"توہین رسالت قانون (معترضین کے دلائل)" کے نسخوں کے درمیان فرق

 
2۔ اس آرڈیننس کے تحت عفو و درگذر اور توبہ کی کوئی گنجائش نہیں۔ اگر کسی سے بھولے سے بھی کوئی غلطی ہو گئی ہے تو موجودہ آرڈیننس کے تحت آپ کو توبہ کا کوئی موقع نہیں ملے گا اور ہر حال میں قتل کی سزا ملے گی۔
 
==کیا ماورائے عدالت قتل کو روکا جا سکتا ہے؟ ==
 
یہ ناممکنات میں سے ہے کیونکہ ان لوگوں کے دلائل یہ ہیں:
 
# عصماء بنت عمیس کا واقعہ جو کہ علماء حضرات بڑھ چڑھ کر معصوم عوام الناس کو سنا رہے ہوتے ہیں۔ اس میں صحابی عمیر بن عدی کے نام پر یہ سنت بیان کی جا رہی ہے کہ انہوں نے اپنی طرف سے فیصلہ کر کے اس عورت کو "ماورائے عدالت" قتل کر دیا۔ اور جب بعد میں رسول (ص) کو علم ہوا تو وہ اس ماورائے عدالت فعل سے خوش ہوئے۔
# ابن عباس والی روایت جہاں نابینا صحابی نے اپنے دو بچوں کی ماں کنیز کو ایک دن غصے میں آ کر ماورائے عدالت قتل کر دیا، اور جب رسول (ص) کو علم ہوا تو وہ اس فعل پر راضی ہوئے۔
# ام مکتوم والی روایت جہاں پھر سے ماورائے عدالت قتل پر رسول (ص) کو راضی بتایا گیا ہے۔
# علی ابن ابی طالب سے مروی یہودیہ عورت کا ماورائے عدالت قتل جس پر پھر رسول (ص) کو راضی بتایا گیا ہے۔
 
اگرچہ کہ بذات خود ان حضرات کی اکثریت ماورائے عدالت قتل کو ناجائز بتاتے ہوئے اس کی حوصلہ شکنی کر رہی ہے، مگر انتہا پسند حضرات کے پیش کردہ ان دلائل کا انکے پاس کوئی جواب نہیں ہے اور جلد یا بدیر انتہا پسند حضرات اس امر میں اِن پر غالب آنےوالے ہیں۔
 
مثال کے طور پر انٹرنیٹ پرسعودیہ کے مفتی، ناصر الدین البانی صاحب کے حوالے یہ تحریر [http://archive.is/20130422152944/http://webcache.googleusercontent.com/search?q=cache:eF-OHPynOikJ:baazauq.blogspot.com/2011/01/kia-qaanoon-awaam-ke-haath-hai.html+%D9%85%DA%AF%D8%B1+%D8%B9%D9%85%D9%88%D9%85%DB%8C+%D9%82%D8%A7%D8%B9%D8%AF%DB%81+%DB%8C%DB%81+%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA+%DA%A9%DB%81+%DB%81%D8%B1+%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C+%D8%AE%D9%88%D8%AF+%D8%B3%DB%92+%D9%82%D8%AA%D9%84+%DA%A9%D8%B1+%D8%AF%DB%92&cd=1&hl=de&ct=clnk&gl=de لنک]) جہاں ایک طرف وہ ماورائے عدالت قتل کرنے کی حوصلہ شکنی کر رہے ہیں، مگر دوسری طرف ہی انہیں خود ماننا پڑ رہا ہے کہ اگر کوئی شخص ایسے ماورائے عدالت قتل کر بھی دے تو بھی اس کا کوئی مواخذہ ہو گا اور نہ کوئی سزا۔
 
<blockquote>عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ سے کچھ سوال جواب یوں ہوئے ہیں :<br>سوال :<br>کیا اہانتِ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کے مرتکب کو کوئی بھی عام مسلمان قتل کر سکتا ہے؟<br>جواب :<br>یہ بات صحیح ہے کہ اہانت رسول کرنے والے کی سزا موت ہےلیکن اس کا حق صرف حکمران کو یا اس کے نائب کو ہے ہر کسی کو نہیں<br>سوال :<br>بعض لوگ دلیل دیتے ہیں کہ ایک صحابی نے بغیر حکومت کے بھی خود سے اپنی لونڈی کو قتل کر دیا کہ جب اس نے اہانت رسول کی<br>جواب :<br>یہ تو ایک واقعہ ہے کہ جب کوئی جذبات میں مغلوب ہوکر ایسا اقدام کرلے تو قدراللہ وماشاء فعل دلائل سے ثابت ہونے کے بعد اس کا مواخذہ پھر نہیں ہونا چاہیے مگر عمومی قاعدہ یہ نہیں کہ ہر کوئی خود سے قتل کر دے<br>سوال:<br>مرنے والے پر اظہار افسوس ؟؟<br>جواب :<br>نہیں افسوس تو نہیں ہوسکتا۔</blockquote>
 
اس سوال جواب میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ بنیادی طور پر شیخ ناصر الدین البانی صاحب کی کوشش ہے کہ چیزوں کو اعتدال میں لیا جائےکہ یہ صرف حکومت یا عدالت کا حق ہےکہ سزا دے۔ مگر دوسری طرف جن روایات کو وہ خود بغیر درایت کے اصولوں پر پرکھے توہین رسالت کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں اور جہاں نہ کسی گواہ کی ضرورت ہے اور نہ عدالت کی، اسی کو بنیاد بنا کر انتہا پسند انہیں مجبور کر رہے ہیں کہ وہ مانیں کہ اگر کوئی شخص ماورائے عدالت بھی قتل کر دے تو بھی اسکا مواخذہ ہو سکتا ہے اور نہ کوئی سزا۔
 
 
== سورۃ المائدہ آیت 33 کا غلط استعمال ==
144

ترامیم