"تحریک اسلامی طالبان" کے نسخوں کے درمیان فرق

م
حقیقی طالبان
م (دنیا ظالم (تبادلۂ خیال) کی ترامیم واپس ؛ Syedalinaqinaqvi کی گذشتہ تدوین کی جانب۔)
م (حقیقی طالبان)
 
 
[[افغانستان]]  کی سب سے موثر جنگی و سیاسی قوت ہیں ان کو مختصرا [[ طالبان]]  کہا جاتا ہے نسلی اعتبار سے پشتون ہیں اور مسلکی اعتبار سے  [[دیودار العلوم بندیدیوبند|دیوبندی]] اور اہل حدیث کے  مکتبہ فکر سے منسلک ہیںہیں۔
 
 
== پس منظر ==
طالبان دراصل پاکستانی و افغانی مدارس کے وہ طالب علم ہیں جو افغان [[جہاد]] میں  [[روس]]  کے خلاف لڑتے رہے تھے ۔ [[روس|سویت یونین]] کی مداخلت کے بعد ابتدائی دنوں میں اس مزاحمتی تحریک [[ افغان جہاد]]  کو کسی جانب سے کوئی مدد حاصل نہ تھی لیکن جلد ہی پاکستان کو احساس ہوگیا کہ [[ سرخ فوج]]  کی اگلی منزل کونسی ہوگی۔ [[سوویت اتحاد| سویت یونین]]  سے براہ راست جنگ کی استعداد پاکستان تو کیا امریکہ کے بھی پاس نہیں تھی اس لئے [[پاکستان]] نے جنگ کی ابتدائی صورتحال کا تجزیہ کرنے کے بعد [[ سرخ فوج]]  کو افغان گوریلا فورس کے ذریعے الجھانے کا فیصلہ کیا اور اس کے لئے مشرقی پاکستان کے میں بھارتی فوجی جارحیت کے [[مکتی باہنی]] والے تجربے کو مدّنظر رکھا گیا۔کیا۔ اس گوریلہ جنگ کی اصل منصوبہ بندی پاک فوج نے کی تھی اور اس کے افسران ہی نے افغانوں کی قوت مزاحمت کو ایک نا قابل شکست قوت میں تبدیل کردیا تھا۔ کچھ عرصے بعد [[ریاستہائے متحدہ  امریکہ|امریکہ]]  بھی اس جنگ میں بلواسطہ طور پر کود گیا۔طالبانگیا۔مجاہدین نے ان تین فریقوں ( [[ پاکستان]] [[ریاستہائے متحدہ  و امریکہ|امریکہ]] [[افغان مجاہدین]] ) کے زیر سایہ جنگ کی واضح۔ روسی فوجوں رہےکی کہواپسی اسکے وقتبعد تکمجاہدین طالبانمیں مختلفجو جہادیطلباء جہاد کر تنظیموں میں بکھری ہوئےرہے تھے اوراب انہوںوہ نےواپس کوئی باقا‏عدہ تنظیم کی شکل اختیار نہ کی تھی۔ روسی فوجوں کی واپسی کے بعد ان کی اکثریتاپنے اپنے مدارس میں واپس چلی گئیچلے تھی۔گئے۔
 
== قیام ==
روسی فوجوں کی واپسی کے بعد جہادی تنظیموں کی باہمی خانہ جنگی کے باعث 1995ءمیں 1995میںمدارس طالبانکے طلباء ملا محمد عمر مجاہد کی قیادت میں دوبارہ میدان جنگ میں آگئے اور [[افغانستان]]امریکہ کے 90آنے تک افغانستان کے ٪90 فیصد رقبے پرسے اپنیظالموں عملداریکا قائمخاتمہ کرکے [[شریعت]]مکمل طور پر شریعت نافذ کردی۔تاہمکردی انگئی۔تاہم کیاقوام شریعتمتحدہ پراور کئیاسکے حلقوںحواریوں کی طرفجانب سے نافظ کی گئی شریعت پر بے جا تنقید ہوتی رہی۔ اناگر کوتو سباقوام متحدہ کی تنقید بجا ہوتی تو طالبان سے پہلےذیادہ سعودیامن عربقائم اورکرکے بعددکھاتے میںمگر اسامہ56 بنمملک لادنکی افغانستان پر سےاقوام مالیمتحدہ معاونتکے حاصلزیر رہی۔<ref>سایہ یلغار کےاثرات انتہائی منفی ہیں۔ اقوام متحدہ اور نیٹو کے زیر قبضہ افغانستان طالبان ازدور راشد،سے 2000ہزاروں صفحہدرجہ 132۔پسماندہ و 139</ref><ref>بے امن ہے۔اسی لیئے موجودہ انتظامیہ امریکہ سمیت تمام ناٹو طالبان انگریزیسے مذاکرات کرنے کیلئے دوڑ لگا رہی وکیپیڈیا</ref>ہے۔
 
