"طوفان" کے نسخوں کے درمیان فرق

حجم میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ،  7 سال پہلے
م
درستگی املا بمطابق فہرست املا پڑتالگر
م (Bot: uk:Тропічний циклон is a good article)
م (درستگی املا بمطابق فہرست املا پڑتالگر)
بحر اوقيانوس (اٹلانٹک اوشين) يورپ و افريقہ اور براعظم شمالی و جنوبی امريکہ کے درميان واقع ہے۔ اس سمندر ميں بننے والے اکثر طوفان ٹراپيکل سائيکلون ہوتے ہيں۔ يہ طوفان افريقہ سے خط استواءکی جانب بڑھنے والی گرم ہواؤں سے بنتے ہيں۔ سائنسدانوں نے گرم ہوائی طوفان يا ٹراپيکل سائيکلون کی شدّت کو سات درجوں ميں تقسيم کيا ہے۔
پہلے درجے ميں طوفان کی شدت 74 سے 95 کلوميٹر فی گھنٹہ تک ہوتی ہے جو عام سی گرج چمک پر مشتمل سائيکلون ہے۔ اگر سائيکلون ميں ہوا کی شدت 96 سے 110 کلوميٹر فی گھنٹہ ہوجاتی ہے تو اسے دوسرے درجہ کا طوفان کہا جاتا ہے۔ اس طوفان ميں عموماً ماہی گيروں کو کشتياں ساحلوں پر لگادينے کی تاکيد کی جاتی ہے اور پانی خشکی پرنہيں چڑھتا۔ تيسرے درجے کے سائيکلون کو ٹراپيکل ڈپريشن کہا جاتا ہے جو معتدل درجہ کا طوفان ہے۔ اس کی شدت 111 سے 130 کلوميٹر فی گھنٹہ تک ہے۔ اس طوفان ميں ہوا کی شدت سے بعض درخت زمين سے اُکھڑسکتے ہيں۔ چوتھے درجے کا سائيکلون ہريکين ميں شمار کيا جاتا ہے۔ اس ميں گرج چمک کے ساتھ 131 سے 155 کلوميٹرفی گھنٹہ کی رفتار سے ہواؤں کے جھکڑ چلتے ہيں۔ يہ طوفان کچے مکانات، درختوں اور کمزور مکانوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
امريکہ ميں آنے والے کترينہ ہريکين کی شدت ابتداءميں پانچويں درجہ کی تھی۔ ايسے طوفان ميں ہواؤں کی شدت 155 سے 200 کلوميٹر سے زائد تک ہوسکتی ہے۔ يہ سائيکلون پورے پورے شہر مليا ميٹ کردينے کی صلاحيت رکھتا ہے۔ اِسے امريکہ کی خوش قسمتی کہئے کہ کترينہ اپنی پوری قوت کے ساتھ امريکی رياستوں سے نہيں ٹکرايا، بلکہ جنوب سے محض چُھوتاچُہوتا ہوا گزرا۔ 1970ءميں سابق مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلہ ديش) ميں اِسی شدت کا ايک طوفان (190 کلوميٹر فی گھنٹہ کی رفتار سي) آيا تھا جس ميں ايک اندازے کے مطابق تقريباً دس لاکھ افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔ گنيز بک آف ورلڈ ريکارڈ کے مطابق يہ اب تک معلوم تاريخ کا سب سے جان ليوا طوفان ہے۔
سائنسدانوں نے درجہ 6 اور 7 کے ہريکين کی شدّت کا اندازہ بھی لگايا ہے۔ اﷲ نہ کرے کہ کبھی نوعِ انسانی کو ان درجوں کے طوفانوں سے گزرنا پڑے۔ ايسے ہولناک طوفانوں کا تصور کرکے ہی روح تک کانپ اُٹھتی ہے۔
 
