"وجد" کے نسخوں کے درمیان فرق

26 بائٹ کا اضافہ ،  5 سال پہلے
م
کوئی ترمیمی خلاصہ نہیں
م (اولیاء کاملین کاخاصہ)
م
 
== وجد ==
وجد کیا ہے<br />
وجد∗وجد (Ecstasy)تصوف و سلوک میں استعمال ہونے والی ایک خاص اصطلاح ہےیہ ایک کیفیت ہے جو ذکر و نعت کے وقت طاری ہوتی ہے یہ کیفیت عموما اولیاء کاملین کی محافل اور صحبت کا خاصہ ہے جسے اللہ کی محبت کی علامت تصور کیا جاتا ہے <br />
وجد∗وجد وہ کیفیت ہے جو اتفاقاطاری ہو یہ کیفیت اوراد و وظائف کا نتیجہ ہےپس جس شخص کے وظائف زیادہ ہونگےاس پر اللہ کی عنایات بھی زیادہ ہوگی<ref>رسالہ قشیریہ صفحہ 157 از ابو القاسم عبد الکریم ہوازن قشیری مکتبہ اعلیٰ حضرت لاہور</ref><br />
وجد∗وجد ایک ایسا روحانی جذبہ ہےجو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطن انسانی پر وارد ہو خواہ اسکا نتیجہ فرحت ہو یا حزن اس جذبہ کے وارد ہونے سے بطن کی ہیئت تبدیل ہوجاتی ہےاور اس کے اندر رجوع الی اللہ کا شوق پیدا ہوجاتا ہے گویا وجد ایک قسم کی فرحت ہے یہ اس شخص کو حاصل ہوتی ہے جس سے صفات نفس مغلوب ہیں اور اسکی نظریں اللہ کی طرف لگی ہیں<ref>عوارف المعارف از شہاب الدین سہروردی صفحہ 742مطبوعہ پروگریسو بک لاہور</ref><br />
جبکہ∗جبکہ عمرو بن عثمان مکی کہتے ہیں کہ وجد کی کوئی کیفیت نہیں بیان کی جا سکتی کیونکہ پختہ ایمان رکھنے والے مومنوں کے نزدیک یہ اللہ کے اسراروں میں سے ایک ہے<ref>کتاب اللمع فی التصوف از شیخ ابو نصر سراج صفحہ 498 مطبوعہ اسلامک بک فاؤنڈیشن لاہور</ref><br />
وجد∗وجد ایک باطنی کیفیت ہےجو طالب و مطلوب کے درمیان ہوتی ہے<ref>کشف المحجوب ازعلی بن عثمان الہجویری 471مطبوعہ مکتبہ زاویہ لاہور</ref><br />
گویا ہر وہ کیفیت مسرت و الم جو قلب پر بغیر ارادے و کوشش کے طاری ہو اسے وجد کہتے ہیں<ref>کتاب اللمع فی التصوف از شیخ ابو نصر سراج صفحہ 499 مطبوعہ اسلامک بک فاؤنڈیشن لاہور</ref><br />
سورہ الحج کی آیت نمبر 35 میں لفظ وجل (ڈر) صفات واجدین میں سے ہے<ref>کتاب اللمع فی التصوف از شیخ ابو نصر سراج صفحہ 502 مطبوعہ اسلامک بک فاؤنڈیشن لاہور</ref><br />
== وجد اور تواجد ==
وجد∗وجد یہ ہے کہ کیفیت تمہارے دل پر کسی ارادے اور تکلف کے بغیر جاری ہو<ref>رسالہ قشیریہ صفحہ 156 از ابو القاسم عبد الکریم ہوازن قشیری مکتبہ اعلیٰ حضرت لاہور</ref><br /> وجد کو تکلف سے حاصل کرنا تواجد کہلاتا ہے تواجد اپنے اختیار سے وجد کو لانے کا نام ہے اور ایسے شخص کا وجد کامل نہیں ہوتاکیونکہ اگر یہ کامل ہوتا تو واجد کہلاتا متواجد نہ کہلاتاجو کسی شے کو بہ تکلف ظاہر کرنے کو کہتے ہیں<ref>رسالہ قشیریہ صفحہ 155 از ابو القاسم عبد الکریم ہوازن قشیری مکتبہ اعلیٰ حضرت لاہور</ref>۔
اگر یہ صرف رسومات کی پابندی کے طور پر کرے تو اس کے متعلق حکم یہ ہے<br />
 
ایک∗ایک گروہ اس میں محض رسموں کا پابند بنا ہوا ہےجو ظاہری حرکتوں کی تقلید کرتا ہےباقاعدہ رقص کرتا اور اور ان کے اشاروں کی نقل کرتا ہے یہ حرام محض ہے<ref>کشف المحجوب ازعلی بن عثمان الہجویری 473مطبوعہ مکتبہ زاویہ لاہور</ref><br />