"وجد" کے نسخوں کے درمیان فرق

27 بائٹ کا اضافہ ،  5 سال پہلے
کوئی ترمیمی خلاصہ نہیں
م (نے زمرہ:اصطلاحات تصوف کا اضافہ کیا فوری زمرہ بندی کے ذریعہ)
(ٹیگ: القاب)
== وجد ==
[[وجد]] (Religious ecstasy)[[تصوف]] و [[سلوک]] میں استعمال ہونے والی ایک خاص [[اصطلاح]] ہےیہ ایک کیفیت ہے جو ذکر و [[نعت]] کے وقت طاری ہوتی ہے یہ کیفیت عموما اولیاء کاملین کی محافل اور [[صحبت]] کا خاصہ ہے جسے اللہ کی محبت کی علامت تصور کیا جاتا ہے <br />
=== وجد کے معنی ===
حال، جذبہ، بیخودی ،سرمستی، وہ حالت اور کیفیت جوعشق الٰہی میں دل پر ایسی طاری ہوکہ انسان بیخود ہو جائے۔ حال، عشق اور شیفتگی<ref>فیروز الغات فارسی اردو طبع فیروز سنز </ref><ref>فرہنگ آصفیہ از سید احمد دہلوی</ref>
 
== وجد اور تواجد ==
وجد یہ ہے کہ کیفیت تمہارے دل پر کسی ارادے اور تکلف کے بغیر جاری ہو<ref>رسالہ قشیریہ صفحہ 156 از ابو القاسم عبد الکریم ہوازن قشیری مکتبہ اعلیٰ حضرت لاہور</ref><br /> وجد کو تکلف سے حاصل کرنا تواجد کہلاتا ہے [[تواجد]] اپنے اختیار سے وجد کو لانے کا نام ہے اور ایسے شخص کا وجد کامل نہیں ہوتاکیونکہ اگر یہ کامل ہوتا تو واجد کہلاتا [[متواجد]] نہ کہلاتاجو کسی شے کو بہ تکلف ظاہر کرنے کو کہتے ہیں<ref>رسالہ قشیریہ صفحہ 155 از ابو القاسم عبد الکریم ہوازن قشیری مکتبہ اعلیٰ حضرت لاہور</ref>۔
اگر یہ صرف رسومات کی پابندی کے طور پر کرے تو اس کے متعلق حکم یہ ہے<br />
*رہا معاملہ تواجد کا تو تواجد کےمعنی ہیں از خود وجد والی صورت اختیار کرنا۔تواجد پر علامہ سیوطی کا فتویٰ تواجد پر یوں ہے کہ ذاکر خواہ ذکر کرتے ہوئے کھڑا ہو ہوجائے یہ کھڑا ہونا اختیاری ہو یا غیر اختیاری ہر حال میں جائز ہے ایسے لوگوں پر نہ انکار جائز ہے نہ انہیں منع کرنا جائز ہے<ref>فضیلت الذاکرین فی جواب المنکرین صفحہ 23از مفتی غلام فرید ہزاری ادارہ محمدیہ سیفیہ راوی ریان لاہور</ref>۔
* ایک گروہ اس میں محض رسموں کا پابند بنا ہوا ہےجو ظاہری حرکتوں کی تقلید کرتا ہےباقاعدہ رقص کرتا اور اور ان کے اشاروں کی نقل کرتا ہے یہ حرام محض ہے<ref>کشف المحجوب ازعلی بن عثمان الہجویری 473مطبوعہ مکتبہ زاویہ لاہور</ref><br />
== وجد کی مختلف اقسام ==
* سارےبدن کا حرکت اور اضطراب
* بعض بدن کی حرکت مثلا لطائف کی حرکت اور اقشعراراقشعرار۔
* توجد کی لذت اور وارد کے اثر سے رقص و گردشگردش۔
* منہ سے مختلف الفاظ کا نکلنا مثلا آہ اوہ اف تف ہاہا عا عا لالا اللہ للہ اور ہو ہو وغیرہ بعض الفاظ موضوعی اور بعض مہمل ظاہر ہوتے ہیںہیں۔
* بکا کرنا اور رونا کہ بعض اوقات آواز اور حروف پر مشتمل ہوتے ہیں جسے بکاء مرتفع کہتے ہیں اور بعض اوقات بغیر آوازآنسو بہنے لگتے ہیں ۔
* کپڑے پھاڑنا اور قمت تسعی کے مضمون پر انوار کے غلبہ کی وجہ سے ڈرنا اور چیخناچیخنا۔
* تیز رقص یا حرکت کی وجہ سے اعضاء کا ٹوٹ جانا اوربعض اوقات موت کا خطرہ بلکہ موت واقع ہوجانا جیسا کہ حضرت داؤد علیہ السلام کے صحابہ کرام میں سے سینکڑوں کی تعداد میں لوگ وجد کی وجہ سے مر جاتے تھےتھے۔
* بعض اوقات بلا اختیار ہنسنے کی کیفیت طاری ہونا جیسا کہ تجلیات مالکی میں مولانا عبد المالک کی اقسام میں بیان کیاکیا۔
* بعض اوقات انہی حرکات غیر اختیاریہ اور صیحات مختلفہ کا نماز میں طاری ہونا اور بعظبعض اوقات خارج نماز طاری ہوناہونا۔
* بعض اوقات مغلوب الحال ہو کر بے ہوش ہو جانا۔ وغیر ہ <ref>مخزن طریقت محمد ظفر عباس صفحہ125 محمدیہ سیفیہ پبلیکیشنز لاہور</ref>
== حوالہ جات ==