"تحریک اسلامی طالبان" کے نسخوں کے درمیان فرق

م
دنیا ظالم (تبادلۂ خیال) کی ترامیم واپس ؛ Syedalinaqinaqvi کی گذشتہ تدوین کی جانب۔
م (طالبان)
م (دنیا ظالم (تبادلۂ خیال) کی ترامیم واپس ؛ Syedalinaqinaqvi کی گذشتہ تدوین کی جانب۔)
 
 
[[افغانستان]] کی سب سے موثر جنگی و سیاسی قوت ہیں ان کو مختصرا [[طالبان]] کہا جاتا ہے نسلی اعتبار سے پشتون ہیں اور مسلکی اعتبار سے [[دیو بندی|دیوبندی]] اور اہل حدیث کے مکتبہ فکر سے منسلک ہیں
 
 
== پس منظر ==
طالبان دراصل پاکستانی و افغانی مدارس کے وہ طالب علم ہیں جو افغان جہاد میں [[روس]] کے خلاف لڑتے رہے تھے ۔ سویت یونین کی مداخلت کے بعد ابتدائی دنوں میں اس مزاحمتی تحریک [[افغان جہاد]] کو کسی جانب سے کوئی مدد حاصل نہ تھی لیکن جلد ہی پاکستان کو احساس ہوگیا کہ [[سرخ فوج]] کی اگلی منزل کونسی ہوگی۔ [[سوویت اتحاد|سویت یونین]] سے براہ راست جنگ کی استعداد پاکستان تو کیا امریکہ کے بھی پاس نہیں تھی اس لئے پاکستان نے جنگ کی ابتدائی صورتحال کا تجزیہ کرنے کے بعد [[سرخ فوج]] کو افغان گوریلا فورس کے ذریعے الجھانے کا فیصلہ کیا۔کیا اور اس کے لئے مشرقی پاکستان کے میں بھارتی فوجی جارحیت کے [[مکتی باہنی]] والے تجربے کو مدّنظر رکھا گیا۔ اس گوریلہ جنگ کی اصل منصوبہ بندی پاک فوج نے کی تھی اور اس کے افسران ہی نے افغانوں کی قوت مزاحمت کو ایک نا قابل شکست قوت میں تبدیل کردیا تھا۔ کچھ عرصے بعد [[ریاستہائے متحدہ امریکہ|امریکہ]] بھی اس جنگ میں بلواسطہ طور پر کود گیا۔مجاہدینگیا۔طالبان نے ان تین فریقوں ( [[پاکستان]] و [[ریاستہائے متحدہ امریکہ|امریکہ]] [[افغان مجاہدین]] ) کے زیر سایہ جنگ کی ۔واضح [[روس|روسی]]رہے فوجوںکہ کیاس واپسیوقت کےتک بعدطالبان مجاہدینمختلف جہادی تنظیموں میں جوبکھری طلباءہوئے [[جہاد]]تھے کراور رہےانہوں تھےنے ابکوئی وہباقا‏عدہ واپستنظیم اپنےکی شکل اختیار نہ کی تھی۔ روسی فوجوں کی واپسی کے بعد ان کی اکثریت اپنے مدارس میں چلےواپس چلی گئی گئے۔تھی۔
 