== پاکستان کا ان کی مضبوطی میں کردار ==
جیسا کہ اوپر بیان ہوا کہ روسی فوجوں کی واپسی کے افغانستان میں جہادی تنظیموں کی باہمی خانہ جنگی اور ان کے داخلی انتشار ، بار بار معاہدوں کی عہد شکنی کا ایک افسوسناک دور چل نکلا تھا ۔ حکومت پاکستان جو 10 سالہ جنگ لڑ کر اس بات کی منتظر تھی کہ اب افغانستان میں پہلی بار پاکستان کی حلیف حکومت قائم ہوگی مگر ایران اپنے حامیوں کو لیکر میدان میں آگیا جو شیعہ گورنمنٹ چاہتا تھا۔ ان تنظیموں کی داخلی خانہ جنگی نےمیں ایران کا اہم کردار عبدالرشید کی دوستم کی صورت میں مجاہدین کو بگھتنا پڑا۔ کابل کا جنگی درجہ حرارت وہ ہی رکھا جو روسی جارحیت کے دوران رہا کرتا تھا نتیجتہ حکومت پاکستان انکی سےخواہش نالاںکبھی ہوگئنہ پوری ہوئی ۔ افغانستان میں اپنی حکومت کے قیام کے بعد طالبان پاکستان کے لئے اجنبی اس لئے بھی نہ تھے کہ آئی ایس آئی کے روابط جہادی تنظیموں سے افغان جہاد سے ہی قائم تھے اورجنہیں ایرانی امداد و مذہب کی سپلائی برابر جاری تھی وہ روس دور میں افغانستان کا امن تباہ و برباد کرنے میں برابر کے شریک تھے۔ طالبان بھی ان تنظیموں کا ہی حصہ رہے تھے ۔ پھر طالبان نے افغانستان میں اپنے زیر کنٹرول علاقوں سےمیں نہامن صرفقائم یہکردیا۔ کہایرانی پاکستانسپلائی مخالفیافتہ عبدالرشید عناصردوستم کے بالخصوصقتل بھارتیعام عناصرسے کاتنگ مکملآکر صفایابلآخر کردیاحکومت بلکہپاکستان ڈیورنڈنے لائنامن کوپسند بھی پاکستانلوگوں کے لئےہاتھ مکملمیں محفوظاقتدار کردیاکو ۔اندیکھتے وجوہہی پرانہیں حکومتقبول پاکستانکرلیا۔ نےجنہیں آج طالبان مانا کو افغانستان کا جائز حکمران تسلیم کرلیا۔گیا۔
 
== دور حکومت ==
طالبان کا دور حکومت 1995  1995ء سے 2001  2001ء تک تقریبا 6 سال کے عرصے پر محیط ہے اس دوران ان کا زیادہ تر وقت اپنے حریف ایرانی حمایت [[یافتہ شمالی اتحاد]]  سے جنگ میں گزرا۔ افغانستان کو اگر کوئی چیز  طالبان  نے دی تھی تو وہ انصاف کی بروقت فراہمی اور امن و امان کی مثالی صورتحال تھی۔ ان کے زیر کنٹرول علاقوں میں شاہراوں کو محفوظ بنادیا گیا تھا۔ پوست کی کاشت پر پابندی عائد کردی گئی تھی تمام غیر قانونی ٹیکس اور چنگیاں ختم کردی گئی تھیں جن کے باعث آمدرفت میں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا ساتھایک ہیتباہ ساتھشدہ ‏غیرملک قانونیجہاں تجارتایک کوسپر بھیپارو خاصاملک فروغسے حاصل11 ہوگیاسال تھا۔پر مزیدمحیط کسیجنگ میدانلڑی میںگئی طالبانہو کو‎ئیوہاں خاصصرف پیش6 رفتسال کے عرصہ کے اندر اندر اتنے بڑے کام کردیئے جائیں اسی کو نہانقلاب کرسکےکہتے ۔ہیں۔
 
