"توہین رسالت قانون (معترضین کے دلائل)" کے نسخوں کے درمیان فرق

کوئی ترمیمی خلاصہ نہیں
 
2۔ اس آرڈیننس کے تحت عفو و درگذر اور توبہ کی کوئی گنجائش نہیں۔ اگر کسی سے بھولے سے بھی کوئی غلطی ہو گئی ہے تو موجودہ آرڈیننس کے تحت آپ کو توبہ کا کوئی موقع نہیں ملے گا اور ہر حال میں قتل کی سزا ملے گی۔
 
==عبداللہ ابن ابی کا شان رسالت میں گستاخی کرنا اور اس پر کسی سزا کا نفاذ نہ ہونا==
 
عبداللہ ابن ابی نے رسول اللہ (ص) کی شان میں انتہائی گستاخی کی۔ اس گستاخی پر نہ رسول اللہ (ص) نے اسکے قتل کا حُکم دیا اور نہ ہی وہاں پر موجود مسلمانوں نے اسے قتل کیا۔ اور اللہ نے بھی اسکے قتل کا حُکم نہیں دیا اور آیت تو نازل ہوئی مگر وہ اسے قتل کرنے کی نہیں تھی بلکہ یہ تھی کہ اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان میں صلح کروا دو۔
 
صحیح بخاری، کتاب الصلح:
 
:ہم سے مسدد نے بیان کیا کہا ہم سے معتمر بن سلیمان نے بیان کیا کہا میں نے اپنے باپ سے سنا کہ انسؓ نے کہا لوگوں نے نبی (ص) کو رائے دی اگر آپ عبداللہ بن ابی کے پاس تشریف لے چلیں تو بہتر ہے یہ سن کر آپؐ ایک گدھے پر سوار ہو کر اس کے پاس گئے مسلمان آپؐ کے ساتھ چلے وہاں کی زمین کھاری تھی جب آپ اس (عبداللہ ابن ابی) کے پاس پہنچے تو وہ رسول (ص) کو کہنے لگا کہ چلو پرے ہٹو تمہارے گدھے کی بد بو نے میرا دماغ پریشان کر دیا ہے۔ یہ سن کر ایک انصاری (عبداللہ بن رواحہ) بولے خدا کی قسم رسول اللہ (ص) کا گدھا تجھ سے زیادہ خوشبودار ہے اس پر عبداللہ کی قوم کا ایک شخص (صحابی) غصے ہوا۔ دونوں میں گالی گلوچ ہوئی اور دونوں طرف کے لوگوں کو غصہ آیا اور وہ چھڑیوں، ہاتھوں اور جوتوں سے آپس میں لڑ پڑے۔ انسؓ نے کہا ہم کو یہ بات پہنچی کہ (سورت حجرات کی آیت وَ اِن طَائِفَتَانِ ِمنَ المُؤمِنِینَ اقتَتَلُوا فَاصلحُوا بَینھمَا) اسی بات میں اتری۔ (یعنی مسلمانوں کے دو گروہ لڑ پڑیں تو ان میں صلح کروا دو)۔
عبداللہ ابن ابی نے رسول اللہ (ص) کی شانِ اقدس میں براہ راست یہ گستاخی کی، مگر رسول اللہ (ص) نے پھر بھی صبر و ضبط کا مظاہرہ کیا اور فوراً ہی اسکے قتل کے در پے نہیں ہو گئے اور اگرچہ کہ دو مسلمان گروہوں میں ابتدائی طور پر جھگڑا ہوا، مگر رسول اللہ (ص) کی اس صبر و تحمل کی وجہ سے یہ جھگڑا ختم ہو گیا۔
 
==قرآن کی گواہی کہ یہودی رسول (ص) کی توہین کیا کرتے تھے==
144

ترامیم