"توہین رسالت قانون (معترضین کے دلائل)" کے نسخوں کے درمیان فرق

 
2۔ اس آرڈیننس کے تحت عفو و درگذر اور توبہ کی کوئی گنجائش نہیں۔ اگر کسی سے بھولے سے بھی کوئی غلطی ہو گئی ہے تو موجودہ آرڈیننس کے تحت آپ کو توبہ کا کوئی موقع نہیں ملے گا اور ہر حال میں قتل کی سزا ملے گی۔
 
== اہل مکہ کی بدعہدی ==
 
اہل مکہ سے صلح حدیبیہ ہوئی تھی۔ مگر انہوں نے بدعہدی کی۔ ابن کثیر الدمشقی سورۃ توبہ کی آیت 7 کی تفسیر میں لکھتے ہیں:
 
<blockquote>"صلح حدیبیہ دس سال کے لیے ہوئی تھی۔ ماہ ذی القعدہ سنہ ٦ ہجری سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس معاہدہ کو نبھایا یہاں تک کے قریشیوں کی طرف سے معاہدہ توڑا گیاان کے حلیف بنو بکر نے رسول اللہ صلی للہ علیہ وسلم کے حلیف خزاعہ پر چڑھائی کی بلکہ حرم میں بھی انہیں قتل کیا"</blockquote>
 
چنانچہ مکہ کو فتح کرنے کے بعد وہاں کے واقعات سے توہین رسالت آرڈیننس کے واقعات تلاش کرنا ہرگز درست نہیں کیونکہ وہاں صرف ان 5 افراد ہی نہیں بلکہ پوری آبادی کا قتل حلال ہو چکا تھا کیونکہ یہ قصاص تھا خزاعہ کے بہائے جانے والے خون کا۔ اگر توہین رسالت کے جرم میں ہی قتل کرنا ہوتا تو مکہ، طائف و خیبر وغیرہ میں ان 5 افراد سے کہیں زیادہ لوگ توہینِ رسالت کرتے تھے اور آپ (ص) کو ایذا دیتے رہے تھے اور آپ (ص) کو خون تک میں لہولہان کر چکے تھے۔ یہ دیکھیے، یہ تھا پورے اہل قریش کا طرز عمل:
 
<blockquote>صحیح بخاری:</blockquote><blockquote>اورحضرت ابوہریرہ کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (ایک دن صحابہ سے ) فرمایا کہ تمہیں اس پر حیرت نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ کو قریش مکہ کی گالیوں اورلعنتوں سے کس طرح محفوظ رکھا ہے ؟وہ مذمم کو گالیاں دیتے ہیں اور مذمم پر لعنت کرتے ہیں جب کہ میں ''محمد '' ہوں ۔''(بخاری)<br>تشریح:'' مذمم '' معنی کے اعتبار سے ''محمد ''کی ضد ہے یعنی وہ شخص جس کی مذمت وبرائی کی گئی ہویہ لفظ قریش مکہ کے بغض وعناد کا مظہر تھا ،وہ بدبخت آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم کو ''محمد '' کہنے کے بجائے مذمم کہا کرتے تھے اوریہی نام لے لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میںبد زبانی کرتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر لعن وطعن کیا کرتے تھے ،چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کو تسلی دینے کے لئے فرمایا کرتے تھے کہ قریش مکہ جو بدزبانی کرتے ہیں اور سب وشتم کے تیر پھینکتے ہیں ، ان کی آزردہ خاطر ہونے کی ضرورت نہیں ہے ، وہ بدبخت تو مذمم کو اپنا نشانہ بناتے ہیں اور مذمم پر لعن طعن کرتے ،اورمیں مذمم نہیں ہوں بلکہ محمد ہوں ،یہ تو اللہ کا فضل ہے کہ اس نے میرے نام کو جومیری ذات کا مظہر ہے ،ان حاسدوں کی گالیوں اور لعن طعن کانشانہ بننے سے بچا رکھا ہے ۔</blockquote>
 
اور جن 5 افراد کو قتل کیا گیا انہوں نے کوئی ایک آدھ مرتبہ ہی توہین رسالت کا جرم نہیں کیا تھا بلکہ انکے جرائم میں بدعہدی، مرتد ہونا، لوگوں کو اکسانا، سازشیں کرنے وغیرہ کے علاوہ یہ بھی تھا کہ وہ عادتاً اور معمولاً رسول اللہ (ص) پر سب و شتم کیا کرتے تھے۔ چنانچہ یہاں سے بھی موجودہ آرڈیننس ثابت نہیں ہو سکتا (ان 5 افراد کے نام اور تفصیلات آپ آگے ملاحظہ فرمائیں گے)۔
 
== وہ واقعات جو واقعی صرف توہین رسالت سے مخصوص ہیں ==
144

ترامیم