یہی بات امریکہ اور اسکی اقوام متحدہ کو نہیں بھاتی تھی کہ اتنی غریب مملکت جنکے پاس نہ انجنیئرز، نہ یونیورسٹیاں ہوں اور نہ ہی دیگر ترقی یافتہ اقوام کی طرح کی پالیسیاں ہوں انتہائی قلیل عرصہ میں اتنی بڑی کامیابیاں حاصل کرلینا معجزے کم نہ تھا۔
 
انسان کو انسان کے ساتھ ہمدردی سکھانا، ایک عورت کو وہ مقام دینا کہ جہاں سے گزر رہی ہو تو مرد نظریں جھکالے، ایسا نظام متعارف کروانا کہ عورت چار دیواری سے باہر بھی محفوظ ہو اور اسکے برعکس تعقی یافتہ ممالک میں عورت کی عصمت دری گھریلو چار دیواری میں ہو گھر سے باہر تو کجا۔
 
== امریکی و اتحادی دور ==
22 فروری 2005ء کو اقوام متحدہ افغانستان کی تازہ صورت حال کے حوالے سے ایک رپورٹ جاری کی۔اس رپورٹ میں کہا گیا کہ:
 
طالبان حکومت کو گرائے جانے تین سال بعد بھی افغانستان ایک غریب ملک ہے جو عالمی امن کیلئے خطرہ بن سکتا ہے تین سال بعد بھی ملک میں بے روز گاری، صحت اور تعلیم کے مسائل موجود ہیں۔ دنیا میں افغانستان سے ذیادہ غریب صرف تین امریکی ملک ہیں۔ افغانستان انسانی ترقی کے چارٹ پر دنیا کے ایک سو انہتر ملکوں میں سے ایک سو تہترویں نمبر پر ہے۔رپورٹ کے مطابق افغانستان میں ہر پانچواں بچہ پانچ سال کی عمر سے پہلے ہی فوت ہوجاتا ہے اور عام زندہ رہنے اوسط شرح چوالیس سال ہے۔ افغانستان میں بد امنی اور غربت سے سب سے ذیادہ متاثر عورتیں ہوئی ہیں اور ہر آدھے گھنٹے میں ایک افغانی عورت زچگی کی پیچیدگیوں کا نشانہ بن جاتی ہے۔ افغانستان میں دنیا کا بدترین تعلیمی نظام ہے اور ملک میں بالغ شرح تعلیم صرف اٹھائیس اعشاریہ سات فیصد ہے۔ منشیات کا کاروبار بھی آج بھی افغانستان کی معیشت کا اہم ستون ہے اور وہ آج دنیا کو منشیات مہیا کرنے ولے ملکوں کی فہرست میں سب سے اوپر ہے۔ طالبان کو حکلومت سے نکالے جانے کے باوجود جسمانی تشدد آج بھی جاری ہے۔ اگر افغانستان کے حالات نہ بدلے تو وہ پھر ایک غیر محفوظ سلطنت بن جائے گی جہاں نہ صرف اسکے اپنے شہری غیر محفوظ ہونگے بلکہ وہ دنیا کیلئے بھی خطرہ بن جائے گا۔
 
== نصیر اللہ خان بابر اور طالبان ==
==سرد جنگ کے بعد امریکہ کا کردار ==
سویت افواج کی شرمناک شکست کے بعد سویت یونین اپنی آخری سانسیں لے رہا تھا جس کے باعث افغانستان میں امریکیامریکا دلچسپیکی ختمنظر ہوچکیاب تھی۔یہاں امریکامرضی جوکی افغانحکومت جہادیتکیل تنظیموںدینا سےتھا ہاٹیہ لائنکام پرایرانی رابطے میں رہا کرتا تھاحمایت یکلختیافتہ انبخوبی سبسر معاملاتانجام سےدے الگرہے ہوگیا۔تھے۔ امریکا کی نظر خلیج کے تیل پر تھی اس لۓلیئے وہ عراق کو کویت پر حملے کے لۓلیئے اکسانے کی سازشوں میں مصروف ہوگیا تاکہ اس بہانے خلیج میں امریکی افواج کے قدم جمائے جاسکیں۔
 