== قیام ==
روسی فوجوں کی واپسی کے بعد جہادی تنظیموں کی باہمی خانہ جنگی کے باعث [[1995ء]]میں1995میں مدارس کے طلباء ملا محمد عمر مجاہد کی قیادت میںطالبان دوبارہ میدان جنگ میں آگئے اور امریکہ کے آنے تک [[افغانستان]] کے ٪9090 فیصد رقبے سےپر ظالموںاپنی کاعملداری خاتمہقائم کرکے مکمل طور پر [[شریعت]] نافذ کردیکردی۔تاہم گئی۔تاہمان اقوامکی متحدہشریعت اورپر اسکےکئی حواریوںحلقوں کی جانبطرف سے نافظ کی گئی شریعت پر بے جا تنقید ہوتی رہی۔ اگران توکو اقوام متحدہ کی تنقید بجا ہوتی تو طالبانسب سے ذیادہپہلے امنسعودی قائمعرب کرکےاور دکھاتےبعد مگرمیں 56اسامہ مملکبن کیلادن [[افغانستان]]سے پرمالی اقواممعاونت متحدہحاصل کے زیر سایہ یلغار کےاثرات انتہائی منفی ہیں۔ اقوام متحدہ اور نیٹو کے زیر قبضہ افغانستانرہی۔<ref> طالبان دوراز سےراشد، ہزاروں2000 درجہصفحہ پسماندہ132۔ و بے امن ہے۔اسی لیئے موجودہ انتظامیہ امریکہ سمیت تمام ناٹو139</ref><ref> طالبان سےانگریزی مذاکرات کرنے کیلئے دوڑ لگا رہی ہے۔<ref>http://www.abushamil.com/america-defeat-in-afghanistan/وکیپیڈیا</ref>
 
== پاکستان کا ان کی مضبوطی میں کردار ==
جیسا کہ اوپر بیان ہوا کہ روسی فوجوں کی واپسی کے افغانستان میں جہادی تنظیموں کی باہمی خانہ جنگی اور ان کے داخلی انتشار ، بار بار معاہدوں کی عہد شکنی کا ایک افسوسناک دور چل نکلا تھا ۔ حکومت پاکستان جو 10 سالہ جنگ لڑ کر اس بات کی منتظر تھی کہ اب افغانستان میں پہلی بار پاکستان کی حلیف حکومت قائم ہوگی مگر ایران اپنے حامیوں کو لیکر میدان میں آگیا جو شیعہ گورنمنٹ چاہتا تھا۔ ان تنظیموں کی داخلی خانہ جنگی میں ایران کا اہم کردار [[عبدالرشید دوستم|عبدالرشید]] کی دوستم کی صورت میں مجاہدین کو بگھتنا پڑا۔ نے کابل کا جنگی درجہ حرارت وہ ہی رکھا جو روسی جارحیت کے دوران رہا کرتا تھا نتیجتہ حکومت پاکستان کیان خواہشسے کبھینالاں نہ پوری ہوئیہوگئ ۔ افغانستان میں اپنی حکومت کے قیام کے بعد طالبان پاکستان کے لئے اجنبی اس لئے بھی نہ تھے کہ آئی ایس آئی کے روابط جہادی تنظیموں سے افغان جہاد سے ہی قائم تھے جنہیں ایرانی امداد و مذہب کی سپلائی برابر جاری تھی وہ روس دور میں افغانستان کا امن تباہ و برباد کرنے میں برابر کے شریک تھے۔اور طالبان بھی ان تنظیموں کا ہی حصہ رہے تھے ۔ پھر طالبان نے افغانستان میں اپنے زیر کنٹرول علاقوں میںسے امننہ قائمصرف کردیا۔یہ ایرانیکہ سپلائیپاکستان یافتہمخالف [[عبدالرشیدعناصر دوستم]]بالخصوص کےبھارتی قتلعناصر عامکا سےمکمل تنگصفایا آکرکردیا بلآخربلکہ حکومتڈیورنڈ لائن کو بھی پاکستان نےکے امنلئے پسندمکمل لوگوںمحفوظ کےکردیا ہاتھ۔ان میںوجوہ اقتدارپر کوحکومت دیکھتےپاکستان ہینے انہیںطالبان قبولکو کرلیا۔افغانستان جنہیںکا آججائز [[طالبان]]حکمران ماناتسلیم گیا۔کرلیا۔
 
