"توہین رسالت قانون (معترضین کے دلائل)" کے نسخوں کے درمیان فرق

 
2۔ اس آرڈیننس کے تحت عفو و درگذر اور توبہ کی کوئی گنجائش نہیں۔ اگر کسی سے بھولے سے بھی کوئی غلطی ہو گئی ہے تو موجودہ آرڈیننس کے تحت آپ کو توبہ کا کوئی موقع نہیں ملے گا اور ہر حال میں قتل کی سزا ملے گی۔
 
==فقہائے احناف کا فتوی کہ سزا صرف "عادی" اور "معمول بنا لینے" والے مجرم کو دی جائے==
 
فقہاے احناف کے نزدیک اس جرم کے مرتکب کی سزا قتل نہیں اور عام حالات میں کسی کم تر تعزیری سزا پر ہی اکتفا کی جائے گی، البتہ اگر کوئی غیر مسلم اس عمل کو ایک" عادت" اور"معمول" کے طور پر اختیار کر لے تو اسے موت کی سزا بھی دی جا سکتی ہے۔
 
حوالہ: ابن عابدین، رسائل ابن عابدین ١/٣٥٤
 
==موجودہ آرڈیننس کے غلط استعمال کو کسی صورت نہیں روکا جا سکتا==
144

ترامیم