"توہین رسالت قانون (معترضین کے دلائل)" کے نسخوں کے درمیان فرق

 
2۔ اس آرڈیننس کے تحت عفو و درگذر اور توبہ کی کوئی گنجائش نہیں۔ اگر کسی سے بھولے سے بھی کوئی غلطی ہو گئی ہے تو موجودہ آرڈیننس کے تحت آپ کو توبہ کا کوئی موقع نہیں ملے گا اور ہر حال میں قتل کی سزا ملے گی۔
 
== خلاصہ ==
 
# موجودہ توہینِ رسالت آرڈیننس کے حامی حضرات جن قرآنی آیات کو پیش کرتے ہیں، وہ سب کی سب “تفسیر بالرائے” ہیں اور نہ رسول اللہ (ص) اور نہ کسی صحابی نے ان قرآنی آیات سے وہ مطلب نکالا جو یہ حضرات تفسیر بالرائے کرتے ہوئے نکال رہے ہیں۔
# اور جو روایات یہ حضرات پیش کرتے ہیں ان میں سے اکثر ضعیف اور منکر ہیں، یا پھر غیر متعلق ہیں۔
# اگر ان روایات کو صحیح مان بھی لیا جائے تب بھی موجودہ توہینِ رسالت آرڈیننس ہرگز ہرگز صحیح ثابت نہیں ہو سکتا کیونکہ ان کی اپنی پیشکردہ روایات کے مطابق پہلی مرتبہ میں ہی فی الفور قتل نہیں کر دیا جاتا ہے بلکہ شروع میں انہیں مسلسل اچھی نصیحت کی جاتی ہے اور صرف عادت اور معمول بنا لینے کے بعد قتل کیا جاتا ہے۔ جبکہ موجودہ آرڈیننس میں عفو و درگذر کی کوئی گنجائش سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔
# وہ روایات اور قرآنی آیات جو بیان کر رہی ہیں کہ توہین کرنے پر اللہ اور اُسکے رسول (ص) نے صبر کرنے کا حکم دیا ہے، وہ ان حضرات کے پیشکردہ دلائل کے مقابلے میں زیادہ مضبوط ہیں۔
# موجودہ حالت میں یہ آرڈیننس نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے اور ہوتا رہے گا کیونکہ اس کے ہوتے ہوئے اسکا misuse کسی صورت نہیں روکا جا سکتا ہے اور شریر لوگ مسلسل اسکو اپنی ذاتی دشمنیاں اور شرارت نکالنے کے لیے استعمال کرتے ہوئے معصوموں پر جھوٹے الزامات لگاتے رہیں گے۔ عدالت اور گواہوں سے پاک قتل کر دینے والی احادیث ان شریر لوگوں کو مکمل موقع فراہم کرتی رہیں گی کہ وہ جرم کر کے سارا گناہ توہینِ رسالت آرڈیننس کی جھولی میں ڈال کر مسلسل دینِ اسلام کو بدنام کرتے رہیں اور کوئی انکا بال بیکا تک نہ کر پائے۔
# بہت ضرورت ہے کہ یہ حضرات اپنی ضد چھوڑ کر قبول کریں کہ موجودہ حالت میں اس میں سقم موجود ہیں۔ انہیں دور کرنے کی ہر صورت میں کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔
 
==حوالہ جات==
144

ترامیم