== دور حکومت ==
طالبان کا دور حکومت [[1995ء]]1995 سے [[2001ء]]2001 تک تقریبا 6 سال کے عرصے پر محیط ہے اس دوران ان کا زیادہ تر وقت اپنے حریف [[ایران|ایرانی]] حمایت یافتہ [[شمالی اتحاد]] سے جنگ میں گزرا۔ افغانستان کو اگر کوئی چیز [[طالبان]] نے دی تھی تو وہ انصاف کی بروقت فراہمی اور امن و امان کی مثالی صورتحال تھی۔ ان کے زیر کنٹرول علاقوں میں شاہراوں کو محفوظ بنادیا گیا تھا۔ پوست کی کاشت پر پابندی عائد کردی گئی تھی تمام غیر قانونی ٹیکس اور چنگیاں ختم کردی گئی تھیں جن کے باعث آمدرفت میں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا ایکساتھ تباہہی شدہساتھ ملک‏غیر جہاںقانونی ایکتجارت سپرکو پاروبھی ملکخاصا سےفروغ 11حاصل سالہوگیا پرتھا۔ محیطمزید جنگکسی لڑیمیدان گئیمیں ہوطالبان وہاںکو‎ئی صرفخاص 6پیش سال کے عرصہ کے اندر اندر اتنے بڑے کام کردیئے جائیں اسی کورفت انقلابنہ کہتےکرسکے ہیں۔۔
 
یہی بات امریکہ اور اسکی اقوام متحدہ کو نہیں بھاتی تھی کہ اتنی غریب مملکت جنکے پاس نہ انجنیئرز، نہ یونیورسٹیاں ہوں اور نہ ہی دیگر ترقی یافتہ اقوام کی طرح کی پالیسیاں ہوں انتہائی قلیل عرصہ میں اتنی بڑی کامیابیاں حاصل کرلینا معجزے کم نہ تھا۔
 
انسان کو انسان کے ساتھ ہمدردی سکھانا، ایک عورت کو وہ مقام دینا کہ جہاں سے گزر رہی ہو تو مرد نظریں جھکالے، ایسا نظام متعارف کروانا کہ عورت چار دیواری سے باہر بھی محفوظ ہو اور اسکے برعکس تعقی یافتہ ممالک میں عورت کی عصمت دری گھریلو چار دیواری میں ہو گھر سے باہر تو کجا۔
 
=== امریکی و اتحادی دور ===
22 فروری 2005ء کو اقوام متحدہ افغانستان کی تازہ صورت حال کے حوالے سے ایک رپورٹ جاری کی۔اس رپورٹ میں کہا گیا کہ:
 
طالبان حکومت کو گرائے جانے تین سال بعد بھی افغانستان ایک غریب ملک ہے جو عالمی امن کیلئے خطرہ بن سکتا ہے تین سال بعد بھی ملک میں بے روز گاری، صحت اور تعلیم کے مسائل موجود ہیں۔ دنیا میں افغانستان سے ذیادہ غریب صرف تین امریکی ملک ہیں۔ افغانستان انسانی ترقی کے چارٹ پر دنیا کے ایک سو انہتر ملکوں میں سے ایک سو تہترویں نمبر پر ہے۔رپورٹ کے مطابق افغانستان میں ہر پانچواں بچہ پانچ سال کی عمر سے پہلے ہی فوت ہوجاتا ہے اور عام زندہ رہنے اوسط شرح چوالیس سال ہے۔ افغانستان میں بد امنی اور غربت سے سب سے ذیادہ متاثر عورتیں ہوئی ہیں اور ہر آدھے گھنٹے میں ایک افغانی عورت زچگی کی پیچیدگیوں کا نشانہ بن جاتی ہے۔ افغانستان میں دنیا کا بدترین تعلیمی نظام ہے اور ملک میں بالغ شرح تعلیم صرف اٹھائیس اعشاریہ سات فیصد ہے۔ منشیات کا کاروبار بھی آج بھی افغانستان کی معیشت کا اہم ستون ہے اور وہ آج دنیا کو منشیات مہیا کرنے ولے ملکوں کی فہرست میں سب سے اوپر ہے۔ طالبان کو حکلومت سے نکالے جانے کے باوجود جسمانی تشدد آج بھی جاری ہے۔ اگر افغانستان کے حالات نہ بدلے تو وہ پھر ایک غیر محفوظ سلطنت بن جائے گی جہاں نہ صرف اسکے اپنے شہری غیر محفوظ ہونگے بلکہ وہ دنیا کیلئے بھی خطرہ بن جائے گا۔
 
