"وجد" کے نسخوں کے درمیان فرق

2 بائٹ کا ازالہ ،  5 سال پہلے
م
کوئی ترمیمی خلاصہ نہیں
م
م
∗وجد یہ ہے کہ کیفیت تمہارے دل پر کسی ارادے اور تکلف کے بغیر جاری ہو<ref>رسالہ قشیریہ صفحہ 156 از ابو القاسم عبد الکریم ہوازن قشیری مکتبہ اعلیٰ حضرت لاہور</ref><br /> وجد کو تکلف سے حاصل کرنا تواجد کہلاتا ہے تواجد اپنے اختیار سے وجد کو لانے کا نام ہے اور ایسے شخص کا وجد کامل نہیں ہوتاکیونکہ اگر یہ کامل ہوتا تو واجد کہلاتا متواجد نہ کہلاتاجو کسی شے کو بہ تکلف ظاہر کرنے کو کہتے ہیں<ref>رسالہ قشیریہ صفحہ 155 از ابو القاسم عبد الکریم ہوازن قشیری مکتبہ اعلیٰ حضرت لاہور</ref>۔
اگر یہ صرف رسومات کی پابندی کے طور پر کرے تو اس کے متعلق حکم یہ ہے<br />
*رہا معاملہ تواجد کا تو تواجد کے معنیکےمعنی ہیں از خود وجد والی صورت اختیار کرنا۔تواجد پر علامہ سیوطی کا فتویٰ تواجد پر یوں ہے کہ ذاکر خواہ ذکر کرتے ہوئے کھڑا ہو ہوجائے یہ کھڑا ہونا اختیاری ہو یا غیر اختیاری ہر حال میں جائز ہے ایسے لوگوں پر نہ انکار جاءزجائز ہے نہ انہیں منع کرنا جائز ہے<ref>فضیلت الذاکرین فی جواب المنکرین صفحہ 23از مفتی غلام فرید ہزاری ادارہ محمدیہ سیفیہ راوی ریان لاہور</ref>۔
∗ایک گروہ اس میں محض رسموں کا پابند بنا ہوا ہےجو ظاہری حرکتوں کی تقلید کرتا ہےباقاعدہ رقص کرتا اور اور ان کے اشاروں کی نقل کرتا ہے یہ حرام محض ہے<ref>کشف المحجوب ازعلی بن عثمان الہجویری 473مطبوعہ مکتبہ زاویہ لاہور</ref><br />
== وجد کی مختلف اقسام ==
* بعض اوقات بلا اختیار ہنسنے کی کیفیت طاری ہونا جیسا کہ تجلیات مالکی میں مولانا عبد المالک کی اقسام میں بیان کیا
* بعض اوقات انہی حرکات غیر اختیاریہ اور صیحات مختلفہ کا نماز میں طاری ہونا اور بعظ اوقات خارج نماز طاری ہونا
* بعض اوقات مغلوب الحال ہو کر بے ہوش ہو جانا۔ وغیر ہ <ref>مخزن طریقت محمد ظفر عباس صفحہ125 محمدیہ سیفیہ پبلیکیشنز لاہور</ref>
<ref>مخزن طریقت محمد ظفر عباس صفحہ125 محمدیہ سیفیہ پبلیکیشنز لاہور</ref>
 
[[زمرہ:اصطلاحات]]