"توہین رسالت قانون (معترضین کے دلائل)" کے نسخوں کے درمیان فرق

 
2۔ اس آرڈیننس کے تحت عفو و درگذر اور توبہ کی کوئی گنجائش نہیں۔ اگر کسی سے بھولے سے بھی کوئی غلطی ہو گئی ہے تو موجودہ آرڈیننس کے تحت آپ کو توبہ کا کوئی موقع نہیں ملے گا اور ہر حال میں قتل کی سزا ملے گی۔
 
=="صحیح" حدیث کہ اسلام میں قتل کی سزا صرف تین صورتوں میں==
(ابو قلابہ فرماتے ہیں) میں اللہ کی قسم کھاتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بجز تین حالتوں کے کسی اور حالت میں کسی کو قتل نہیں کیا، ایک وہ جو قصاص میں قتل کیا گیا، جس نے شادی شدہ ہو کر زنا کیا، یا وہ جس نے اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کی، اور اسلام سے پھر گیا۔<ref>http://www.islamweb.net/hadith/display_hbook.php?bk_no=146&hid=6420&pid=369412</ref>
 
یہی روایت دیگر مستند کتابوں (صحیح مسلم، سنن ابو داؤد، مسند احمد، ابن ماجہ، ترمذی۔۔۔) میں حضرت عائشہ ، حضرت عبداللہ ابن مسعود حضرت عثمان ابن عفان سے مختلف اسناد سےمروی ہے۔
 
اب حضرت عائشہ، عبداللہ ابن مسعود، حضرت عثمان وغیرہ نے پوری مدنی زندگیاں رسول اللہ (ص) کے ساتھ گذاری ہیں۔ ساتھ میں یہ بڑے پائے کے فقیہ بھی ہیں۔ اگر رسول اللہ (ص) کی زندگی میں ایسا کوئی واقعہ ہوا ہوتا جس میں گستاخی رسول پر کسی کو قتل کیا گیا ہوتا تو وہ واقعہ یقینا ان لوگوں کی نظر میں ہوتا۔
 
==فقہائے احناف کا فتوی کہ سزا صرف "عادی" اور "معمول بنا لینے" والے مجرم کو دی جائے==
144

ترامیم