"توہین رسالت قانون (معترضین کے دلائل)" کے نسخوں کے درمیان فرق

جبکہ فقہائے احناف کے بیان کردہ طریقے کے مطابق اگر آرڈیننس میں "عفو و درگذر اور توبہ" کا دروازہ کھلا ہو، اور پہلی مرتبہ میں ہی "فوراً" ہی قتل نہ کر دیا جائے، تو پھر یہ سقم خود بخود دور ہو جائیں گے اور کوئی شریر انسان انکو اپنی ذاتی دشمنیاں نکالنے کے لیے ہرگز استعمال نہیں کر سکے گا۔ نہ کسی بے گناہ کو قتل کیا جائے گا، اور نہ محمد رحمت اللعالمین (ص) کا دین بدنام ہو گا۔
بہت ضروری ہے کہ فقہائے احناف کی ان پیش کردہ صحیح تعبیرات کو موجودہ آرڈیننس کا حصہ بنایا جائے تاکہ موجودہ دور کے علماء حضرات نے جو غلط تعبیرات عدالتوں کے حوالے کی ہوئی ہیں، انکا خاتمہ ہو سکے اور کسی بے گناہ کو سزا نہ ہونے پائے۔
 
== وہ ضعیف واقعات جنہیں توہین رسالت کے موجودہ قانون کو ثابت کرنے کے استعمال کیا جاتا ہے ==
 
اصول یہ ہے کہ اسلامی شریعت کے "قوانین" بناتے وقت "ضعیف" روایات کا استعمال نہیں ہو سکتا۔ خاص طور پر جب کہ موت و قتل جیسے قوانین بنائے جا رہے ہوں۔ مگر اسکے باوجود توہین رسالت قانون کو سہارا دینے کے لیے ضعیف روایات کا استعمال کیا جاتا ہے جو کہ غلط ہے۔
 
عصماء بنتِ مروان کا واقعہ یہ ہے:
 
 
:عصما بنت مروان رسول ا کو ایذاء اور تکلیف دیا کرتی تھی ۔ اسلام میں عیب نکالتی اور نبی اکے خلاف لوگوں کو اکساتی تھی۔ عمیر بن عدی الخطمی ، جو کہ نابینا (اندھے) تھے، ان کو جب اس عورت کی باتوں اور اشتعال انگیزی کا علم ہوا تو کہنے لگے کہ اے اللہ! میں تیری بارگاہ میں نذر مانتا ہوں اگر تو نے رسول ا کو بخیر و عافیت مدینہ منورہ لوٹا دیا تو میں اسے ضرور قتل کردوں گا۔ رسول ا اس وقت بدر میں تھے۔ جب آپ ا غزوہ بدر سے تشریف لائے تو عمیر بن عدی آدھی رات کے وقت اس عورت کے گھر میں داخل ہوئے تو اس کے اردگرد اس کے بچے سوئے ہوئے تھے۔ ایک بچہ اس کے سینے پر تھا جسے وہ دودھ پلا رہی تھی۔ عمیرنے اپنے ہاتھ سے اس عورت کو ٹٹولا تو معلوم ہوا کہ یہ عورت اپنے بچے کو دودھ پلا رہی ہے۔ عمیر نے بچے کو اس سے الگ کر دیا پھر اپنی تلوار کو اس کے سینے پر رکھ کر اس زور سے دبایا کہ وہ تلوار اس کی پشت سے پار ہوگئی۔پھر نماز فجر رسول اللہ(ص) کے ساتھ ادا کی جب نبی اکرم (ص) نماز سے فارغ ہوئے تو عمیر کی طرف دیکھ کر فرمایا کیا تم نے بنت مروان کو قتل کیا ہے ؟ کہنے لگے ۔ جی ہاں ۔ میرے ماں باپ آپ(ص) پر قربان ہوں۔
 
یہ وہ روایت ہے جو مسلمانوں پر بہت سخت ہے اور اسلام مخالفین ہر جگہ اسے بیان کر کے ثابت کر رہے ہوتے ہیں کہ (معاذ اللہ) رسولِ خدا انتہائی بے رحم اور ظالم شخص تھے اور ان کے اصحاب کو اس بات کی بھی پرواہ نہیں ہوتی تھی کہ وہ اس بات کا انتظار کر لیں کہ بچہ اپنی ماں کا دودھ پی کر فارغ ہی ہو جائے، بلکہ اُس دودہ پیتے بچے کو الگ کر کے اُسی وقت اُس کی ماں کو قتل کر دیا جاتا ہے۔
 