== نصیر اللہ خان بابر اور طالبان ==
==سرد جنگ کے بعد امریکہ کا کردار ==
سویت افواج کی شرمناک شکست کے بعد سویت یونین اپنی آخری سانسیں لے رہا تھا جس کے باعث افغانستان میں امریکاامریکی کیدلچسپی نظرختم ابہوچکی یہاںتھی۔ مرضیامریکا کیجو حکومتافغان تکیلجہادی دیناتنظیموں تھاسے یہہاٹ کاملائن ایرانیپر حمایترابطے میں رہا کرتا تھا یافتہیکلخت بخوبیان سرسب انجاممعاملات دےسے رہےالگ تھے۔ہوگیا۔ امریکا کی نظر خلیج کے تیل پر تھی اس لیئےلۓ وہ عراق کو کویت پر حملے کے لیئےلۓ اکسانے کی سازشوں میں مصروف ہوگیا تاکہ اس بہانے خلیج میں امریکی افواج کے قدم جمائے جاسکیں۔
 
== نسل کشی کا الزام ==
 
طالبان نے 1998ء میں ہرات پر قبضہ کے بعد مزار شریف کوپر فتحقبضہ کیا تو ایراناس وشہر امریکا اور اسکی اقوام متحدہ کی جانب سےمیں قتل عام کا الزام لگایا گیا۔اس تیار کردہ الزام کے مطابقکیا۔ ان کا طریقہ یہ تھا کہ ٹرکوں اور گاڑیوں میں عام سڑکوں اور گلیوں میں جاتے اور دائیں بائیں فائرنگ کرتے تھے۔<ref>طالبان از راشک، 2000، صفحہ 73 </ref>۔<ref>افغانستان کی غیر فانی جنگ از گڈسن، 2001 صفحہ 79</ref> اس طریقہ سے انہوں نے 8000 لوگوں کا قتل عام کیا۔ یہی طریقہ انہوں نے بامیان پر قبضہ کے بعد اختیار کیا <ref>افغانستان کی غیر فانی جنگ از گڈسن، 2001 صفحہ 79</ref> واضح رہے کہ طالبان سے قبل بامیان پر ایران نواز شیعہ ملیشیاء [[حزب وحدت]] کا قبضہ تھا۔
 
== خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک ==
کچھ حلقوں کے مطابق طالبان خواتین کے ساتھ غیر انسانی سلوک کے لیے جانے جاتے ہیں.مگر اس قسم کر الزامات کی بہترین نفع [[یووون رڈلے]] نامی برطانوی خاتون صحافی نے کی.جنہوں نے تقریبا ایک سال کا عرصہ طالبان کی قید میں گزارا اور ان کے حسن سلوک سے متاثر ہوکر ناصرف اسلام قبول کیا بلکہ طالبان کا ہر فورم پر دفاع بھی گیا.یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ان کے اصولوں کا تعلق اسلام سے زیادہ پشتون ولی قوانین کے ساتھ ہے.لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ طالبان نہ صرف خواتین کی مردوں کے ساتھ مخلوط تعلیم کے سخت خلاف ہیں بلکہ خواتین کو بلاضرورت گھر سے باہر بھی نہیں نکلنے دیتے۔ایسا کرنے سےدیتے. خواتین کی عصمت دری کے واقعات کا نہ ہونا صرف طالبان کو ہیغیر کریڈٹاسلامی دیتاطریقہ ہےسے باقی دنیا میں کوئیسزائیں بھی ملک ایسا نہیں جہاں حقوق نسواں کی تنظیمیں سالانہ اربوں دالر کھا جائیں،پولیسدینے کے محکمےقائل پرہیں بےمثلاً انتہابھرے اخراجات،بازار عصمتمیں دری کے واقعاتخواتین کو کنٹروللکڑی کرنےکی کیلئےچھڑیوں بڑیکے بڑیساتھ تنظیموںپیٹنے کی موجودگیروایت میںانہوں لاکھوںنے عصمتقائم دریکی.<ref> کے[http://www.state.gov/g/drl/rls/6185.htm واقعاتطالبان رونماکی ہوجائیں اسکے برعکس ٹوٹا پھوٹا افغانستان جہاںخواتین کے نظامخلاف میںجنگ ایکانسانی انگریزحقوق غیرو مسلممحنت عورت آکر اسلام کیوں نہ قبول کر جائے۔ اس ذیادہ اچھی مثال کوئی ملک نہیں پی کرکی سکتارپورٹ۔ کہ2001ء] 6</ref> سالان کے مختصر عرصہدور میں اچھی رپورٹ وہ بھی غریب نہتے نگ دھڑنگ لوگوں سے متوقع ہو سکتی ہے تو وہ صرف طالبانخواتین کے ذریعےمدرسے لیابند نافذ یا گیا اسلامی شرعی نطام ہی ہے۔ تب ہی افغان حکام ، نیٹو و امریکا طالبان کی جانب ہاتھکر بڑھارہےدیے ہیں۔گئے۔
 