== نسل کشی کا الزام ==
 
طالبان نے 1998ء میں ہرات پر قبضہ کے بعد مزار شریف پرکو قبضہفتح کیا تو اسایران شہرو میںامریکا اور اسکی اقوام متحدہ کی جانب سے قتل عام کیا۔کا الزام لگایا گیا۔اس تیار کردہ الزام کے مطابق ان کا طریقہ یہ تھا کہ ٹرکوں اور گاڑیوں میں عام سڑکوں اور گلیوں میں جاتے اور دائیں بائیں فائرنگ کرتے تھے۔<ref>طالبان از راشک، 2000، صفحہ 73 </ref>۔<ref>افغانستان کی غیر فانی جنگ از گڈسن، 2001 صفحہ 79</ref> اس طریقہ سے انہوں نے 8000 لوگوں کا قتل عام کیا۔ یہی طریقہ انہوں نے بامیان پر قبضہ کے بعد اختیار کیا <ref>افغانستان کی غیر فانی جنگ از گڈسن، 2001 صفحہ 79</ref> واضح رہے کہ طالبان سے قبل بامیان پر ایران نواز شیعہ ملیشیاء [[ حزب وحدت]]  کا قبضہ تھا۔
 
== خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک ==
کچھ حلقوں کے مطابق طالبان خواتین کے ساتھ غیر انسانی سلوک کے لیے جانے جاتے ہیں.مگر اس قسم کر الزامات کی بہترین نفع [[ یووون رڈلے]]  نامی برطانوی خاتون صحافی نے کی.جنہوں نے تقریبا ایک سال کا عرصہ طالبان کی قید میں گزارا اور ان کے حسن سلوک سے متاثر ہوکر ناصرف اسلام قبول کیا بلکہ طالبان کا ہر فورم پر دفاع بھی گیا.یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ان کے اصولوں کا تعلق اسلام سے زیادہ پشتون ولی قوانین کے ساتھ ہے.لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ طالبان نہ صرف خواتین کی مردوں کے ساتھ مخلوط تعلیم کے سخت خلاف ہیں بلکہ خواتین کو بلاضرورت گھر سے باہر بھی نہیں نکلنے دیتے.دیتے۔ایسا کرنے سے خواتین کی عصمت دری کے واقعات کا نہ ہونا صرف طالبان کو غیرہی اسلامیکریڈٹ طریقہدیتا سےہے سزائیںباقی دنیا میں کوئی بھی دینےملک ایسا نہیں جہاں حقوق نسواں کی تنظیمیں سالانہ اربوں دالر کھا جائیں،پولیس کے قائلمحکمے ہیںپر مثلاًبے بھرےانتہا بازاراخراجات، میںعصمت خواتیندری کے واقعات کو لکڑیکنٹرول کیکرنے چھڑیوںکیلئے کےبڑی ساتھبڑی پیٹنےتنظیموں کی روایتموجودگی انہوںمیں نےلاکھوں قائمعصمت کی.<ref>دری [http://www.state.gov/g/drl/rls/6185.htmکے طالبانواقعات کیرونما خواتینہوجائیں اسکے برعکس ٹوٹا پھوٹا افغانستان جہاں کے خلافنظام جنگمیں انسانیایک حقوقانگریز وغیر محنتمسلم کیعورت رپورٹ۔آکر 2001ء]اسلام </ref>کیوں اننہ قبول کر جائے۔ اس ذیادہ اچھی مثال کوئی ملک نہیں پی کر سکتا کہ 6 سال کے دورمختصر عرصہ میں خواتیناچھی رپورٹ وہ بھی غریب نہتے نگ دھڑنگ لوگوں سے متوقع ہو سکتی ہے تو وہ صرف طالبان کے مدرسےذریعے بندلیا کرنافذ یا گیا اسلامی شرعی نطام ہی ہے۔ تب ہی افغان حکام ، نیٹو و امریکا طالبان کی جانب ہاتھ دیےبڑھارہے گئے۔ہیں۔
 
