"توہین رسالت قانون (معترضین کے دلائل)" کے نسخوں کے درمیان فرق

 
اب حضرت عائشہ، عبداللہ ابن مسعود، حضرت عثمان وغیرہ نے پوری مدنی زندگیاں رسول اللہ (ص) کے ساتھ گذاری ہیں۔ ساتھ میں یہ بڑے پائے کے فقیہ بھی ہیں۔ اگر رسول اللہ (ص) کی زندگی میں ایسا کوئی واقعہ ہوا ہوتا جس میں گستاخی رسول پر کسی کو قتل کیا گیا ہوتا تو وہ واقعہ یقینا ان لوگوں کی نظر میں ہوتا۔
 
==امام ابو حنیفہ، امام ثوری اور اہل کوفہ کا مذہب کہ توہینِ رسالت کی سزا موت نہیں==
 
امام قرطبی نے اپنی تفسیر میں سورۃ توبہ کی آیت 12 کے ذیل میں، اور عون المعبود میں "باب الحکم فیمن سِب النبی" کے ذیل میں امام المنذری کے حوالے درج ہے کہ:
 
:أبا حنيفة والثوري وأتباعهما من أهل الكوفة فإنهم قالوا: لا يقتل، ما هو عليه من الشرك أعظم، ولكن يؤدب ويعزر. والحجة عليه قوله تعالى: "وإن نكثوا" الآية.
 
:یعنی امام ابو حنیفہ، امام سفیان ثوری اور انکی اتباع میں اہل کوفہ کا قول ہے کہ شاتم رسول (ص) کو قتل کی سزا نہیں دی جائے گی ،ان کی دلیل یہ ہے کہ مشرک کو شرک کے جرم میں قتل کرنا جائز نہیں حالانکہ شرک سب سے بڑا جرم ہے۔بلکہ (قتل) کی بجائے انہیں ادب سکھایا جائے اور تعزیر لگائی جائے (یعنی ہلکی سزا جس کا فیصلہ حکومتِ وقت کرے)۔ اور انہوں نے حجت پکڑی ہے اللہ تعالی کے اس قول سے "وان نکثوا" والی آیت۔
 
اور سورۃ توبہ کی یہ آیت نمبر 12 یہ ہے:
 
:وَإِنْ نَكَثُوا أَيْمَانَهُمْ مِنْ بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَطَعَنُوا فِي دِينِكُمْ فَقَاتِلُوا أَئِمَّةَ الْكُفْرِ ۙ إِنَّهُمْ لَا أَيْمَانَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ يَنْتَهُونَ﴿009:012﴾
‏ [
:ترجمہ محمودالحسن‏]))))))::::َ/ََ:ِؒ:: اور اگر وہ توڑ دیں اپنی قسمیں عہد کرنے کے بعد اور عیب لگائیں تمہارے دین میں تو لڑو کفر کے سرداروں سے بیشک ان کی قسمیں کچھ نہیں تاکہ وہ باز آئیں۔
 
تفسیر صلاح الدین (شاہ فہد پرنٹنگ پریس کا شائع کردہ) میں اس آیت کے ذیل میں درج ہے:۔
 
:اس سے احناف نے استدلال کیا ہے کہ ذمی (اسلامی مملکت میں رہائش پذیر غیر مسلم) اگر نقض عہد نہیں کرتا۔ البتہ دین اسلام میں طعن کرتا ہے تو اسے قتل نہیں کیا جائے گا کیونکہ قرآن نے اس سے قتال کے لیے دو چیزیں ذکر کی ہیں اس لیے جب تک دونوں چیزوں کا صدور نہیں ہوگا وہ قتال کا مستحق نہیں ہوگا۔
 
==فقہائے احناف کا فتوی کہ سزا صرف "عادی" اور "معمول بنا لینے" والے مجرم کو دی جائے==
144

ترامیم