سائنسدان بتاتے ہيں کہ جب ہوا گرم ہو تو يہ زمين سے اوپر کی جانب اُٹھتی ہے اور خالی جگہ پر فوراً ٹھنڈی ہوا آجاتی ہے تاکہ خلاءپورا ہوسکے۔ اس ہوائی چکر سے موسموں ميں توازن پيدا ہوتا ہے۔ افريقہ کے جنوبی علاقوں سے ہوا بحراوقيانوس کی طرف بڑھتی ہے تو افريقی موسم کی وجہ سے يہ ہوا گرم ہوتی ہے۔ سمندر کے ساتھ چلنے والی يہ ہوا بڑی مقدار ميں سمندری بخارات کی تبخير Evaporation کا سبب بنتی ہے۔ اس سے سمندر کا درجہ حرارت بھی بڑھ جاتا ہے۔ گرم ہواؤں ميں آبی بخارات اور سمندری پانی کی رگڑ سے اشتعال پيدا ہوجاتا ہے۔ ہوا کی رگڑ سے سمندر کی سطح پر ايک بھنور پيدا ہوتا ہے۔ مزيد رگڑ اس بھنور کو ايک بڑے ہيٹ انجن Heat Engine ميں تبديل کرديتی ہے۔ جتنی رگڑ بڑھتی جاتی ہے بھنور کی تيزی ميں بھی اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ اس بھنور کا انتہائی بالائی حصّہ پچاس ہزار فٹ تک چوڑا ہوسکتا ہے۔ بھنور ميں تبديل ہونے کے بعد يہ ہيٹ انجن ہريکين کی شکل اختيار کرليتا ہے۔ يہ ہريکين شديد اور تيز ہوائيں بننے کا سبب بنتا ہے، اِسی کی بدولت شديد عملِ تبخير Evaporation ہوتا ہے جس سے بادل بنتے ہيں۔ يہ طوفانی بھنور يا ہريکين شديد ہواؤں کے جھکڑ اور وسيع بادل بناتا ہے اور ان کی وجہ سے شديد گرج چمک کے ساتھ بارش ہوتی ہے۔ جس خطّے کی طرف اس ہريکين کا رُخ ہوجاتا ہے وہاں تاريکی چھا جاتی ہے اور شديد گھن گرج کے ساتھ بارش ہوتی ہے۔ سمندر ميں يہ بھنور بھونچال لے آتا ہے اور يوں اگر کوئی بدقسمت ساحلی علاقہ يا خشکی اِس کی راہ ميں آجائے تو پھر سمندری لہريں خشکی پر چڑھ دوڑتی ہيں۔
اس طرز کے سائيکلون بڑے سمندروں مثلاً بحراوقيانوس اور بحر الکاہل (پيسفک اوشين) ميں اکثر بنتے رہتے ہيں۔ يہ سائيکلون کرئہ ہوائی کے لئے مفيد ثابت ہوتے ہيں۔ اگر يہ سائيکلون صرف سمندروں تک محدود رہيں اور خشکی کی طرف نہ بڑھيں تو زمين کے کرئہ ہوائی کو توازن ميں رکھتے ہيں ليکن جب کبھی ان کا رُخ خشکی کی طرف ہوجائے تو اپنی شدت کے لحاظ سے يہ وہاں بعض اوقات خوفناک تباہی پھيلاتے ہيں۔
ايک رپورٹ کے مطابق لوزيانہ اور اس کی قريبی رياستوں پر قيامت برپا کردينے والا طوفان کترينہ پوری قوت سے نہيں ٹکرايا تا بلکہ ان رياستوں کو محض چُھوتاچُہوتا ہوا گزرا تھا، ليکن پھر بھی اس نے امريکہ کی معيشت کو زبردست نقصان پہنچايا اور امريکہ نے کسی بھی قدرتی آفت کے موقع پر پہلی مرتبہ دوسرے ممالک سے مدد کی اپيل کی۔ اس طوفان ميں بعض مقامات پر 230 کلوميٹر فیگھنٹہ کی رفتار سے ہوا چلی۔ اس شدت کی وجہ سے بہت سے لوگ ہوا ميں اُڑگئے۔
 
== اب ہم دنيا کے چند سمندروں ميں طوفانوں کے امکانات کا جائزہ ليتے ہيں ==