== خارجہ پالیسی ==
طالبان حکومت کو صرف تین ممالک پاکستان، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب نے تسلیم کیا تھا لہذا ان کی خارجہ پالیسی کی کوئی خاص سمت متعین نہیں تھی ۔ افغانستان کے شیعہ اکثریتی علاقوں میں ایرانی مدا‏خلت کے باعث ایران سے طالبان کے تعلقات کبھی خوشگوار نہ رہے ایک موقع پر تو دونوں ممالک جنگ کے دہانے پر پہنچ گئے تھے تاہم دوسرے اسلامی ممالک کی مداخلت کےسے باعث یہ جنگ بمشکل روکی جاسکی۔ پڑوسی ممالک میں صرف پاکستان ہی سے ان کے بہترین تعلقات تھے۔ اسامہ بن لادن نے جب سرزمین عرب پر امریکی افواج کی موجودگی کے خلاف آواز بلند کی تو طالبان کے سعودی عرب سے بھی اختلافات پیدا ہوچلے تھے۔ اسوقت طالبان کے پاس حکومت تو تھی لیکن آج وہ بھی نہیں اسکے باوجود امریکہ مذاکرات کیلئے ہاتھ بڑھارہا ہے آخر کوئی تو وجہ ہے ہی۔
 
== دور حکومت کا خاتمہ ==
ستمبر2001 ایک میں امریکا شہروں نیویارک میں واقع ورلڈ ٹریڈ سینٹر اور امریکی محکمہ دفاع کے صدر دفتر المعروف [[پینٹا گون|پینٹاگون]] پر حملے کئے گئے جن کا ذمہزم دار [[القا‏عدہ]] کو ٹحہرایاقرار دیا گیا۔ القاعدہ کے میزبان ہونے کے ناطے طالبان کو اکتوبر2001ءاکتوبر2001 میں امریکی جارحیت کا سامنا کرنا پڑا اور امن کا گہوارہ بنائے جانے والے ملک افغانستان پر دیکھتے ہی دیکھتے 56 ممالک امریکہ و اقوام متحدہ سربراہی میں چڑھ دوڑے۔ ببانگ دہل امن کا نعرہ لگانے والے افغانستان کو کیا امن دیتے خود بے امنی کا شکار ہیں۔آج افغانستان صرف اور صرف انہیان کی لیا ہوا بے امنیحکومت کا شکار ملک ہے۔ لوگ اپنے مسائل کے حل کیلئے آج طالبان سے کیوں رجوع کرتےخاتمہ ہیں۔ہوگیا۔
 
