"توہین رسالت قانون (معترضین کے دلائل)" کے نسخوں کے درمیان فرق

 
2۔ اس آرڈیننس کے تحت عفو و درگذر اور توبہ کی کوئی گنجائش نہیں۔ اگر کسی سے بھولے سے بھی کوئی غلطی ہو گئی ہے تو موجودہ آرڈیننس کے تحت آپ کو توبہ کا کوئی موقع نہیں ملے گا اور ہر حال میں قتل کی سزا ملے گی۔
 
== وہ واقعات جو واقعی صرف توہین رسالت سے مخصوص ہیں ==
 
کعب بن اشرف، ابو رافع یہودی اور اہل مکہ کے 5 افراد کے قتل کی وجوہات صرف ایک آدھ مرتبہ توہینِ رسالت ہی نہ تھی بلکہ اس سے بڑھ کر کچھ اور تھیں۔ اب باقی رہ جاتے ہیں صرف تین واقعات جہاں اسلامی ریاست میں توہین رسالت پر سزا دی گئی۔ یہ تین روایات بہت اہم ہیں کیونکہ موجودہ توہین رسالت آرڈیننس کا اصل دارومدار انہی تین روایات پر ہے۔
 
=== شہادتوں کے نظام کے تحت واقعہ افک پر ایک نظر ===
 
شہادتوں کا یہ نظام کتنا اہم ہے، اسکا اندازہ ہمیں واقعہ افک سے بہت بہترین طور پر ہو سکتا ہے۔اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ صرف دشمنی اور جہالت کی وجہ سے جھوٹے الزامات لگتے ہیں۔ لیکن افک کا واقعہ ہمارے لیے بہترین سبق ہے کہ "غلط گواہیاں" فقط دشمنی یا جہالت کی وجہ سے ہی نہیں سامنے آتیں، بلکہ بات اس سے کہیں زیادہ آگے تک جاتی ہے اور کبھی کبھار اچھے اچھے انسانوں کے دماغوں میں بھی صرف شک کی بنیاد پر ایسی ذہنی بیماری پیدا ہو جاتی ہے کہ وہ بلاجواز اور بلا وجہ ہی دوسروں پر بڑے بڑے غلط الزام لگا جاتے ہیں۔ چنانچہ اسی لیے نہ صرف گواہ ضروری ہیں، بلکہ انکی گواہیوں میں بھی کوئی تضاد نہیں ہونا چاہیے۔
 
واقعہ افک میں حضرت عائشہ پر الزام لگانے والے کوئی کفارِ مکہ نہیں تھے بلکہ رسول اللہ (ص) کےشاعر صحابی حسان بن ثابت، صحابی مسطح اور صحابیہ حمنہ بنت جحش (جو ام المومنین حضرت زینب کی بہن تھیں) شامل تھے۔
 
آج تک یہ معمعہ حل نہیں ہو سکا کہ انہوں نےام المومنین حضرت عائشہ پر جھوٹا الزام کیوں لگایا۔۔۔ واحد وجہ یہ ہی نظر آتی ہے کہ اچھے اچھے انسانوں میں کبھی کبھار "شک" کی بنیاد پر ذہنی بیماری پیدا ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے دوسروں پر غلط الزام لگا جاتے ہیں۔ اسکے علاوہ اس واقعہ کی کوئی اور توجیہ سامنے نہیں آئی ہے۔
 
چنانچہ جب ان دو صحابہ اور ایک صحابیہ کی گواہی کافی نہیں تو ایک اکیلے نابینا صحابی کی گواہی کیسے کافی ہو سکتی ہے جبکہ اس قصے میں کسی منصف کی عدالت میں مقدمہ پیش ہوا اور نہ ملزمہ کو اپنی صفائی میں کچھ بولنے کا موقع دیا گیا؟ (واقعہ افک میں مقدمہ رسول (ص) کے پاس آیا، حضرت عائشہ نے اپنے بے گناہی کا دعوی کیا اور پھر گواہ بھی سامنے آئے، مگر نابینا صحابی کے کیس میں یہ سب کچھ نہیں ہو رہا)۔
 
