"توہین رسالت قانون (معترضین کے دلائل)" کے نسخوں کے درمیان فرق

 
2۔ اس آرڈیننس کے تحت عفو و درگذر اور توبہ کی کوئی گنجائش نہیں۔ اگر کسی سے بھولے سے بھی کوئی غلطی ہو گئی ہے تو موجودہ آرڈیننس کے تحت آپ کو توبہ کا کوئی موقع نہیں ملے گا اور ہر حال میں قتل کی سزا ملے گی۔
 
== ہمارے معاشرے کی صورتحال ==
 
ہمارے معاشرے کی صورتحال یہ ہے کہ جہالت بہت پائی جاتی ہے، صبر و ضبط اور احترام کی کمی ہے (نہ صرف مسلم طبقات بلکہ پاکستان کی عیسائی کمیونٹی بھی زیادہ پڑھی لکھی نہیں اور جہالت کی وجہ سے ہمیشہ یہ ڈر رہتا ہے کہ کوئی غلط بات منہ سے نہ نکل جائے)۔
 
ایسے واقعات عام ہیں جہاں عیسائیوں اور دیگر اقلیتوں کو انکے مذہب کی وجہ سے تضحیک کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور جواب میں غصے میں آ کر اگر انکے منہ سے کچھ چھوٹی موٹی غلط بات بھی نکل جائے تو یہ انسانی جان کے خون کا باعث بن جاتی ہے۔ اور کچھ نہیں تو مذہبی بحث ہی شروع ہو جائے تو اس میں غصے میں آ کر لوگ ایک دوسرے کو کیا کچھ نہیں کہہ جاتے (مسلمان فرقے ہی غصے میں آ کر ایک دوسرے کو کافر اور ایک دوسرے کےمسلمان اکابرین کو گالیاں دیتے پھرتے ہیں)۔ اب عیسائیوں کا رسولِ خدا (ص) کے متعلق معاذ اللہ وہی عقیدہ ہے جو کہ ہمارا مرزا قادیانی کے متعلق ہے۔ ہم لوگ کھلے عام مرزا قادیانی کو جھوٹا نبی کہتے پھرتے ہیں اور ادھر عیسائی (معاذ اللہ) رسول خدا (ص) کے متعلق جھوٹا نبی ہونے کا عقیدہ رکھتے ہیں، اور اگر کہیں مذہبی بحث چھڑ جائے اور انکے منہ سے غصے میں آ کر نکل جائے کہ (معاذ اللہ) رسول خدا (ص) جھوٹے نبی تھے تو اس پر کیا ان پر گستاخی رسول آرڈیننس جاری ہو گا کہ نہیں؟
 
یورپ و امریکہ میں ایسےواقعات بھی ملتے ہیں کہ اسلام مخالفت میں لوگ شروع میں رسول اللہ (ص) کو برا بھلا کہتے تھے، مگر پھر اللہ نے انہیں ہدایت عطا فرمائی اور وہ مسلمان ہو گئے۔ بذات خود رسول اللہ (ص)کے دور میں ایسے بے تحاشہ کفار و مشرکین بعد میں اسلام لے آئے، حالانکہ اس سے پہلے وہ رسول اللہ (ص) کو جھوٹا نبی مانتے ہوئے انکی تضحیک کرتے تھے۔
 
چنانچہ غصے میں آ کر کہی ہوئی کسی بات پر ہمیں کسی انسانی جان کو خون میں نہیں نہلا دینا چاہیے، بلکہ صبر و ضبط اور عفو و درگذرکا مظاہرہ کرنا چاہیے اور اللہ سے ان لوگوں کی ہدایت کی دعا کرنی چاہیے اور ایسے لوگوں کے لیے معافی کا ایک دروازہ کھلا رکھنا چاہیے (جیسا کہ مرتد کی سزا میں ہوتا ہے )۔مگر ایسے غیر مسلم، جو اس چیز کو اپنی عادت ہی بنا لیے اور کھلے عام بیہودہ باتیں کرتا پھرے، اور وارننگ دینے کے باوجود باز نہ آئے تو اسکو اگر روکنے کے لیے سزا دینی ہے تو یہ الگ مسئلہ ہے۔
 
یہاں مثالیں دی جاتی ہیں ملکہ برطانیہ کی توہین کی۔ تو کیا ہمیں اپنی شریعت ملکہ برطانیہ سے لینی ہے یا پھر رسول اللہ (ص) کی ثابت شدہ سنت سے؟ کیا ہم معاذ اللہ رسول (ص) کی ثابت شدہ سنت کو بھلا کر رحمت اللعالمین کو بھی اٹھا کر ملکہ برطانیہ کے ساتھ بٹھا دیں؟ یہ ایک بہت بڑی حماقت ہے اور ایسی انتہا پسندی اسلام کی ضد ہے اور اسے بدنام کرنے کا باعث ہے اور رسول اللہ (ص) کو اس طرح ہم دنیا کے سامنے رحمت اللعالمین نہیں بلکہ انسانی خون کا پیاسا چنگیز خان بنا کر پیش کر رہے ہیں۔
 
ادھر ارباب اختیار کا رویہ افسوسناک حد تک غلط ہے ۔ باقی تمام باتیں ایک طرف رہیں، کوئی اگر انکے بنائے ہوئے موجودہ آرڈیننس بل کے خلاف کوئی بات کرے تو یہ اسکے پیچھے پُل پڑتے ہیں اور ہرگز کوئی بات سننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ یہ فی سبیل اللہ فساد نہیں تو اور کیا ہے؟
 
==کیا ماورائے عدالت قتل کو روکا جا سکتا ہے؟ ==
144

ترامیم