== میدان جنگ میں ==
طالبان کا سب سے موثر طریقہ جنگ گوریلا جنگ ہے جو صدیوں سے افغانستان میں بیرونی مداخلت کاروں کے خلاف کامیابی سے استعمال کیا جاتا رہا ہے ماضی میں برطانیہ، روس اور آج کل [[ریاستہائے متحدہ امریکہ|امریکا]] کو اسی مزاحمت کا سامنا ہے ۔[[افغانستان]]۔افغانستان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ بیرونی مداخلت کاروں کے خلاف مزاحمت میں صرف افغان قوم ہی نہیں بلکہ اس ملک کا جغرافیہ بھی شامل ہوجاتا ہے۔ افغانستان کا بیشتر حصہ سخت گزار پہاڑی سلسلوں پر محیط ہے جہاں جدید ترین اسلحہ سے لیس تربیت یافتہ افواج بھی بے بس نظر آتی ہیں۔ خودکش حملوں کو طالبان کا سب سے موثر ہتھیار مانا جاتا ہے ان کو اس وقت افغانستان میں موجود اتحادی افواج کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے اس کے علاوہ سڑک کے کناروں پر نصب باروی سرنگیں اور ریمورٹ کنٹرول بم بھی طالبان کی جنگی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ بنیادی طور پر طالبان گوریلا جنگجو ہونے کی وجہ سے چھوٹے ہھتیاروں پر زیادہ انحصار کرتے ہیں۔ دوسری جانب ایسی بھی اطلاعات ہیں کہ طالبان جدید ٹیکنالوجی بھی استعمال کر رہے ہیں جو نیٹو و امریکی افوج سے کھینچ کر انہی کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے اسے عرف عام میں جدید ٹیکنالوجی کہتے ہیں۔ <ref> [ طالبان اور جدید ٹیکنالوجی http://www.ummatpublication.com/2009/06/23/lead14.html] </ref> ۔
 
== 2009ء2009 ==
افعانستان میں امریکی فوجی سربراہ جنرل [[میک کرسٹل]] کا کہنا ہے کہ طالبان کی پوزیشن دن بہ دن مضبوط ہوتی جارہی ہے اگر امریکا نے 45000 مزید فوج افغانستان روانہ نا کی تو خدشہ ہے کہ ایک سال کے اندر اندر اتحادی افواج کو شکست کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
ستمبر 2009 میں ہی اتحادی فوج کے ایک کانوا‌ئے پر طالبان کے ایک حملے میں [[اطالیہ|اٹلی]] کے 6 فوجیوں کے ہلاک <ref> [http://www.ummatpublication.com/2009/09/18/lead3.html] </ref> ہوجانے پر اٹلی کے وزیر اعظم نے اتحادی ممالک پر زور دیا ہے کہ ان کی بہتری اسی میں ہے کہ وہ جلد از جلد اپنی افوا ج افغانستان سے نکال لیں <ref> [اٹلی کے قدم لڑکھڑا گئے http://www.ummatpublication.com/2009/09/19/lead23.html] </ref> ۔
 
== 2010ء2010 ==
افغانستان میں موجود قابض امریکی افواج کے کمانڈر جنرل میک کرسٹل نے کے مطابق طالبان سے امن بات چیت کی جانی چاہیے. انہوں نے مزید کہا کہ آنے والے ماہ و سال میں طالبان افغانستان کو اتحادیوںآگ کا جہنمگولا بنا دیںبنادیں گے۔ انہوں نے اصرار کیا کہ افغانستان میں جنگ کا خاتمہخاتم صرف طالبان سے مذاکرات کے زریعے ہی ممکن ہے۔<ref>http://www.ummatpublication.com/2010/01/26/story10.html</ref>
 
[[واشنگٹن پوسٹ]] کے ایک اداریئے کے مطابق امریکی افواج نے پاکستانی سرحد سے ملحقہ صوبے [[کنڑ]] میں واقع وادی کورنگل طالبان سے مزاکرات کے بعد خالی کرکے پسپائی اختیار کرلی ہے اور اپنے اس اڈے کو تباہ کئے بنا اس میں موجود مشینری ، کرینیں، جنریٹرز، اور 6 ہزار گیلن پیڑول کا زخیرہ بھی چھوڑ گئے ہیں اسی کو طالبان کی جدید ٹیکنا لوجی کہتے ہیں <ref>http://www.ummatpublication.com/2010/04/16/idr1.html</ref>۔ اس سے قبل امریکی فوج کی جانب سے صوبہ [[صوبہ ہلمند|ہلمند]] کے علاقے [[مرجہ]] سے بھی امریکی آپریشن بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانے کے بعد منسوخ کردیا گیا.امریکی کانگریس میں سے یہ سوال بار بار اٹھایا جارہا ہے کہ مسلسل ناکامیوں اور بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانے کے باوجود افغانستان میں امریکی افواج کی موجودگی کا کیا جواز ہے ؟
 
