"توہین رسالت قانون (معترضین کے دلائل)" کے نسخوں کے درمیان فرق

کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
 
2۔ اس آرڈیننس کے تحت عفو و درگذر اور توبہ کی کوئی گنجائش نہیں۔ اگر کسی سے بھولے سے بھی کوئی غلطی ہو گئی ہے تو موجودہ آرڈیننس کے تحت آپ کو توبہ کا کوئی موقع نہیں ملے گا اور ہر حال میں قتل کی سزا ملے گی۔
 
==قرآن کی ہدایت کہ مسلمان اہل کتاب ومشرکین کی بدگوئی پر صبر و ضبط کا مظاہرہ کریں==
 
یہود و مشرکین اسلام اور رسول اللہ (ص) کے متعلق ایسی بدگوئیاں کرتے تھے جن سے مسلمانوں کو بہت ایذا پہنچتی تھی۔ مگر اس پر اللہ تعالی کی طرف سے مسلمانوں کو حکم جاری ہو رہا ہے کہ وہ صبر اختیار کریں۔
 
:[جوناگڑھی، سورۃ آل عمران 3:186] ۔۔۔ اور یہ بھی یقین ہے کہ تمہیں ان لوگوں کی جو تم سے پہلے کتاب دیے گئے اور مشرکوں کی بہت سی دکھ دینے والی باتیں سننا پڑیں گی۔ اور اگر تم صبر کر لو اور پرہیزگاری اختیار کرو تو یقینا یہ بہت بڑی ہمت کا کام ہے۔
 
اس آیت کی تفسیر میں صلاح الدین صاحب (قرآن بمع ترجمہ و تفسیر، شاہ فہد پرنٹنگ پریس )لکھتے ہیں:
 
:اہل کتاب سے مراد یہود و نصاریٰ ہیں۔ یہ نبی (ص) ، اسلام اور مسلمانوں کے خلاف مختلف انداز سے طعن و تشنیع کرتے رہتے تھے۔ اسی طرح مشرکین عرب کا حال تھا۔ علاوہ ازیں مدینہ میں آنے کے بعد منافقین بالخصوص ان کا رئیس عبداللہ بن ابی بھی آپ (ص) کی شان میں استخفاف کرتا رہتا تھا۔ آپ (ص) کے مدینہ آنے سے قبل اہل مدینہ اسے اپنا سردار بنانے لگے تھے اور اس کے سر پر تاج سیادت رکھنے کی تیاری مکمل ہو چکی تھی کہ آپ (ص) کے آنے سے اس کا یہ سارا خواب بکھر کر رہ گیا جس کا اسے شدید صدمہ تھا۔ چنانچہ انتقام کے طور پر بھی یہ شخص آپ (ص) کے خلاف سب و شتم کا کوئی موقعہ ہاتھ سے نہیں جانے دیتا تھا ۔ ان حالات میں مسلمانوں کو عفو و درگذر اور صبر اور تقویٰ اختیار کرنے کی تلقین کی جارہی ہے۔ جس سے معلوم ہوا کہ داعیان حق کا اذیتوں اور مشکلات سے دوچار ہنا اس راہ حق کے ناگزیر مرحلوں میں سے ہے اور اس کا علاج صبر فی اللہ، استعانت باللہ اور رجوع الی اللہ کے سوا کچھ نہیں ۔
 
=="صحیح" حدیث کہ اسلام میں قتل کی سزا صرف تین صورتوں میں==
144

ترامیم