=== دوسرا: یہودی عورت کا قتل ===
 
سنن ابو داؤد میں ہی ایک اور واقعہ شعبی نے علی ابن ابی طالب سے منسوب کیا ہے:
 
<blockquote>ايك يہودى عورت نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى توہين اور آپ پر سب و شتم كرتى تھى، تو ايك شخص نے اس كا گلا گھونٹ ديا حتى كہ وہ مر گئى، تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اس كا خون باطل قرار ديا</blockquote>
 
اس روایت کے اہم نکات یہ ہیں:
 
# اس روایت کے صحیح ہونے بھی زبردست اختلاف ہے۔ فقط شعبی نے ہی اسے علی ابن ابی طالب کے نام پر بیان کیا ہے۔ مگر اہل علم کی اکثریت کے مطابق شعبی نے علی ابن ابی طالب کو نہیں پایا ہے اور نہ ان سے احادیث سنی ہیں اور اس وجہ سے یہاں انقطاع ہے۔ اسی لیے ناصر الدین البانی صاحب نے اس روایت کو "ضعیف ابو داؤد" میں ضعیف قرار دیا ہے۔ حافظ ابن حجر العسقلانی نے بھی تہذیب التہذیب میں شعبی کی مراسیل (جو شعبی نے علی ابنی ابی طالب کے نام پر بیان کی ہیں) یہی بیان کیا ہے۔ <br>شیخ عثمان الخمیس سے یہ سوال کیا گیا کہ کیا شعبی کی علی ابن ابی طالب سے مراسیل قابل قبول ہیں؟ جواب میں شیخ عثمان الخمیس کہتے ہیں کہ شعبی نے علی ابن ابی طالب کو نہیں دیکھا ہے اور اہل علم کے اقوال کے مطابق یہی مشہور ہے کہ علی ابن ابی طالب سے شعبی کی مراسیل صحیح نہیں ہیں۔<ref>http://www.almanhaj.net/fatwaa/fatwaa_detail.php?fatwaa_id=412</ref>
# دوسرا یہ کہ یہ روایت بھی" خبر واحد" ہے جو شعبی کے علاوہ کسی اور نے نقل نہیں کی ہے۔ اوپر والی روایت میں اُس نابینا صحابی کا نام نامعلوم تھا۔ اس روایت میں اس یہودیہ عورت کو قتل کرنے والے صحابی کا نام بھی نامعلوم ہے۔
# تیسرا یہ کہ اس روایت سے بھی موجودہ توہین رسالت آرڈیننس ثابت نہیں ہوتا کیونکہ اس سے بھی پتا چلتا ہے کہ اُس یہودیہ عورت نے "عادت" بنا لی تھی اور وہ مستقل رسول اللہ (ص) پر سب و شتم کرتی تھی اور ایسا نہیں ہوا کہ پہلی مرتبہ میں ہی فورا اسے قتل کر دیا گیا ہو۔
# چوتھا یہ کہ یہ روایت بھی درایت کے اصولوں پر پوری نہیں اتر پا رہی ہے۔ اس میں بھی منصف ہے، نہ عدالت ہے، نہ مجرمہ کو اپنی صفائی پیش کرنے کا موقع، نہ گواہان اور نہ انکی شہادتیں۔ کچھ علم نہیں کہ کسی شخص نے ذاتی عناد میں آ کر اُسے قتل کر دیا ہو اور بعد میں الزام لگا دیا ہو کہ وہ رسول اللہ (ص) پر سب و شتم کرتی تھی۔ واقعہ افک ہمارے سامنے ہے کہ ایسے غلط الزامات کا لگایا جانا کچھ بعید نہیں ہوتا۔
 
=== تیسرا : ابن ام مکتوم کا واقعہ ===
 
طبقات الکبری نامی کتاب میں یہ واقعہ ملتا ہے:
 
