"امین صفدر اوکاڑوی" کے نسخوں کے درمیان فرق

م
کوئی ترمیمی خلاصہ نہیں
(نیا صفحہ: == مولانا محمد امین صفدر اوکاڑوی ؒ == {{عالم دین | نام = محمد امین صفدر | مکمل نام = مولانا محمد امین صف...)
 
م
| مقام وفات = [[اوکاڑہ]]
| مکتبہ فکر = حنفی دیوبندی
| شعبہ عمل = قرآن, حدیث، فقہ،تبلیغ دیندین،مناظر اسلام،وکیل اہل سنت،محقق حنفیت
| موثر شخصیات = مولانااحمد علی لاہوریؒ،مولانا سرفراز خان صفدرؒ،مولانا سیدشمس الحق افغانیؒ،
مولانا مفتی بشیر احمد پسوریؒ،مولانا محمد عبد الحنان ؒ،مولانا عبد القدیر ؒ
}}
{{دیوبندی}}
'''حضرت مولانا محمد امین صفدر اوکاڑوی''' کی پیدائش مورخہ چار اپریل 1934ء کو بیکانیر، ضلع گنگا نگر (جو اب بھارت کا حصہ ہے) میں ہوئی۔
آپ رحمہ اللہ کی پیدائش اور علمی محققانہ طرز زندگی حضرت مولانا '''سید شمس الحق افغانی رحمہ اللہ''' (فاضل دار العلوم دیوبند) کی دعاؤں کا ثمرہ ہے اور انہوں نے ہی حضرت کا نام '''محمد امين''' تجویز فرمایا تھا اور بڑے پیار سے سر پر ہاتھ پھیر کر آپ رحمہ اللہ کے والد محترم '''ولی محمد''' سے فرمایا: "یہ لڑکا مولوی بنے گا، مناظر بنے گا!" چناچہ اللہ تعالٰیتعالیٰ نے حضرت سید صاحب رحمہ اللہ کی دعاء قبول فرماتے ہوۓ آخر کار حضرت کو '''ماسٹر محمد امین''' سے مناظر اسلام، محقق حنفیت، وکیل اہل سنت والجماعت مولانا محمد امین صفدراوکاڑوی بنا دیا۔
تحقیق و‌تحریر میں حضرت اوکاڑوی رحمہ اللہ چونکہ شیخ و‌مرشد امام اہل سنت والجماعت پیر طریقت '''حضرت مولانا سرفراز خان صفدر''' دامت برکاتہم سے متاثر تھے، اس لۓلیئے '''صفدر''' کہلاتے ہوۓ انہوئےان کی جانب نسبت ظاہر فرماتے تھے اور یہ ایک حقیقت ہے کہ وطن عزیز پاکستان میں تاحال دو ہی صفدر گزرے ہیں، تقریر میں '''حضرت مولانا محمد امين صفدر اوکاڑوی''' اور تحریر میں '''حضرت مولانا سرفراز خان صفدر ؒ'''
== تعلیم ==
حضرت اوکاڑوی نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی گاؤں میں ہی حاصل کی، وہاں چونکہ اہل حق کا کوئی مدرسہ تھا نہ مسجد اس لیئے عقیدہ توحید سے مناسبت کی وجہ سے ان کے والد محترم نے انہیں غیر مقلدین کی مسجد میں تعلیم کیلئے حافظ محمد رمضان کے سپرد کر دیا، بعد ازاں مولانا عبد الجبار کنڈیلوی [[غیر مقلد|(غیر مقلد)]]سے کچھ درسی کتب پڑھیں، جس کے نتیجے میں کافی عرصہ تک احناف کے خلاف سرگرم عمل رہے۔ پاکستان بنے کے بعد اپنے والدین کے ہمراہ ضلع '''اوکاڑہ''' کے چک نمبر55/2-1میں ہجرت کرنے کے بعد مستقل سکونت اختیار کرلی۔
== رجوع الاخیر ==
1953ء میں قادیانیوں کے خلاف تحریک ختم نبوت کے دوران '''حضرت علامہ محمد انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ تعالیٰ''' کے شاگردِ رشید، حضرت مولانا محمد عبد الحنان رحمہ اللہ (فاضل دیوبند) اور حضرت مولانا عبد القدیر (فاضل دیوبند) گرفتاری کے بعدجب اوکاڑہ تشریف لائےتو آپ ؒ کے استاذ مولانا عبد الجبار کنڈیلوی نے حضرت اوکاڑوی کو ان سے بحث و‌مباحثہ کرنے کیلئے بھیج دیا۔ ان سے بحث میں نہ صرف حضرت اوکاڑوی ہار بیٹھے بلکہ ان کی ناصحانہ باتوں کے اثر سے، غیر مقلدی برین واشنگ بھی اتر گئی اور یوں وہ اپنے مسلک سے تائب ہو کر اہل السنۃ والجماعۃ احناف میں شامل ہوگئے۔ اس بارے میں حضرت اوکاڑوی کا اپنا مضمون "'''میں حنفی کیسے بنا؟'''" مطبوعہ مجموعہ رسائل صفدری، نہ صرف انتہائی دلچسپ ہے بلکہ قابل دید ہے۔
== بیعت و تحفظِ دین حنیف ==
حضرت مولانا مفتی بشیر احمد پسوری رحمہ اللہ کی تلقین سے آپ شیخ التفسیر مولانا احمد علی لاہوری رحمۃ اللہ علیہ سے بیعت ہوئےاور حضرت لاہوریؒ کی خصوصی توجہات کا مرکز بنے۔ والدین کی تربیت، طبعی نفاست پسندی اور سب سے بڑھ‌ کر حضرت لاہوری رحمۃ اللہ علیہ کی شفقت و‌محبت اور خصوصی تعلق نے آپ کی روحانیت میں نہ صرف کہ نکھار ہی پیدا کردیا تھا بلکہ حنفیت کے میدان میں ایسا سکہ جمایا کہ تاحال مسلک حنفيہ کی ترویج و‌اشاعت اور تحفظ و‌خدمت کے میدان میں آپ کا ثانی نہیں ہے۔
112

ترامیم