"فلم" کے نسخوں کے درمیان فرق

2 بائٹ کا اضافہ ،  7 سال پہلے
م
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
مکوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
مکوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
{{فلمسازیفلم سازی عمودی}}
 
[[ملف:BolexH16.jpg|left|thumb| ایک 16 م۔م۔ کا ایچ-16 [[عکاسہ]]، جو عام طور پر فلمی اسکولوں میں استعمال کیا جاتا تھا۔]]
[[فلم سازی]] کا عمل [[فن]] بھی ہے اور [[صنعت]] بھی۔ ابتدا میں فلمیں پلاسٹک جھلی پر نقش کی جاتی تھیں جنھیں [[مووی پروجیکٹر]] کے ذریعے بڑے پردے پر دکھایا جاتا تھا (بہ الفاظِ دیگر، اینالوگ ریکارڈنگ عمل)۔ سی جی آئی پر مبنی خصوصی اثرات کے استعمال سے فلم تخلیق کیے جانے کے ڈیجیٹل ذرائع کے استعمال کی طرف پیش رفت ہوئی۔ اب عصرِ حاضر کی زیادہ تر فلمیں پروڈکشن، تقسیم، اور نمائش، گویا آغاز سے لے کر انجام تک، مکمل طور پر ڈیجیٹل ہوتی ہیں۔
 
فلمیں مخصوص ثقافت کے تحت تخلیق کی جاتی ہیں اور وہ ان ثقافتوں کو پیش کرنے کے ساتھ ساتھ اُن پر اثر انداز بھی ہوتی ہیں۔ موجودہ دور میں فلم کو فن کی ایک اہم شکل تصور کیے جانے کے ساتھ ساتھ، تفریح کا مقبول ذریعہ، اور تعلیم و شعور پھیلانے کا مضبوط ترین ذریعۂ ابلاغ مانا جاتا ہے۔ بصری صورت میں پیش کیے جانے کے باعث فلم ایک کائناتی ابلاغ کا ذریعہ فراہم کرتی ہے۔ بعض فلمیں اپنے مکالموں کے مختلف زبانوں میں منتقل کیے جانے ([[ڈبنگ (فلمسازیفلم سازی)|ڈبنگ]]) یا مکالموں کا ترجمہ ناظرین کی زبان میں [[سب ٹائٹل]] کی صورت میں پیش کیے جانے کے باعث دنیا بھر میں مقبولیت حاصل کرتی ہیں۔ بعض حلقوں کی جانب سے فلمی صنعت پر تشدد کی ترویج،<ref>Media, Sex, Violence, and Drugs in the Global Village [عالمی گاؤں میں میڈیا، سیکس، تشدد اور منشیات] - صفحہ 51، کلدیب آر رامپال - 2001ء</ref> اور عورتوں کے جنسی پہلو کو اجاگر کیے جانے کا الزام بھی عائد کیا جاتا ہے۔<ref> {{حوالہ جال | مصنف = ریچل سائمنز | ربط = http://www.rachelsimmons.com/2011/04/the-astonishing-sexism-of-hollywood-and-what-it-means-for-girls/ | تاریخ اشاعت = 16 اپریل 2011ء | عنوان = The Astonishing Sexism of Hollywood and What it Means for Girls | ترجمہ عنوان = ہالی ووڈ کا عجوبہ سیکس ازم اور لڑکیوں کے لیے اس کی اہمیت | ناشر = ریچل سائمنز ڈاٹ کام | زبان = انگریزی | تاریخ اخذ = 1 جنوری 2015ء }} </ref> <ref> {{حوالہ جال | مصنف = الیگزینڈرا سی کوف مین، برینٹ لینگ | ربط = http://www.thewrap.com/music/article/sexist-hollywood-women-still-struggle-find-film-jobs-study-finds-74076/ | تاریخ اشاعت = 22 جنوری 2013ء | عنوان = Sexist Hollywood?: Women Still Struggle to Find Film Jobs, Study Finds | ترجمہ عنوان = سیکسی ترین ہالی ووڈ؟ خواتین اب بھی فلمی ملازمتیں تلاش کرنے کی جدوجہد کرتی ہیں، تحقیق کے نتائج | ناشر = دی ریب ڈاٹ کام | زبان = انگریزی | تاریخ اخذ = 1 جنوری 2015ء }} </ref>
 
== حوالہ جات ==
854

ترامیم