<blockquote>" ہميں قبيصہ بن عقبہ نے خبر دى، وہ كہتے ہيں ہميں يونس بن ابى اسحاق نے ابو اسحاق سے حديث بيان كى، وہ عبد اللہ بن معقل سے بيان كرتے ہيں وہ كہتے ہيں: ابن ام مكتوم مدينہ ميں ايك انصارى كى پھوپھى جو يہودى تھى كے پاس ٹھرے، وہ ان كے ساتھ نرمى برتتى اور بڑى رفيق تھى، ليكن اللہ اور اس كے رسول كے متعلق انہيں اذيت ديتى، تو انہوں نے اسے پكڑ كر مارا اور قتل كر ديا، اس كا معاملہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے پاس لايا گيا تو ابن ام مكتوم كہنے لگے:اے اللہ كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم اللہ كى قسم اگرچہ وہ ميرے ساتھ بڑى نرم دل تھى، ليكن اس نے اللہ اور اس كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم كے بارہ ميں بڑى اذيت دى تو ميں نے اسے مارا اور قتل كر ديا، چنانچہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم فرمانے لگے:" اللہ تعالى نے اسے دور كر ديا، ميں نے اس كا خون باطل كر ديا "</blockquote>
 
اس تیسری اور آخری روایت سے بھی موجودہ آرڈیننس ثابت نہیں ہوتا:
 
# پہلا یہ کہ یہ روایت بھی "خبر واحد" ہے، اور یہ حدیث"غریب" ہے۔ بلکہ غریب حدیث کی بھی جو سب سے نچلے درجہ کی قسم ہے، جسے “غریب مطلق” کہا جاتا ہے، یہ روایت اس “غریب مطلق” درجے کی ہے۔ (یعنی شروع سے لیکر آخر تک ہر دور میں اسکو بیان کرنے والا صرف اور صرف ایک ہی شخص ہے)۔
# دوسرا یہ کہ اس روایت سے بھی موجودہ توہینِ رسالت آرڈیننس ثابت نہیں ہوتا کیونکہ اس میں بھی یہ ذکر ہے کہ اس عورت نے اپنی عادت اور معمول ہی بنا لیا تھا کہ وہ اللہ اور اسکے رسول (ص) کے متعلق گستاخانہ باتیں کر کے لوگوں کو اذیت پہنچاتی تھی، اور یہ نہیں ہوا کہ پہلی دفعہ میں ہی پکڑ کر اسے قتل کر دیا گیا ہو۔
# درایت کے اصولوں پر بھی یہ روایت پوری نہیں اترتی۔ اس روایت میں بھی کوئی عدالت لگتی ہے اور نہ کوئی گواہ ہیں اور نہ ملزمہ کو صفائی پیش کرنے کا کوئی موقع مل رہا ہے۔ اگر اس روایت پر ایمان لایا جائے تو پھر تو کوئی بھی ذاتی دشمنی نکالنے کے لیے قتل کرنے کے بعد کہہ سکتا ہے کہ اُس نے گستاخیِ رسول کرنے پر دوسرے کو قتل کیا ہے۔<br>پھر یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ اگر وہ عورت رسول اللہ (ص) پر سبِ و شتم کرتی تھی تو پھر اُس انصاری مسلمان نے ہی کیوں نہیں پہلی دفعہ میں ہی پکڑ کر اپنی اس یہودیہ پھوپھی کو قتل کر دیا؟
 
چنانچہ ایسی روایت جس میں درایت کے حوالے سے بھی کئی سقم پائے جاتے ہوں، اور پھر ہو بھی وہ بالکل "غریب مطلق" (یعنی تمام ادوار میں شروع سے لیکر آخر تک اس کو بیان کرنے والا ایک ہی شخص ہو) تو ایسی روایت پر کس حد تک یقین کیا جا سکتا ہے؟ اور اگر یقین کر بھی لیا جائے تب بھی موجودہ توہینِ رسالت آرڈیننس ثابت نہیں ہوتا کیونکہ پہلی دفعہ میں ہی پکڑ کر اس عورت کو قتل نہیں کیا جا رہا ہے بلکہ متعدد بار یہ عمل دہرانے کے بعد اسے مارا گیا ہے۔
 
== فتوی: گستاخی رسول کی کوئی معافی نہیں بلکہ ہر صورت قتل کی سزا پوری کی جائے ==
144

ترامیم