرتے تھے کہ ایک دفعہ اجازت دیجئے تو ان اہل طائف پر عذاب الہی نازل فرمایا جائے۔ مگر رسول اللہ (ص) نے اس ہجو کی، بلکہ اس سے بڑھ کر تشدد کے نتیجے میں لہو لہان ہونے کے باوجود اہل طائف کا مارا جانا پسند نہ کیا اور مسلسل اللہ سے انکی ہدایت کی دعا کرتے رہے۔
 
چنانچہ یہ سوال اٹھتا ہے کہ شریعت میں ہجو کرنا سنگین گناہ ہے یا پھر اللہ کے رسول (ص) کو پتھر مار مار کر لہولہان کر دینا؟
 
صحیح بخاری و صحیح مسلم
 
حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک (دن ) عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا احد کے دن سے بھی زیادہ سخت کوئی دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم پرگذرا ہے ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے (حضرت عائشہ کا یہ سوال سن کر)فرمایا :تمہاری ا س قوم کی طرف سے جو صورت حال پیش آئی تھی وہ احد کے دن سے کہیں زیادہ مجھ پر سخت تھی اوریہ عقبہ کے دن کا واقعہ ہے جب میں نے تمہاری اس قوم سے ایسی سخت اذیتیں اٹھائیں جن سے زیادہ سخت اذیتیں ان کی طرف سے عمر بھر مجھے کبھی نہیں پہنچیں ہوا یہ تھا کہ میں اس دن ابن عبد یا لیل ابن کلال کے پاس پہنچا (اور اس کو اسلام قبول کرنے کی تلقین کی ) لیکن اس نے میری (تلقین پر کوئی توجہ نہیں دی اور میں رنجیدہ وغمگین اپنے منہ کی سیدھ میں چل پڑا ( اور چلتا ہی رہا ) یہاں تک کہ قرن ثعالب پہنچ کر میرے حواس قابومیں آئے ،میں نے اپنا سر اوپر اٹھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک (بڑا ) ابر کا ٹکڑا ہے جو مجھ پر سایہ کئے ہوئے ہے اورپھر اچانک میری نظر اس ابر کے ٹکڑے میں جبرئیل علیہ السلام پر پڑی ۔جبرئیل علیہ السلام نے مجھے مخاطب کیا اورکہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پروردگار نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم کی بات سن لی اوراس کا وہ جواب بھی سن لیا جو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا ہے (یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو برا بھلا کہنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلانا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذا پہنچانا سب معلوم ہے ) اور اب اس (پروردگار )نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہا ڑوں کے فرشتہ کو(جس کے سپرد تمام روئے زمین کے کوہ وجبل کی عملداری ہے )اس لئے بھیجا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قوم (کی ہلاکت وتباہی اور ان تمام ظالموں کو پہاڑوں میں دبا دینے )کے بارے میں جو چاہیں حکم صادر فرمائیں ۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :اس کے بعد پہاڑوں کے فرشتہ نے مجھ کو (یانبی !یامحمد !کہہ کر )مخاطب کیا اورسلام کرکے کہا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم کی بات سن لی ہے ،میں پہاڑوں کا فرشتہ ہوں ،مجھ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پروردگار نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پروردگار نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس لئے بھیجا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اپنے فیصلہ کی تعمیل کاحکم دیں ،اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم کے لوگوں پر ان دونوں پہاڑوں اخشبین کو الٹ دوں (جن کے نیچے دب کر سب کے سب نیست ونابود ہوجائیں ) '''رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (یہ سن کر ) فرمایا (میں ان کی ہلاکت کا خواہاں نہیں ہوسکتا )بلکہ میں تو یہ امیدرکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان کی نسل میں سے ایسے لوگ پیدا فرمادے جو صرف اسی ایک خدا کی عبادت کریں اورکسی بھی چیز کو اس کا شریک قرار نہ دیں (بخاری ومسلم)'''
 
اس واقعہ میں بہت بڑی نصیحت ہے جب رسول اللہ (ص) توہین سے کہیں زیادہ بڑھ کر اذیت اور خون بہانے کے جرم کے باوجود یہ کہتے ہوئے اہل طائف کے لیے دعا کر رہے ہیں کہ اگر ان کو ہدایت کی توفیق نصیب نہیں ہوئی تو کیا ہوا ،یقینا اللہ تعالیٰ ان کی اولاد میں سے ایسے لوگ ضرور پیدا کردے گا جو کفر وشرک کی راہ چھوڑ کر ایمان واسلام کی آغوش میں آجائیں گے
 
==حکم بن العاص کو شدید ترین توہین رسالت پر بھی قتل کی سزا نہیں دی گئی==
144

ترامیم