حیرت کی بات ہے کہ یہ صحابی نابینا تھے، مگر اسکے باوجود اس عورت کے گھر تک اکیلے پہنچ جاتے ہیں، پھر اکیلے اندھیرے میں اس انجان گھر میں اس عورت کو اندھیرے میں چیزوں کو ٹٹولتے ہوئے ڈھونڈتے پھرتے ہیں اور اس پورے وقت میں کسی گھر والے کی آنکھ نہیں کھلتی۔ پھر ایک عورت ملتی ہے اور ٹٹولنے پر پتا چلتا ہے کہ وہ بچے کو دودھ پلا رہی ہے۔ پھر اس دودھ پیتے بچے کو زبردستی الگ کیا جاتا ہے مگر پھر بھی ماں جاگتی ہے اور نہ کوئی اور گھر والا (اگر کسی دودھ پیتے بچے کو الگ کیا جائے تو وہ فورا رونا شروع کر دیتا ہے)۔
 
اور پھر یہ صحابی تقریبا ًاندھے تھے اور ساتھ ہی ساتھ آدھی رات کا گھپ اندھیرا بھی تھا۔ تو پھر انہیں کیسے یقین ہوا کہ جس عورت کو وہ قتل کرنے جا رہے ہیں وہ کوئی اور نہیں بلکہ عصماء بنت مروان ہی ہے؟
 
درایت کے علاوہ سند کے حساب سے بھی یہ بالکل ضعیف روایت ہے۔ الشیخ ناصر الدین الالبانی صاحب اس روایت کو اپنی کتاب "سلسلۃ الاحادیث الضعیفہ و الموضوعۃ ، روایت نمبر 6013” کے ذیل میں نقل کیا ہے (یعنی انکے نزدیک یہ روایت ضعیف اور جھوٹی گھڑی ہوئی روایت ہے)۔
 
اور ابن عدی، علامہ ابن جوزی اور ابن معین نے کہا ہے کہ اس روایت کا ایک راوی "محمد بن الحاج" ہے جو کہ جھوٹی حدیث گھڑا کرتا تھا اور کذاب اور خبیث تھا، چنانچہ یہ روایت موضوع (گھڑی ہوئی) ہے۔
 
آج جو ہم اپنے مسلم معاشرے میں انتہاپسندی دیکھ رہے ہیں، اسکی ایک وجہ ایسی جھوٹی روایات کا عوام کو سنا سنا کر انہیں برین واش کرنے کی وجہ سے بھی ہے، کیونکہ اس روایت پر یقین لانے کے بعد ایک عام مسلمان کے دل میں رحمدلی کا کوئی تھوڑا بہت جذبہ بھی باقی رہ جائے کیونکہ اگر ایک دودھ پیتا بچہ اپنی ماں کے ہونے والے خون کو اگر کچھ منٹوں کے لیے نہیں ٹال سکا تو پھر کسی اور پر رحم کھانا تو ناممکن ہی ہے۔ انہی واقعات کی وجہ سے "ماورائے عدالت" قتل کرنا آج فیشن کی صورت میں پھیلتا ہوا آپ کو نظر آ رہا ہے۔
 
ایسے ہی ضعیف واقعات میں ابو عفک یہودی <ref>http://www.al-eman.com/Islamlib/viewchp.asp?BID=183&CID=21&SW=%DA%DD%DF#SR1 </ref> اور انس بن زنیم<ref>http://www.al-eman.com/islamlib/viewchp.asp?BID=400&CID=6</ref> کا واقعہ بھی ہے جسکی اسناد اس قابل نہیں کہ ان کوبذات خود علماء حضرات کے وضع کیے ہوئے اصولوں کے مطابق بطور حجت پیش کیا جا سکے۔
 
==وہ واقعات جن میں قتل کی وجہ صرف گستاخی رسول نہ تھی==
144

ترامیم