"توہین رسالت قانون (معترضین کے دلائل)" کے نسخوں کے درمیان فرق

 
2۔ اس آرڈیننس کے تحت عفو و درگذر اور توبہ کی کوئی گنجائش نہیں۔ اگر کسی سے بھولے سے بھی کوئی غلطی ہو گئی ہے تو موجودہ آرڈیننس کے تحت آپ کو توبہ کا کوئی موقع نہیں ملے گا اور ہر حال میں قتل کی سزا ملے گی۔
 
==ابو رافع یہودی کا واقعہ ==
 
اس ابو رافع کا جرم بھی صرف یہ نہیں تھا کہ اس نے رسول (ص) کی ہجو کی تھی، بلکہ اسکا جرم اس سے بڑھ کر تھا اور یہ مسلمانوں کے خلاف عملی سازشوں میں ملوث تھا جس سے عملا مسلمانوں کو جانی نقصان پہنچنے کا خطرہ تھا۔ صحیح بخاری میں اسکا ذکر یوں ہے:۔
 
<blockquote>ہم سے یوسف بن موسیٰ نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبید اللہ بن موسیٰ نے بیان کیا ، ان سے اسرائیل نے ، ان سے ابو اسحاق نے اور ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو رافع یہودی ( کے قتل ) کے لیے چند انصاری صحابہ کو بھیجا اور عبداللہ بن عتیک رضی اللہ عنہ کو ان کا امیر بنایا ۔ یہ ابو رافع حضور(ص) کو ایذا دیا کرتا تھا اور آپ کے دشمنوں کی مدد کیا کرتا تھا ۔حجاز میں اس کا ایک قلعہ تھا اور وہیں وہ رہا کرتا تھا ۔</blockquote>
 
حافظ ابن حجر عسقلانی ، ابو رافع یہودی کے قتل کے بارے میں مذکورہ بالا حدیث کی شرح بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔
 
<blockquote>اس حدیث سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ ایسے لوگوں پر اچانک چھاپہ مارکاروائی کی جا سکتی ہےجن سے مسلمانوں کو انتہائی درجہ کی اذیتیں لاحق ہو رہی ہوں۔</blockquote>
 
چنانچہ ابو رافع کی روایت سے بھی موجودہ توہینِ رسالت آرڈیننس ثابت نہیں ہو رہا ہے۔
 
==ابن اخطل کا واقعہ ==
144

ترامیم