== جنرل میک کرسٹل کی برطرفی ==
عراق میں خانہ جنگی برپا کراکر داد سمیٹنے والے امریکی کمانڈر اسٹینلے میک کرسٹل نے اپنی تعیناتی کے بعد جلد ہی نوشتہ دیوار پڑھ لیا تھا ۔ ان کی جانب سے آئے روز آنے والے بیانات اتحادی صفوں میں شدید مایوسی پھیلارہے تھے. جون میں انہوں نے اوبامہ انتظامیہ کو افغان پالیسی کے حوالے سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا جس پر وائٹ ہاؤس نے برہم ہوکر جنرل موصوف کو افغانستان میں اتحادی کمانڈر کے عہدے سے برطرف کردیا۔جنرل میک کرسٹل کی برطرفی کے چند روز بعد ہی برطانوی آرمی چیف کی جانب سے بھی یہ بیان سامنے آیا کہ افغانستان میں طالبان سے مزاکرات کا یہ بہترین وقت ہے۔ ان بیانات کی روشنی سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ 2002ء سے افعانستان میں آگ وخون کا کھیل کھیلنے والے اتحادیوں کے حوصلے کس حد تک پست ہوچکے ہیں.کردیا۔
جنرل میک کرسٹل کی برطرفی کے چند روز بعد ہی برطانوی آرمی چیف کی جانب سے بھی یہ بیان سامنے آیا کہ افغانستان میں طالبان سے مزاکرات کا یہ بہترین وقت ہے۔ ان بیانات کی روشنی سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ 2002 سے افعانستان میں آگ وخون کا کھیل کھیلنے والے اتحادیوں کے حوصلے کس حد تک پست ہوچکے ہیں.
 
== 2011ء ==
 
== عالم اسلام پر اثرات ==
تحریک طالبان افغانستان کے عالم اسلام پر منفی و مثبت دونوں ہی طرح کے اثرات مرتب ہوئے ۔ عالمی جہادی تحریکوں کا طالبان سے خاصی تقویت ملی جن میں القاعدہ سرفہرست ہے ۔ کشمیر میں سرگرم جہادی تحریکوں کو بھی طالبان کی پشت پناہی حاصل تھی۔ شرعی قوانین کے نفاذ سے جنگ سے تباہ حال ملک میں امن و امان قائم ہوگیا تھا۔ طالبان حکومت کے گورنروں اور وزراء کی نہایت سادہ طرز زندگی ایک روشن مثال تھی جن کو بغیر کسی پروٹوکول کے اکثر سائیکلوں پر گھومتے دیکھا جاسکتا تھا یہ صورتحال خاص کر دیگرپاکستان جیسے ممالک کے حکمرانوں کے لئے ناقابل قبول تھی جن کے وزیراعظم اور صدور کے ہمراہ درجنوں گاڑیاں اور سینکڑوں کی تعداد میں سیکیورٹی اہلکار سفر کرتے ہیں اور جن کے عالیشان محلات کے محض ایک روز کے اخراجات ایک کروڑ تک پہنچ جاتے ہیں۔
 
== افغان جہاد کی اہم شخصیات ==
# [[محمد عمر|امیر المؤمنین ملا محمد عمر مجاہد]]
# [[ملا داد اللہ|ملا داد اللہ شہیدؒ]]
# ملا ضعیف الاسلام
# [[عبداللہ ذاکری|ملاعبداللہ ذاکری شہیدؒ]]
 
20 ویں صدی کی ایک باقا‏عدہ اسلامی حکومت کے قیام عمل میں آنے سے عالم اسلام کے اکثر ممالک میں خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگی تھیں ۔