"وجد" کے نسخوں کے درمیان فرق

3 بائٹ کا اضافہ ،  5 سال پہلے
م
م
(ٹیگ: ترمیم از موبائل موبائل ویب ترمیم)
حال، جذبہ، بیخودی ،سرمستی، وہ حالت اور کیفیت جوعشق الٰہی میں دل پر ایسی طاری ہوکہ انسان بیخود ہو جائے۔ حال، عشق اور شیفتگی<ref>فیروز الغات فارسی اردو طبع فیروز سنز </ref><ref>فرہنگ آصفیہ از سید احمد دہلوی</ref>
=== وجد اور تواجد کی حقیقت ===
وجد عموما بعض ذی روح چیزوں خصوصا ا اہل ایمان میں سے ایسے حضرات کو ہوتا ہےجو تلاوت قرآن یا نعت رسول ﷺ یا ذکر باری تعالیٰ یا بزرگان دین کی تعریف و توصیف سنتے ہیںتوہیں تو ان پر کسی خاص کیفیت کا ورود ہوتا ہے یا انوار و تجلیات کا ورود ہوتا ہے تو ایسی صورت میں وہ اپنے اوپر قابو اور کنٹرول نہیں کر پاتے جس وجہ سے ان کے جسم پر اضطراب و حرکت پیدا ہوتی ہے جس کی بنا پر کبھی ادھر کبھی ادھر کبھی آگے کبھی پیچھے جھکتے اور گر پڑتے ہیں ۔اور کبھی کبھار بیہوش بھی ہوجاتے ہیں تو ایسی حرکت کو وجد حقیقی کہا جاتا ہے۔اور اس کا محمود و مستحسن ہونا قرآنی آیات و احادیث مبارکہ سے بھی ثابت ہے<ref>فضیلت الذاکرین فی جواب المنکرین صفحہ 21از مفتی غلام فرید ہزاریہزاروی ادارہ محمدیہ سیفیہ راوی ریان لاہور</ref>۔
 
* حضرت سیدنا شیخ محی الدین عبدالقادر جیلانی قطب ربانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے وجد کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ارشاد فرمایا: ’’روح اللہ عزوجل کے ذکر کی حلاوت میں مستغرق ہو جائے اور حق تعالیٰ کے لئے سچے طور پر غیر کی محبت دل سے نکال دے ۔‘‘<ref>بهجة الاسرار، ذکرشي من اجوبته ممايدل علي قدم راسخ، ص۲۳۶</ref>
 
* وجد وہ کیفیت ہے جو اتفاقاطاری ہو یہ کیفیت اوراد و وظائف کا نتیجہ ہےپس جس شخص کے وظائف زیادہ ہونگےاس پر اللہ کی عنایات بھی زیادہ ہوگیہونگی<ref>رسالہ قشیریہ صفحہ 157 از ابو القاسم عبد الکریم ہوازن قشیری مکتبہ اعلیٰ حضرت لاہور</ref><br />
* وجد ایک ایسا روحانی جذبہ ہےجو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطن انسانی پر وارد ہو خواہ اسکا نتیجہ فرحت ہو یا حزن اس جذبہ کے وارد ہونے سے بطن کی ہیئت تبدیل ہوجاتی ہےاور اس کے اندر رجوع الی اللہ کا شوق پیدا ہوجاتا ہے گویا وجد ایک قسم کی فرحت ہے یہ اس شخص کو حاصل ہوتی ہے جس سے صفات نفس مغلوب ہیں اور اسکی نظریں اللہ کی طرف لگی ہیں<ref>عوارف المعارف از شہاب الدین سہروردی صفحہ 742مطبوعہ پروگریسو بک لاہور</ref><br />
* جبکہ عمرو بن عثمان مکی کہتے ہیں کہ وجد کی کوئی کیفیت نہیں بیان کی جا سکتی کیونکہ پختہ ایمان رکھنے والے مومنوں کے نزدیک یہ اللہ کے اسراروں میں سے ایک ہے<ref>کتاب اللمع فی التصوف از شیخ ابو نصر سراج صفحہ 498 مطبوعہ اسلامک بک فاؤنڈیشن لاہور</ref><br />
* گویا ہر وہ کیفیت مسرت و الم جو قلب پر بغیر ارادے و کوشش کے طاری ہو اسے وجد کہتے ہیں<ref>کتاب اللمع فی التصوف از شیخ ابو نصر سراج صفحہ 499 مطبوعہ اسلامک بک فاؤنڈیشن لاہور</ref><br />
* سورہ الحج کی آیت نمبر 35 میں لفظ وجل (ڈر) صفات واجدین میں سے ہے<ref>کتاب اللمع فی التصوف از شیخ ابو نصر سراج صفحہ 502 مطبوعہ اسلامک بک فاؤنڈیشن لاہور</ref><br />
 
== وجد اور تواجد ==
وجد یہ ہے کہ کیفیت تمہارے دل پر کسی ارادے اور تکلف کے بغیر جاری ہو<ref>رسالہ قشیریہ صفحہ 156 از ابو القاسم عبد الکریم ہوازن قشیری مکتبہ اعلیٰ حضرت لاہور</ref><br /> وجد کو تکلف سے حاصل کرنا تواجد کہلاتا ہے تواجد اپنے اختیار سے وجد کو لانے کا نام ہے اور ایسے شخص کا وجد کامل نہیں ہوتاکیونکہ اگر یہ کامل ہوتا تو واجد کہلاتا متواجد نہ کہلاتاجو کسی شے کو بہ تکلف ظاہر کرنے کو کہتے ہیں<ref>رسالہ قشیریہ صفحہ 155 از ابو القاسم عبد الکریم ہوازن قشیری مکتبہ اعلیٰ حضرت لاہور</ref>۔