"توہین رسالت قانون (معترضین کے دلائل)" کے نسخوں کے درمیان فرق

 
2۔ اس آرڈیننس کے تحت عفو و درگذر اور توبہ کی کوئی گنجائش نہیں۔ اگر کسی سے بھولے سے بھی کوئی غلطی ہو گئی ہے تو موجودہ آرڈیننس کے تحت آپ کو توبہ کا کوئی موقع نہیں ملے گا اور ہر حال میں قتل کی سزا ملے گی۔
 
== سورۃ المائدہ آیت 33 کا غلط استعمال ==
 
موجودہ توہین رسالت آرڈیننس والے سورۃ المائدہ کی آیت 33 کے حوالے سے دعوی کرتے ہیں کہ اس سے توہین رسالت کا موجودہ قانون ثابت ہوتا ہے۔
 
 
یہ دعوی غلط ہے۔ اس قرآنی آیت زمین میں فساد پھیلانے والوں کا ذکر ہے جو کہ قتل و خونزیزی اور ڈاکہ زنی جیسے جرائم کے متعلق ہے۔ اس قرانی آیت کو سیاق و سباق کے ساتھ پڑھیے:
 
<blockquote>[سورۃ المائدہ 5:32] اسی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل پر (نازل کی گئی تورات میں یہ حکم) لکھ دیا (تھا) کہ جس نے کسی شخص کو بغیر قصاص کے یا زمین میں فساد (پھیلانے یعنی خونریزی اور ڈاکہ زنی وغیرہ کی سزا) کے (بغیر ناحق) قتل کر دیا تو گویا اس نے (معاشرے کے) تمام لوگوں کو قتل کر ڈالا اور جس نے اسے (ناحق مرنے سے بچا کر) زندہ رکھا تو گویا اس نے (معاشرے کے) تمام لوگوں کو زندہ رکھا (یعنی اس نے حیاتِ انسانی کا اجتماعی نظام بچا لیا)، اور بیشک ان کے پاس ہمارے رسول واضح نشانیاں لے کر آئے پھر (بھی) اس کے بعد ان میں سے اکثر لوگ یقیناً زمین میں حد سے تجاوز کرنے والے ہیں</blockquote><blockquote>[سورۃ المائدہ 5:33] بیشک جو لوگ اﷲ اور اس کے رسول سے جنگ کرتے ہیں اور زمین میں فساد انگیزی کرتے پھرتے ہیں (یعنی مسلمانوں میں خونریز رہزنی اور ڈاکہ زنی وغیرہ کے مرتکب ہوتے ہیں) ان کی سزا یہی ہے کہ وہ قتل کئے جائیں یا پھانسی دیئے جائیں یا ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹے جائیں یا (وطن کی) زمین (میں چلنے پھرنے) سے دور (یعنی ملک بدر یاقید) کر دیئے جائیں۔ یہ (تو) ان کے لئے دنیا میں رسوائی ہے اور ان کے لئے آخرت میں (بھی) بڑا عذاب ہے</blockquote>
 
اس آیت کریمہ میں ہاتھ پیر کاٹنے کی سزا فساد فی الارض سے متعلق ہے۔
سیاق و سباق کے علاوہ بہتر ہو گا کہ اس آیت کریمہ کی تفسیر کو پڑھ لیا جائے جو کہ اختصار کے پیش نظر یہاں پیش نہیں کر رہے۔ مگر اسکے بعد آپ کو اور زیادہ واضح ہو جائے گا کہ ان قرآنی آیا ت کواستعمال کر کے ہرگز موجودہ توہینِ رسالت آرڈیننس ثابت نہیں کیا جا سکتا ہے۔
 
== سورۃ التوبہ، آیت 12 کا غلط استعمال ==
144

ترامیم