== خارجہ پالیسی ==
طالبان حکومت کو صرف تین ممالک پاکستان، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب نے تسلیم کیا تھا لہذا ان کی خارجہ پالیسی کی کوئی خاص سمت متعین نہیں تھی ۔ افغانستان کے شیعہ اکثریتی علاقوں میں ایرانی مدا‏خلت کے باعث ایران سے طالبان کے تعلقات کبھی خوشگوار نہ رہے ایک موقع پر تو دونوں ممالک جنگ کے دہانے پر پہنچ گئے تھے تاہم دوسرے اسلامی ممالک کی مداخلت سےکے باعث یہ جنگ بمشکل روکی جاسکی۔ پڑوسی ممالک میں صرف پاکستان ہی سے ان کے بہترین تعلقات تھے۔ اسامہ بن لادن نے جب سرزمین عرب پر امریکی افواج کی موجودگی کے خلاف آواز بلند کی تو طالبان کے سعودی عرب سے بھی اختلافات پیدا ہوچلے تھے۔ اسوقت طالبان کے پاس حکومت تو تھی لیکن آج وہ بھی نہیں اسکے باوجود امریکہ مذاکرات کیلئے ہاتھ بڑھارہا ہے آخر کوئی تو وجہ ہے ہی۔
 
== دور حکومت کا خاتمہ ==
ستمبر2001 ایک میں امریکا شہروں نیویارک میں واقع ورلڈ ٹریڈ سینٹر اور امریکی محکمہ دفاع کے صدر دفتر المعروف [[پینٹا گون| پینٹاگون]]  پر حملے کئے گئے جن کا زمذمہ دار [[ القا‏عدہ]]  کو قرار دیاٹحہرایا گیا۔ القاعدہ کے میزبان ہونے کے ناطے طالبان کو اکتوبر2001اکتوبر2001ء میں امریکی جارحیت کا سامنا کرنا پڑا اور انامن کا گہوارہ بنائے جانے والے ملک افغانستان پر دیکھتے ہی دیکھتے 56 ممالک امریکہ و اقوام متحدہ سربراہی میں چڑھ دوڑے۔ ببانگ دہل امن کا نعرہ لگانے والے افغانستان کو کیا امن دیتے خود بے امنی کا شکار ہیں۔آج افغانستان صرف اور صرف انہی کی حکومتلیا ہوا بے امنی کا خاتمہشکار ملک ہے۔ لوگ اپنے مسائل کے حل کیلئے آج طالبان سے کیوں رجوع کرتے ہوگیا۔ہیں۔
 
== میدان جنگ میں ==
طالبان کا سب سے موثر طریقہ جنگ گوریلا جنگ ہے جو صدیوں سے افغانستان میں بیرونی مداخلت کاروں کے خلاف کامیابی سے استعمال کیا جاتا رہا ہے ماضی میں برطانیہ، روس اور آج کل  امریکا  کو اسی مزاحمت کا سامنا ہے ۔افغانستان  کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ بیرونی مداخلت کاروں کے خلاف مزاحمت میں صرف افغان قوم ہی نہیں بلکہ اس ملک کا جغرافیہ بھی شامل ہوجاتا ہے۔ افغانستان کا بیشتر حصہ سخت گزار پہاڑی سلسلوں پر محیط ہے جہاں جدید ترین اسلحہ سے لیس تربیت یافتہ افواج بھی بے بس نظر آتی ہیں۔ خودکش حملوں کو طالبان کا سب سے موثر ہتھیار مانا جاتا ہے ان کو اس وقت افغانستان میں موجود اتحادی افواج کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے اس کے علاوہ سڑک کے کناروں پر نصب باروی سرنگیں اور ریمورٹ کنٹرول بم بھی طالبان کی جنگی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ بنیادی طور پر طالبان گوریلا جنگجو ہونے کی وجہ سے چھوٹے ہھتیاروں پر زیادہ انحصار کرتے ہیں۔ دوسری جانب ایسی بھی اطلاعات ہیں کہ طالبان جدید ٹیکنالوجی بھی استعمال کر رہے ہیں۔ہیں <ref>جو [نیٹو طالبانو اورامریکی افوج سے کھینچ کر انہی کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے اسے عرف عام میں جدید ٹیکنالوجی http://www.ummatpublication.com/2009/06/23/lead14.html]کہتے </ref> ۔ہیں۔
 
