"توہین رسالت قانون (معترضین کے دلائل)" کے نسخوں کے درمیان فرق

 
2۔ اس آرڈیننس کے تحت عفو و درگذر اور توبہ کی کوئی گنجائش نہیں۔ اگر کسی سے بھولے سے بھی کوئی غلطی ہو گئی ہے تو موجودہ آرڈیننس کے تحت آپ کو توبہ کا کوئی موقع نہیں ملے گا اور ہر حال میں قتل کی سزا ملے گی۔
 
==ابن اخطل کا واقعہ ==
 
ابن خطل کے بارہ میں علامہ طیبی فرماتے ہیں کہ:
 
<blockquote>ابن اخطل مسلمان تھا مگر پھر مرتد ہوگیا تھا اور اس نے ایک مسلمان کو قتل کردیا تھا ۔ جو اس کا خدمت گار تھا،(فتح الباری) نیز اس نے ایک پیشہ ور گانے والی لڑکی پال رکھی تھی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، آپ کے صحابہ کرام اور اسلام کے احکام وشعائر کی ہجو کرتی تھی اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو مارڈالنے کا حکم دیا۔ اس بات سے حضرت امام مالک اور حضرت امام شافعی یہ استدلال کرتے ہیں کہ حرم مکہ میں قصاص اور حدود سزائیں جاری کرنا جائز ہے ، حضرت امام ابو حنیفہ کے نزدیک یہ جائز نہیں ہے، امام صاحب فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابن خطل کے قتل کا حکم اس لئے دیا کہ وہ مرتد ہوگیا تھا، تاہم اگر یہ مان لیا جائے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو قصاص کے طور پرقتال کرایا تو پھر یہ کہا جائے گا کہ اس کا قتل اس خاص ساعت میں ہوا ہوگا جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے زمین حرم مباح کر دی گئی تھی۔</blockquote>
 
ابن اخطل کے قتل کی بنیادی وجہ اسکا مرتد ہونا اور اسکا ایک مسلمان کو قتل کر دینا تھا ۔ پھر ابن اخطل نے اپنی "عادت " اور "معمول" بنا رکھا تھا کہ وہ اسلام اور رسول اللہ (ص) کے شان میں بیہودہ باتیں کرتا تھااور لوگوں کو مسلمانوں سے لڑنے کے لیے اکساتا تھا۔ فتح مکہ کے وقت وہاں ایسے بے تحاشہ لوگ موجود تھے جنہوں نے رسول اللہ ص کی شان میں گستاخیاں کی تھیں، مگر ابن اخطل کے لیے خاص طور پر احکامات اس لیے جاری ہوئے کیونکہ وہ مرتد ہو گیا تھا اور اس نے ایک مسلمان کو قتل کر دیا تھا۔
 
چنانچہ ابن اخطل کے قتل سے بھی موجودہ آرڈیننس کو ثابت نہیں کیا جا سکتا۔
 
ابن اخطل کے قتل کے حوالے سے یہ روایت بھی اہم ہے اور اسکی وجوہات پر روشنی ڈالتی ہے<ref>http://saha-e-sittah.com/search.php?t=&fnt=a&f=23870&p=2388</ref> ۔
 
<blockquote>زکریا بن یحیی، اسحاق بن ابراہیم، علی بن حسین بن واقد، وہ اپنے والد سے، یزید نحوی، عکرمة، ابن عباس سے روایت ہے کہ خداوند قدوس نے اس فرمان مبارک میں کہ (إِنَّمَا جَزَائُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ) آخر تک یہ آیت مشرکین کے سلسلہ میں نازل ہوئی ہے جو ان لوگوں میں سے توبہ کرے گرفتار کیے جانے سے قبل تو اس کو سزا نہیں ہوگی اور یہ آیت مسلمان کے واسطے نہیں ہے اگر مسلمان قتل کرے یا ملک میں فساد برپا کرے اور خدا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جنگ کرے پھر وہ کفار کے ساتھ شامل ہو جائے تو اس کے ذمہ وہ حد ساقط نہیں ہوگی (اور جس وقت وہ شخص اہل اسلام کے ہاتھ آئے گا تو اس کو سزا ملے گی)۔</blockquote>
 
==فتح مکہ پر قتل کرنے کے واقعہ سے احتجاج کرنا درست نہیں==
144

ترامیم