== 2009 ==
افعانستان میں امریکی فوجی سربراہ جنرل [[ میک کرسٹل]]  کا کہنا ہے کہ طالبان کی پوزیشن دن بہ دن مضبوط ہوتی جارہی ہے اگر امریکا نے 45000 مزید فوج افغانستان روانہ نا کی تو خدشہ ہے کہ ایک سال کے اندر اندر اتحادی افواج کو شکست کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ ستمبر 2009 میں ہی اتحادی فوج کے ایک کانوا‌ئے پر طالبان کے ایک حملے میں اٹلی کے 6 فوجیوں کے ہلاک  ہوجانے پر اٹلی کے وزیر اعظم نے اتحادی ممالک پر زور دیا ہے کہ ان کی بہتری اسی میں ہے کہ وہ جلد از جلد اپنی افوا ج افغانستان سے نکال لیں۔
ستمبر 2009 میں ہی اتحادی فوج کے ایک کانوا‌ئے پر طالبان کے ایک حملے میں [[اطالیہ|اٹلی]] کے 6 فوجیوں کے ہلاک <ref> [http://www.ummatpublication.com/2009/09/18/lead3.html] </ref> ہوجانے پر اٹلی کے وزیر اعظم نے اتحادی ممالک پر زور دیا ہے کہ ان کی بہتری اسی میں ہے کہ وہ جلد از جلد اپنی افوا ج افغانستان سے نکال لیں <ref> [اٹلی کے قدم لڑکھڑا گئے http://www.ummatpublication.com/2009/09/19/lead23.html] </ref> ۔
 
== 2010 ==
افغانستان میں موجود قابض امریکی افواج کے کمانڈر جنرل میک کرسٹل نے کے مطابق طالبان سے امن بات چیت کی جانی چاہیے. انہوں نے مزید کہا کہ آنے والے ماہ و سال میں طالبان افغانستان کو آگاتحادیوں کا گولاجہنم بنادیںبنا دیں گے۔ انہوں نے اصرار کیا کہ افغانستان میں جنگ کا خاتمخاتمہ صرف طالبان سے مذاکرات کے زریعے ہی ممکن ہے۔<refsup>http://www.ummatpublication.com/2010/01/26/story10.html[9]</refsup>
 
[[واشنگٹن پوسٹ]]  کے ایک اداریئے کے مطابق امریکی افواج نے پاکستانی سرحد سے ملحقہ صوبے [[ کنڑ]]  میں واقع وادی کورنگل طالبان سے مزاکرات کے بعد خالی کرکے پسپائی اختیار کرلی ہے اور اپنے اس اڈے کو تباہ کئے بنا اس میں موجود مشینری ، کرینیں، جنریٹرز، اور 6 ہزار گیلن پیڑول کا زخیرہ بھی چھوڑ گئے ہیں اسی کو طالبان کی جدید ٹیکنا لوجی کہتے ہیں <refsup>http://www.ummatpublication.com/2010/04/16/idr1.html[10]</refsup>۔ اس سے قبل امریکی فوج کی جانب صوبہسے [[صوبہ  ہلمند|ہلمند]]  کے علاقے [[ مرجہ]]  سے بھی امریکی آپریشن بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانے کے بعد منسوخ کردیا گیا.امریکی کانگریس میں سے یہ سوال بار بار اٹھایا جارہا ہے کہ مسلسل ناکامیوں اور بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانے کے باوجود افغانستان میں امریکی افواج کی موجودگی کا کیا جواز ہے ؟
 
== جنرل میک کرسٹل کی برطرفی ==
 
== عالم اسلام پر اثرات ==
تحریک طالبان کے عالم اسلام پر منفی و مثبت دونوں ہی طرح کے اثرات مرتب ہوئے ۔ عالمی جہادی تحریکوں کا طالبان سے خاصی تقویت ملی جن میں القاعدہ سرفہرست ہے ۔ کشمیر میں سرگرم جہادی تحریکوں کو بھی طالبان کی پشت پناہی حاصل تھی۔ شرعی قوانین کے نفاذ سے جنگ سے تباہ حال ملک میں امن و امان قائم ہوگیا تھا۔ طالبان حکومت کے گورنروں اور وزراء کی نہایت سادہ طرز زندگی ایک روشن مثال تھی جن کو بغیر کسی پروٹوکول کے اکثر سائیکلوں پر گھومتے دیکھا جاسکتا تھا یہ صورتحال خاص کر پاکستان جیسےدیگر ممالک کے حکمرانوں کے لئے ناقابل قبول تھی جن کے وزیراعظم اور صدور کے ہمراہ درجنوں گاڑیاں اور سینکڑوں کی تعداد میں سیکیورٹی اہلکار سفر کرتے ہیں اور جن کے عالیشان محلات کے محض ایک روز کے اخراجات ایک کروڑ تک پہنچ جاتے ہیں۔
 
 
112

ترامیم